پاکستان ازبکستان افغان مسئلے پر نئے بلاک کی تشکیل پر متفق

227
تاشقند: وزیراعظم عمران خان ازبکستان پاکستان بزنس فور م کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے ہیں

اسلام آباد/تاشقند(صباح نیوز+آئی این پی) پاکستان اور ازبکستان میں افغانستان کے معاملے پرنیا بلاک تشکیل دینے پر اتفاق ہوا ہے ، نئے بلاک میں ازبکستان، تاجکستان، ایران اور ترکی شامل ہوں گے۔ یہ بلاک افغان مسئلے کے پرامن حل کے لیے کوششیں کرے گا،عمران خان کا کہنا ہے کہ افغان مسئلے کا پرامن اور سیاسی حل ہمسایہ ممالک اور خطے کے لیے ناگزیر ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور ازبک صدر کے درمیان تاشقند میں ون آن ون ملاقات ہوئی اس کے بعد دونوں رہنمائوں کے درمیان وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے مذاکرات میں دوطرفہ تجارت ، معیشت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال ہوا۔ پاکستانی وفد کی قیادت عمران خان جبکہ ازبک وفد کی سربراہی ازبک صدر شوکت مرزایوف نے کی۔ پاکستانی وفد میں وفاقی وزراء شاہ محمود قریشی ، شیخ رشید احمد ، چوہدری فواد ، علی زیادی اور رزاق دائود شامل تھے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون کے فروغ اور علاقائی روابط مستقل بنانے پر غور ہوا۔ تاشقند میں صدارتی محل پہنچنے پر وزیراعظم عمران خان کے اعزاز میں باضابطہ استقبالیہ تقریب ہوئی۔ازبک مسلح دستے نے وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا ۔ دونوں ملکوں کے ترانے بجائے گئے۔ وزیراعظم عمران خان نے ازبک صدر کے ہمراہ گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا ۔ وزیراعظم کو فوجی دستے کی جانب سے سلامی پیش کی گئی۔وزیراعظم عمران خان اور ازبک صدر کے درمیان ون آن ون ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کے مطابق دونوں رہنمائوں نے دو طرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو کی،اس دوران اس بات پر اتفاق ہوا کہ دونوں ممالک کے وزارت خارجہ کے زریعے رابطے رکھے جائیں گے، دونوں رہنمائوں نے انٹر پارلیمانی تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا، انٹر پارلیمانی تعلقات مزید بہتر کرنے کے لیے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا، سیاسی، تجارت، سرمایہ کاری، انرجی میں تعاون اور روابط بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا ، وزیراعظم عمران خان نے نیا پاکستان وژن سے بھی آگاہ کیا، ا قوام متحدہ انسانی حقوق کمیٹی کے ارکان کی حیثیت سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اسلاموفوبیا کے خلاف مشترکہ کوششوں کا عزم کا اظہار کیا گیا۔ جبکہ وزیراعظم نے تاشقند میں بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ازبکستان کو اپنی بندرگاہوں کے ذریعے مشرق وسطیٰ اور افریقا تک رسائی دے سکتے ہیں۔ تجارتی اور دوطرفہ روابط کے فروغ سے خطے میں ترقی اورخوشحالی ہوگی۔ افغانستان میں امن خطے کیلئے اہم ہے ۔ حالت بہتر ہونے سے پاکستان، افغانستان، ازبکستان ریلوے منصوبے کوپایہ تکمیل تک پہنچانے میںمدد ملے گی۔ تاشقند میں پاکستان، ازبکستان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور روحانی تعلقا ت ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی ضروت ہے،جب ہمسایوں کے درمیان تجارت بڑھتی ہے تو لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوجاتاہے۔افغانستان میں امن ہمسایہ ممالک اور خطے کے لیے ضروری ہے،ہم سب توقع رکھتے ہیں کہ افغان مسئلہ کا سیاسی حل نکالا جائے گا انہوں نے کہا کہ میں ازبکستان کی بزنس کمیونٹی اور ازبکستان کے وزیر اعظم کو یقین دہانی کرانا چاہتا ہوں کہ یہ تعلق صرف شروعات ہیں اور مجھے امید ہے کہ یہ تعلق پروان چڑھے گا۔ان کا کہنا تھا دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کی بنیاد یہ ہو گی کہ ہم کتنی تیزی سے ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ٹرانس افغان ریلوے کا منصوبہ پاکستان اور ازبکستان دونوں کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ازبکستان ، پاکستان کی 220ملین آبادی کے ساتھ منسلک ہو سکتا ہے اور اس کے بعد ہماری سی پورٹس کے ذریعے مشرق وسطیٰ اور پوری دنیا کے ساتھ منسلک ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس بات کو یقینی بنائوں گا کہ دونوں ممالک کے درمیان فضائی روابط میں اضافہ ہو اور دونوںملکو ں کے درمیان پروازوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم سب کو توقع ہے کہ افغانستان میں چیزیں بہتر ہوں گی اور ٹرانز پاکستان، افغانستان اور ازبکستان ریلوے منصوبہ شروع ہوگا۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ازبکستان آنے کی وجہ بخارا اور سمرقند کا دورہ کرنا ہے، بطور تاریخ کے طالب علم کے ازبکستان میں رہنے والوں کی اکثریت سے زیادہ مجھے ازبکستان کی تاریخ کے بارے میں علم ہے۔