اسرائیل میں اماراتی سفارتخانے کا افتتاح

91
مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی صدر آئزک ہرتزوگ اور اماراتی سفیر محمد الخاجہ سفارت خانے کا افتتاح کررہے ہیں

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) خلیجی ملک متحدہ عرب امارات نے اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کے بعد بالآخر اپنا سفارت خانہ کھول لیا۔ گزشتہ ماہ اسرائیل نے ابوظبی میں اپنا سفارت خانے اور دبئی میں قونصل خانے کا افتتاح کیا تھا۔ خبررساں اداروں کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں سے عرب ریاستوں بحرین اور متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا فیصلہ کیا تھا۔ سوڈان اور مراکش بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے فیصلے کر چکے ہیں۔ اماراتی حکومت نے تل ابیب میں نئے اسٹاک ایکسچینج کی عمارت میں سفارت خانہ کھولا ہے۔ سفارت خانے کی افتتاحی تقریب میں اسرائیلی صدر آئزک ہرتزوگ بھی شریک ہوئے۔ اسرائیل میں تعینات اماراتی سفیر محمد الخاجہ نے افتتاحی تقریب کے دوران دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے تعلقات میں سنگ میل قرار دیا۔ محمد الخاجہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات ترقی یافتہ ممالک ہیں اوردونوں مل کر تخلیقی کام کے ذریعے خطے کے مستقبل کو مزید خوش حال اور پائیدار بنا سکتے ہیں۔ محمد خاجہ کہنا تھا کہ تعلقات کو معمول پر لانے کے بعد پہلی بار تل ابیب کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے حولاے حوالے سے گفتگو کا آغاز ہو گیا ہے۔ انہوں بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادیات، فضائی سفر، ٹیکنالوجی اور ثقافتوںسے متعلق معاہدوں پر دستخط ہو چکے ہیں۔ اس موقع پر صہیونی صدر نے اسرائیل اور اور امارات میںتاریخی معاہدے کو وسعت دے کر اس میں مزید ممالک کو شامل کرنے عندیہ بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ تل ابیب میں اماراتی جھنڈا لہراتا دیکھ کر بے پناہ مسرت ہوئی اور یہ دیرینہ خواب کی تکمیل ہوگئی ہے۔ یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات اگست 2020 ء میں اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے والا تیسرا عرب ملک تھا۔ اس سے قبل 1979 ء میں مصر اور 1999 ء میں اردن نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ دونوں ممالک میں تعلقات قائم ہونے کے معاہدے پر باقاعدہ دستخط کے 4ماہ بعد اسرائیل کا سفارتی مشن رواں برس جنوری میں متحدہ عرب امارات پہنچا تھا۔ امارات سے سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد بحرین، مراکش اور سوڈان بھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرچکے ہیں۔ اسرائیلی وزیرِ خارجہ یائر لیپید نے گزشتہ ماہ امارات کے دورے کے موقع پر بتایا تھا کہ ستمبر 2020 ء میں تعلقات کی بحالی کے معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد دونوں ممالک میں تجارت کا حجم 67 کروڑ 52 لاکھ ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