دلیپ کمار: کیا ہے اصل بات

306

چند روز قبل محترم طارق غازی کی رہائش گاہ وھٹبی (اونٹاریو، کینیڈا) پر ملاقات کے لیے گیا۔ سید سجاد حیدر، ایڈیٹر سابق آفاق، ٹورانٹو بھی ہمارے ساتھ تھے۔ یہ ملاقات ہماری اور سجاد صاحب کی خواہش پر منعقد ہوئی تھی۔ طارق غازی اعلیٰ علمی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، ددہیال سے بھی اور ننہیال سے بھی، سینئر صحافی ہیں، ایک عرصہ تک سعودی گزٹ، جدہ کے مدیر رہے۔ اس سے قبل بھارت کے کئی اردو اخبارات کی ادارت کر چکے ہیں، متعدد علمی کتابوں کے مصنف ہیں۔ اور اپنے پر دادا، دادا، اور والد کی سوانح عمریوں کی ایڈیٹنگ کی ہے، جو مختلف مصنفین نے لکھی ہے۔ طارق غازی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق طالب علم بھی ہیں۔ سعودی گزٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد کینیڈا میں بس گئے۔ ان کے لیونگ روم میں داخل ہوتے ہی میری نگاہ سب سے پہلے اس مضمون پر پڑی جو ’’دلیپ کمار‘‘ کے عنوان سے ان کے کمپیوٹر کے اسکرین پر نظر آرہا تھا۔ میں نے تعجب سے پوچھا کہ کیا آپ بھی ان کے فین رہے ہیں؟ جواب دیا کہ نہیں، یہ بات نہیں ہے۔ لیکن ان کی وفات (7 جولائی 2021) پر بے اختیار دل چاہا کہ کچھ لکھوں اور انہیں خراج تحسین پیش کروں۔
اس ملاقات کے بعد میں بھی ماضی میں گھومنے لگا۔ دلیپ کمار مجھ سے ایک نسل قبل کے مقبول فلمی ہیرو تھے۔ ان کے عروج کا زمانہ میرے والد کی نوجوانی کا دور تھا۔ والد مرحوم کی زبان سے کبھی بھی دلیپ کمار یا کسی فلم کا نام نہیں سنا۔ لیکن ہم نے اپنے بچپن میں کئی ایسے لوگوں کو دیکھا اور ملا جو دلیپ کمار کے بے انتہا مداح تھے۔ ان کی تصویریں رکھنے، اور ان جیسے بال، اور اسٹائل اختیار کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ دلیپ کمار کی چند فلموں کو چھوڑ کر تمام فلمیں ہٹ تھیں۔ ان میں کئی سُپر ہٹ تھیں۔ وہ فلمیں بار بار سنیما گھروں کے پردہ سیمیں پر دکھائی جاتی تھیں۔ مجھے یونیورسٹی کا ایک طالب علم ملا جس نے مجھے بتایا کہ اس کے شہر کے ایک سنیما گھر میں فلم مغل اعظم (اس میں دلیپ کمار نے شہزادہ سلیم کا کردار ادا کیا ہے)، دوسری بار لگی اور چھ ماہ چلی۔ اور اس نے چھ ماہ تک متواتر روز تینوں شو (میٹنی، ایونننگ اور نائٹ) دیکھی تھیں۔ گویا اس نے پانچ سو سے زیادہ بار یہ فلم دیکھی تھی۔
میں نے بھی دلیپ کمار کی چند فلمیں دیکھی ہیں۔ شاید چار یا پانچ۔ میری نوجوانی کے زمانہ کے بمبئی فلم انڈسٹری کے مقبول ہیروز امیتابھ بچن، راجیش کھنہ، اور دھرمیندر وغیرہ تھے۔ ہائی اسکول کے بعد جب یونیورسٹی میں داخل ہوئے تو ہاسٹل میں پہنچتے ہی دوسرے دن فلم دیکھنے کا پلان بنا۔ ہمارے میزبان سینئر اسٹوڈنٹ کا ’’حکم‘‘ تھا کہ فلم دیکھنے چلنا ہے۔ ان کے ساتھ ہم لوگ کل چار نئے طلبہ تھے۔ فلم ’’شعلے‘‘ تھی۔ اس فلم میں امیتابھ بچن اور دھرمیندر جیسے سُپر ایکٹرز تھے، لیکن نئے نئے امجد خاں جس نے اس فلم میں ڈاکو ’’گبر سنگھ‘‘ کا کردار ادا کیا تھا، اس کے آگے سب بونے لگتے تھے۔ یہ فلم گبر سنگھ کے نام ہی سے مقبول ہوئی۔ اس کے بعد ہم نے بہت ہی کم فلمیں دیکھیں۔
