مغربی کنارے میں 510 مکانات کی اسرائیلی منظوری

100
مغربی کنارہ/ رباط: فلسطینی نوجوان سنگ باری کرکے صہیونی فوج کو جواب دے رہے ہیں‘ چھوٹی تصویر اسرائیل مراکش معاہدے پر دستخط کی ہے

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) قابض صہیونی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر بیت لحم میں غوش عتصیون یہودی کالونی میں یہودی آباد کاروں کے لیے سیکڑوں مکانات کی تعمیر کی منظوری دے دی۔ بیت لحم میں ایک مقامی فلسطینی سماجی کارکن حسن بریجیہ نے بتایا کہ اسرائیلی آباد کاری کونسل نے غرب اردن کے جنوبی شہر بیت لحم میں 510 مکانات کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔ ان میں سے 400 مکانات مجدال عواز کالونی میں اور 110 مکانات جنوبی بیت لحم میں بیت فجار کے مقام پر قائم یہودی کالونی میں تعمیر کیے جائیں گے۔ خیال رہے کہ بیت لحم شہر گزشتہ کچھ عرصے سے قابض صہیونی ریاست کی جانب سے توسیع پسندانہ سازشوں کا ہدف ہے جہاں فلسطینیوں کو مکانات کی تعمیر کی اجازت نہیں، مگر یہودی آباد کاروں کو کھلی چھٹی حاصل ہے۔ دوسری جانب قابض صہیونی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں گھر گھر تلاشی کی کارروائیوں کے دوران کئی فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔ اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کے گھروں میں گھس توڑ پھوڑ ولوٹ مار کی اور فلسطینیوں کو زدو کوب کیا۔ مقبوضہ بیت المقدس میں ابو دیس کے مقام پر اسرائیلی فوج نے 20 سالہ اسامہ سعید ربیع کو حراست میں لیا، جب کہ رام اللہ میں دیر قدیس کے مقام پر تلاشی کے دوران کئی فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا، جن کی شناخت ہشام شوکت ناصر اور محمد احمد ناصر کے نام سے کی گئی۔