کیموتھراپی کا انتظام

189

کیمو تھراپی کینسر کے علاج کا ایک طریقہ کار ہے ۔ اس میں ٹیومر کے علاج کے لیے ادویات  استعمال کی جاتی ہیں اور ان ادویات کی  کینسر خلیوں کو مارنے کی قابلیت کے لحاظ سے درجہ بندی کی جاتی ہے اور کئی طریقوں سے اس کا انتظام کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر مریض کے علاج کے لئے  پروٹوکولز پر  انتہائی سنجیدگی سےتحقیق کرتے ہیں۔ کیموتھراپی میڈیکل سوسائٹی میں کینسر کے مریضوں کے علاج کا ایک موثر طریقہ بن چکا ہے۔

کیموتھراپی میں تیزی سے بڑھتے ہوئے خلیوں کو متوازن کرنے کے لیے دوائیں استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ دوائیں ایک مرکب کی شکل میں بھی دی جاسکتی ہیں یا مریض کو صرف ایک ہی دوا  بھی دی جاسکتی ہے۔

ہر کینسر کو 1 سے 4 تک گریڈ دیا جاتا ہے۔ بالکل عام خلیوں کی طرح ، ٹیومر کے سیلزبھی پانچ مختلف مراحل میں پائے جاتے ہیں۔ جی 0 ٹیومر کے آرام کا مرحلہ ہے ، جی 1 آر این اے مرحلے کے نام سے جانا جاتا ہے ، جی 2 ، مائٹوٹک اپریٹس اور ضرررساں پروٹین کی تعمیر ہے ، اسٹیج ایس:  ڈی این اے کی ترتیب ہے اور آخر میں ایم اسٹیج:  مائٹوسس مرحلہ ہے جہاں کینسر کا خلیہ اپنی تقسیم شروع کرتا ہے۔

کیموتھراپی کی کچھ دوائیاں  غیر مخصوص ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ  کینسر کے کسی بھی  مرحلے کے دوران کام کرسکتی ہیں جبکہ کچھ مخصوص ہوتی ہیں یعنی کینسر کے مخصوص مرحلے پر کام کریں گی تاہم یہ دونوں قسم کی دوائیاں کینسر خلیوں کی تقسیم اور بڑھنے کی صلاحیت میں مداخلت کرنے کا ہی کردار ادا کرتی ہیں۔

کیموتھراپی کی دوائیں کینسر خلیوں کی تیزی سے تقسیم کرنے کی صلاحیت میں مداخلت کرکے انہیں آخرکار ختم کردیتی ہیں۔ اس سے ٹیومر کو جسم کے مختلف علاقوں میں بڑھنے اور منتقل ہونے سےروکا جاسکتا ہے۔ کیموتھراپی کی دوائیں کینسر خلیوں کے ساتھ ساتھ جسم میں  قدرتی طور پر تیزی سے بڑھنے والے خلیوں  کو بھی نشانہ بناتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کیموتھراپی کے علاج کے دوران بہت سارے لوگوں کے بال جھڑ جاتے ہیں  یا متلی اور الٹی کی شکایت ہوتی ہے  کیونکہ ہاضمہ اور بالوں کے فولکس میں پائے جانے والے خلیات تیز رفتار سے تقسیم ہوتے ہیں۔

ادویات کا انتظام

مریض کو کیموتھراپی کی دوائیں بہت سے طریقوں سےدی جاسکتی ہیں۔ دوائیوں کی اقسام اور صورتحال کی شدت پر انحصار کرتے ہوئے ،ایک مریض IV کے ذریعہ یا تو زبانی طور پر (گولیاں) لیتا  ہے یا پھر باقاعدہ کھا کر۔

کیموتھریپی ادویات کے  پروٹوکولز

کیموتھراپی پچھلے 30 سالوں سے زیرِ مطالعہ ہے۔ ہر دوا کے بارے میں تحقیق اور معلومات جمع کی گئی ہیں اور اس کا بھی جائزہ لیا گیا ہے کہ کونسی دوائی کس قسم کے ٹیومر کیلئے ہے ،پھرکہیں جاکر ان کے پروٹوکول قائم کرنے میں مدد ملی ہے جن کی پیروی کرنا ڈاکٹر اور مریض دونوں کیلئے لازمی ہے۔

جب کوئی ڈاکٹر  ٹیومر کے مریضوں کی دوائیں لکھتا ہے کہ  تو وہ بہت سے عوامل کو دیکھتا ہے۔  مثلاً کینسر کی قسم اور کینسر کس مرحلے میں ہے؟۔ مریض کا  وزن ، ٹیومر کی پوزیشن ، عمر اور دیگر طبی مسائل  وغیرہ۔ مثال کے طور پر ایک ڈاکٹر 60 سالہ بوڑھی عورت  جس کو پیٹ یا ہاضمے کے مسائل ہوں اُسے وہ کینسر کی  دوا نہیں دے گا جس کے ہاضمے کے لحاظ سے مضر اثرات (side effects)زیادہ ہوں۔

کیموتھراپی ادویات کی اقسام

ٹیومر خلیوں کو ختم کرنے کی قابلیت کی بنا پر کیموتھراپی دوائیوں کی کئی مختلف اقسام  ہیں ۔ پہلی قسم  الکائی لیٹنگ ایجنٹس (alkalyting agents) کے نام سے جانا جاتی ہے۔ یہ ادویات کینسر خلیوں کے  ڈی این اے پر حملہ کرتی ہیں۔ یہ ادویات  سیل سائکل کے آرام  مرحلے (0 اسٹیج) میں زیادہ موثر ہوتی ہیں۔

 یہ دماغ کے ٹیومر کے لیے بہت مفید ہیں کیونکہ یہ دماغی رکاوٹ کو عبور کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔

پلانٹ (وینکا) الکلائڈ : کیموتھراپی دوائی کی دوسری قسم ہے۔ یہ ادویات میٹا فیز کے دوران سیل کو تقسیم ہونے سے روکتی ہیں۔ میٹا فیز، خلیے کی تقسیم  کا ایک ایسا مرحلہ ہے جب خلیے کا رنگ دار مادہ chromosome تقسیم ہوکر خلیوں کے دونوں کناروں پر جمع ہوجاتے ہیں۔ یہ دوائیں عام طور پر چھاتی کے کینسر کے علاج کے لئے استعمال ہوتی ہیں ۔