ہائی اسکول کے زمانہ ہی سے مطالعہ کی عادت نے فلم دیکھنے کی لت کو چھوڑوا دیا تھا۔ کتاب کے مقابلے میں فلمیں بہت ہلکی اور غیر معیاری نظر آنے لگی تھیں۔ تین گھنٹے سنیما گھر میں گزارنے کے بجائے اتنے وقت میں ابن صفی کا ایک جاسوسی ناول ختم کرنے میں زیادہ مزہ آنے لگا تھا۔ یونیورسٹی کا زمانہ اور ہاسٹل کی رہائش کے دوران طلبہ کے تکیوں کے نیچے ابن صفی کے ناول کی تلاش رہتی تھی۔ پڑھی ہوئی ناول رکھ کر نہ پڑھی ہوئی ناول اٹھا لی جاتی تھی۔ اس کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں تھی۔
دلیپ کمار کے متعلق باتیں اخبار، رسائل وجرائد میں پڑھ کر اور بعض باتیں سن کر اور اب ویڈیو دیکھ کر معلوم کیں۔ اور ان کے متعلق ہمیشہ اچھا تاثر ابھرا۔ ایک ایسے شخض کا امیج جو اصل میں یوسف خاں پشاوری ہے۔ جو صاف اور شستہ لکھنوی اردو بولتا ہے، الفاظ کی بہترین ادائیگی ہے۔ لہجہ میں شائستگی ہے، گفتگو میں کشش ہے۔ محبت کرنے والا، انسان دوست۔ عزیزوں، دوستوں، اور حاجت مندوں کے ساتھ فیاض۔ سب کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ ہے۔ جسے چاہتا ہے دل سے چاہتا ہے۔ فلم انڈسٹری میں ہونے کے باوجود کوئی جنسی اسکینڈل نہیں ہے۔ صاف ستھری زندگی ہے۔ جس عورت کی طرف بھی بڑھے شادی کی نیت سے بڑھے۔ ان کے زمانہ کی فلمیں بھی عام طور پر صاف ستھری ہوتی تھیں۔ قسمت کے دھنی تھے، جو عورت ملی ان سے عمر میں بہت چھوٹی، اطاعت گزار، محبت کرنے والی اور خوب خدمت کرنے والی۔ مقبول فلم ایکٹریس سائرہ بانو ان سے شادی کے بعد فلم انڈسٹری چھوڑ کر فل ٹائم گھریلو خاتون بن گئیں۔ انہوں نے دلیپ کمار کی ان کے آخر عمر میں ایسی خدمت کی جیسے کوئی ماں اپنے بچے کا کرتی ہے۔
دلیپ کمار کے زمانہ کی فلموں میں کوئی نہ کوئی ایسا پیغام یا کوئی ایسی بات ہوتی تھی جس کو آپ اصلاح کا نام دے سکتے ہیں۔ غالباً فلم مغل اعظم کا ایک ڈائیلاگ تھا کہ دنیا میں ’’دل ( یا محبت) والوں کا ساتھ دینا، دولت والوں کا نہیں‘‘۔ وہ میرے دل و دماغ پر ایسا نقش ہوا کہ وہ کبھی نہیں نکلا۔ کبھی دولت والے پسند نہ آئے، ان سے کبھی نہیں نبھی، ان کے ساتھ ایک قدم بھی آگے نہ چل سکے۔ واضح رہے کی دل (آخرت) والے دولتمند ہو سکتے ہیں لیکن دولت (دنیا) والے، دل والے نہیں ہو سکتے۔ دلیپ کمار کی ایک اور فلم دیوداس میں جب گھر والوں سے ناراض ہو کر دیوداس (دلیپ کمار) اپنے گائوں سے کلکتہ چلا آیا۔ تو ایک دن بعد ہی واپس جانے کا فیصلہ کر لیا، جس گھر میں وہ پیئنگ گیسٹ بنے ہیں، اس میں کئی اور بیچلر بھی تھے۔ واپسی کے وقت دیوداس کچھ رقم نکال کر کسی ایک کے ہاتھ میں دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میری طرف سے ایک دن کا کرایہ ادا کر دینا، اور جو رقم بچے اسے گھر کے تمام ملازمین میں تقسیم کر دینا۔ یہ فیاضی کا سبق تھا۔ اس طرح کہانی نویس ہر مرحلہ پر کوئی نہ کوئی مثبت اخلاق آموز بات رکھ دیتا۔ یہ واعظ کا انداز نہیں تھا۔ یہ کردار کا حصہ تھا جس کو ایک عادت کے طور پر کروایا جاتا تھا۔
