سنکیانگ کی کمپنیوں سے متعلق امریکا کا انتباہ

31
واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نیشنل سیکورٹی کمیشن سے خطاب کررہے ہیں

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا نے کاروباری اداروں سے کہا ہے کہ وہ چین کے خطے سنکیانگ کی ان کمپنیوں کے ساتھ کاروبار نہ کریں، جو مبینہ طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے منگل کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ حکومت نے اس خطے کی کمپنیوں سے لین دین کرنے سے متعلق نئی ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین خطے میں نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے اور وہاں جبری مشقت لیے جانے کے مزید ثبوت سامنے آ رہے ہیں۔ بلنکن نے امریکی کمپنیوں پر اس بات کی تصدیق کے لیے زور دیا کہ وہ جو اشیا درآمد کرتے ہیں، وہ جبری مشقت کے تحت تیار نہ کی گئی ہوں اور جو چیزیں اور ٹیکنالوجی وہ فروخت کرتے ہیں، وہ لوگوں کی نقل و حرکت یا رویوں کی نگرانی کے لیے استعمال نہیں کی جا رہی۔ امریکی وزارت خارجہ کاروباری اداروں پر شدید زور دے رہی ہے کہ وہ اس خطے کی ایسی کمپنیوں اور افراد کے ساتھ لین دین نہ کریں جو انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث ہیں، کیوں کہ اس بات کا شدید اندیشہ ہے کہ ایسا کرنے کی صورت میں وہ امریکی قانون کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوں گی۔ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اس معاملے پر چین پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔ انتظامیہ نے پیر کے روز ایک رپورٹ میں کانگریس کو بتایا کہ چین سنکیانگ میں نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جرائم میں قید اور تشدد شامل ہیں۔ اس حوالے سے ترکی اور چین کے صدور میں بھی رابطہ ہوا ہے۔