ڈائنوسار سے بھی قدیم شارک مچھلی کی نسل دریافت

166

قدرت کے عطاکردہ علم کی بہ دولت انسان بے شمار اسرارکائنات سے پردہ اٹھاچکا ہے۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کے سہارے وہ ترقی کے بے شمار زینے طے کرچکا ہے مگر روززانہ ہونے والی دریافتیں اس بات کی مظہر ہیں کہ قدرت کے بے شمار راز ہنوز اس کے منتظر ہیں۔ دنیا کے تین چوتھائی حصے پر پھیلے پانیوں میں انسان بے شمار مخلوقات دریافت کرچکا ہے لیکن نہ جانے کتنی ہی آبی انواع دریافت ہونے کی راہ دیکھ رہی ہیں۔

سائنس دانوں نے حال ہی میں شارک مچھلی کی ایک نئی قسم دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ شارک کی نئی نسل کی مچھلیاں بحر اوقیانوس میں دریافت ہوئی ہیں۔ آبی حیات کے ماہرین ان کے وجود سے کئی عشرے قبل واقف ہوچکے تھے مگر اب تک وہ یہ فیصلہ نہیں کرپائے تھے کہ یہ شارک کی نئی قسم ہے یا نہیں۔ بالآخر برسوں کی تحقیق کے بعد انھوں نے اسے خونخوار مچھلی کی نئی قسم تسلیم کرلیا ہے۔ نودریافت شدہ مچھلی کو ’’ اٹلانٹک کی چھے گلپھڑوں والی شارک‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

تین اداروں کے ماہرین پر مشتمل تحقیقی ٹیم کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق شارک کی اس نسل کے اجداد پچیس کروڑ سال قبل پائے جاتے تھے۔ اس طرح یہ مچھلی کرۂ ارض کے قدیم ترین جان داروں میں سے ہے۔ تحقیقی ٹیم کے مطابق شارک کے مطالعے میں انھیں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیوں کہ اس نسل کی مچھلیاں سمندر کی انتہائی گہرائی میں پائی جاتی ہیں۔ بعض اوقات یہ ہزاروں فٹ کی گہرائی تک چلی جاتی ہیں۔ چناں چہ ان پر تحقیق کوئی آسان کام نہیں تھا۔

چھے گلپھڑوں والی شارک کی زیادہ سے زیادہ لمبائی چھے فٹ تک ہوتی ہے۔ اس طرح یہ بحرہند اور بحرالکاہل میں پائی جانے والی شارک مچھلیوں سے نسبتاً چھوٹی ہوتی ہے۔ ان کے دانت آرے کے دندانوں کی طرح ہیں اور ان کے چھے گلپھڑے ہیں۔ اسی مناسبت سے انھیں ’’ چھے گلپھڑوں والی شارک‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ شارک کی بیشتر نسلوں کے پانچ گلپھڑے ہوتے ہیں۔