دلیپ کمار نے ایک عہد کیا تھا، بہترین پرفارمینس کا عہد۔ دلیپ کمار ہر فلم میں کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ اسٹوری پڑھ کر، اور ڈائریکٹر کا نام دیکھ کر ہی فیصلہ کرتے تھے۔ دولت کی ہوس اور اس کے لیے دوڑ نہیں تھی۔ عام طور پر ان کی فلم ایک سال میں ایک ہی مکمل ہوتی تھی۔ جب تک ایک فلم مکمل نہیں ہو جاتی دوسری سائن نہیں کرتے تھے۔ ہر ڈائیلاگ، اس کی ادائیگی اور اس کے ساتھ ایکٹنگ پر بہت زیادہ محنت کرتے تھے۔ فلم ’’دیدار‘‘ میں ایک اندھے کا کردار ادا کرنا تھا، تو وہ کسی اندھے کا مسلسل تعاقب کرکے اس کی ہر حرکت کا بغور جائزہ لیتے تھے۔ جس کام کی ایکٹنگ کرنے کے لیے کہا جاتا، اس کام کے لیے ماہر فن سے تربیت اور رہنمائی لیتے۔ سخت محنت کرتے۔ وہ اعلیٰ ترین کارکردگی (Perfection) کے قائل تھے۔ ایکٹنگ میں اپنے فن اور ہنر کو کمال تک پہنچانے کے لیے ہر جتن، ہر کوشش کی۔
جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت کم ہی عرصہ میں وہ اس فن کے بادشاہ ہو گئے، ان کی ذات ایک ادارہ بن گئی۔ ابھی تک برصغیر میں ان کے مقابلہ کا کوئی اداکار پیدا نہیں ہوا۔
’’یوسف‘‘ کے نام کے تقدس اور خاندانی عزت کا خیال کرکے انہوں نے فلمی دنیا کے لیے اپنا نام یوسف خاں پسند نہیں کیا۔ بمبئی اسٹوڈیو کی دیویکا رانی نے انہیں ملازمت دیتے ہوئے ’’دلیپ کمار‘‘ نام رکھنے کا مشورہ دیا تھا، اسے بخوشی قبول کر لیا۔ تاہم ذاتی زندگی میں وہ ہمیشہ یوسف خاں ہی رہے۔ عمرہ کے لیے جا رہے ہیں، مولانا لوگ سے پوچھ رہے ہیں کہ ’’کیا میرے گناہ معاف ہو سکتے ہیں‘‘۔ فلاح و بہبود کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ انہیں اپنی رحمت کے سایہ میں لے اور انہیں جنت نصیب ہو۔
اب آتے ہیں اصل بات کی طرف جس کے لیے میں نے یہ کالم لکھا۔ اور یہ بات ہے تقابل کی۔
ہم نے بھی ایک عہد کیا تھا؛ دین کی اشاعت و اقامت کا عہد۔ تحریک اسلامی کے ہر کارکن نے اس کام کے لیے ایک خاص پرفارمنس کا عہد کیا تھا۔ اچھی پرفارمنس کا عہد، بنائے ہوئے اداروں کی حسین کارکردگی کا عہد، نتیجہ خیز کارکردگی کا عہد، مسلسل اور انتھک جدوجہد کا عہد، کبھی شکست قبول نہ کرنے کا عہد، ہمت نہ ہارنے کا عہد، شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنے کا عہد، باطل کے آگے نہ جھکنے کا عہد، ادھوری منزل قبول نہ کرنے کا عہد۔ کیا ہم اپنے عہد میں کامیاب ہوئے؟
ہم نے اپنا جو مقصد متعین کیا تھا اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے اور اس میں کمال حاصل کرنے کے لیے کچھ لوازمات تھے۔ ان میں کچھ کا تعلق علم سے تھا، کچھ کا اخلاق سے، اور کچھ کا فنون سے۔ کیا ہم ان تینوں اسکیل پر کہیں آگے بڑھے، بڑھے تو کتنا آگے بڑھے؟
ہمیں قدیم اسلام (مطلوب) اور جدید جاہلیت (مردود) دونوں کا بہترین علم ہونا چاہیے تھا۔ کتنا حاصل کیا؟
صبر، برداشت، توکل، حوصلہ، مستقل مزاجی، کشادگی قلب، فیاضی، تواضع، احترام، معافی، درگزر، ستر پوشی، ایثار، قربانی، شجاعت، بے خوفی، تقویٰ اور احسان کے جو اخلاقی فضائل درکار ہیں، ان میں سے کس کو کتنا حاصل کیا، کیسی تربیت کی؟ کیسا تذکیہ کیا؟
تحریر و تقریر، زبان و بیان و لسان، اور ابلاغ کے مختلف ذرائع پر کتنی مہارت حاصل کی؟ اپنے اندر کیسی اور کتنی انتظامی اور قائدانہ صلاحیت پیدا کی؟ میں نے جیسے جیسے اس پر سوچنا شروع کیا، افسوس، غم، رنج، صدمہ، تاسف، محرومی، اور حسرت نے گھیرنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد دل کی ایک عجیب کیفیت ہوئی، اور اندر ایک بھونچال سا آگیا۔ سوچتا ہوں: شہرت کا طلب گار ہیرو کیا کچھ کر جاتا ہے، اور آخرت کا دعویدار ہیرو کچھ بھی نہیں کر پاتا۔
ہے ناعجیب بات؟