واٹر بورڈ کو ایسٹ انڈیا کمپنی نہیں بننے دیں گے‘ محسن رضا

83

پیپلز لیبر یونین کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے رہنما سید محسن رضا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ واٹر بورڈ کی موجودہ ابتر صورتحال کے اصل ذمہ دار ایم ڈی اور انکی ٹیم کے افسران ہیں۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت واٹر بورڈ میں مالی بحران پیدا کیا جارہا ہے جو ملازمین میں شدید بے چینی کا سبب بن رہا ہے۔ ماضی میں بھی ورلڈ بینک کی ایما پر اسی طرح کی سازش کی گئی تھی جسے پیپلز لیبر یونین کی بھرپور مزاحمت اور سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر ہم واٹر بورڈ کو PSP کے تحت ایسٹ انڈیا کمپنی بننے سے بچانے میں کامیاب ہوئے۔ شعبہ فنانس کے تمام افسران ڈائریکٹر فنانس سمیت ڈویڑنل اکاؤنٹنٹ 2 گریڈ سے 16۔ سترہ صرف پانچ سال کے عرصے میں گریڈ 18 میں پہنچ گئے۔ سسٹم کے نام پر مالی بحران کا سبب بن رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے حکم 89/2011 اور 93/2013 کے احکامات کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ آؤٹ آف ٹرن پروموشن فوری کینسل کئے جائیں۔ ایڈھاک ملازمین کی بحالی کے احکامات فوری جاری کئے جائیں۔ میڈیکل کے شعبے میں فوری اصلاحات کی جائیں۔ میڈیکل کے بجٹ کو پیرا 58 کے نام پر بوگس فائلوں کی ادائیگی فوراً روکی جائے۔
پیپلز لیبر یونین کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ ڈسٹرکٹ ایسٹ کی جانب سے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں یونین کے ڈسٹرکٹ کے عہدیداروں سمیت پیپلز لیبر یونین کے مرکزی قائدین نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر یونین کے جنرل سیکرٹری سید محسن رضا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ واٹر بورڈ کی موجودہ ابتر صورتحال کے اصل ذمہ دار ایم ڈی واٹر بورڈ ہیں۔ ایک ارب کی ریکوری ماہانہ ہونے کے باوجود ادارے کا ملازم اپنے فنڈ سے محروم ہے جبکہ تین ہزار روپے کے بقایاجات یا تنخواہ کے حصول کے لئے بھی سفارش لازمی کردی گئی ہے ،ایم ڈی واٹر بورڈ کی ناقص حکمت عملی اور سازش کی وجہ سے ادارے کے محنت کش نہ ہی میڈیکل کی سہولت حاصل کر پارہے ہیں اور نہ ہی اپنے فنڈ کئی سالوں سے اور ٹائم بند ہے جبکہ سوپ اور ڈسٹر کے بل پاس ہوکر چیک سیکشن میں موجود ہیں جن کی ادائیگی نہیں کی جارہی ہے،یہ تمام عمل جان بوجھ کر کیا جارہا ہے تاکہ ادارے کو ورلڈ بینک کی ایماء پر پرائیویٹ پبلک پارٹیشن کے تحت آؤٹ سورس کردیا جائے۔ 1997 میں بھی ورلڈ بینک کی ایماء پر اسی طرح کی سازش کی گئی تھی تاہم بھرپور مزاحمت کرکے عدالتی حکم پر اس ادارے کو PSP پرائیویٹ سیکٹر پارٹیسیپیشن کے تحت ایسٹ انڈیا کمپنی بننے سے بچانے میں کامیاب ہوگئے تھے،آج ایک مرتبہ پھر ادارے کو اس ہی انداز میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت دئیے جانے کی سازش میں انتظامیہ مصروف عمل ہے فرق یہ ہے کہ آج اسٹڈی کے نام پر اربوں روپے سے کراچی کے شہریوں کو مقروض کر رہے ہیں۔سید محسن رضا نے وزیر اعلی سندھ اور چیئر مین واٹر بورڈ سید ناصر حسین شاہ سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ سال میں کئے گئے 40 کروڑ کی لاگت سے زیادہ کے کاموں کی تحقیقات کروائی جائیں۔ محسن رضا نے کہا کہ 2002 میں واٹر بورڈ کو ایسٹ انڈیا کمپنی PSP بننے کی شکل میں بننے سے بچایا تھا اب بھی ہم اس ادارے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے نام پر ایسٹ انڈیا کمپنی نہیں بننے دیں گے۔ سید محسن رضا نے مطالبہ کیا کہ کوالیفائڈ ورکرز کو ان کے تعلیمی معیار کے مطابق پروموشن دئیے جائیں ان میں ڈپلومہ ہولڈرز ،بی ٹیک اور BE کئے ہوئے ملازمین چھوٹے گریڈ میں تنخواہیں لے رہے ہیں انہیں فوری ترقی دی جائے ،پروموشن کمیٹی 2012 کی سفارش پر دی گئی ترقیوں کو بحال کیا جائے۔ تمام پروموشن ڈویژن اور سرکل کی سطح پر کئے جائیں۔ گزشتہ دس سالوں سے جو ملازم جس پوسٹ پر کام کررہا ہے مستقل ترقی دی جائے 2300 سے زیادہ ترقیوں سے ختم کردی گئی ہیں جس پر موجودہ CBA خاموش ہے تمام ڈویژنز میں اوور ٹائم جاری کیا جائے۔ میڈیکل کی سہولتوں میں فوری بہتری لائی جائے۔ ایڈہاک ملازمین اور مرحوم ملازمین کے لواحقین کو فوری تقرر نامے دیے جائیں، بورڈ کے احکامات کی روشنی میں ملازمین کو فنڈ کی ادائیگی فوری کی جائے۔ شعبہ فنانس میں خود ساختہ آؤٹ سورس نظام کو فوراً ختم کیا جائے۔ سید محسن رضا نے کہا کہ واٹر بورڈ میں CBA کے جھگڑے کے سبب انتظامیہ بھرپور فائدہ اٹھارہی ہے گزشتہ دنوں 1996 کے ایکٹ کو تبدیل کرنے کی منظوری بورڈ سے حاصل کرلی گئی اور اب ایم ڈی واٹر بورڈ نے اپنے جونیئر افسران سے لاکھوں روپے رشوت وصول کرکے ڈی ایم ڈی ٹیکنیکل سروسز (ای اینڈ ایم) چیف انجینئرز اور سپرٹنڈنٹ انجینئرز کی نئی پوسٹوں کی تخلیق کرنے کی کوشش کررہے ہیں پیپلز لیبر یونین اس امر کی شدید مذمت کرتی ہے اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور چیئر مین واٹر بورڈ سید ناصر حسین شاہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کروڑوں روپے کے بوگس کاموں اور نئی پوسٹوں کی تخلیق سمیت ادارے میں جاری مالی بد عنوانیوں کو کی فوری تحقیقات کروا کے واٹر بورڈ ملازمین کو پریشانیوں سے نجات دلائی جائے۔ سید محسن رضا نے واضح کیا کہ ہمارا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہمارے مسائل حل نہیں ہوجاتے۔ احتجاجی دھرنے سے پیپلز لیبر یونین کے ڈسٹرکٹ اور مرکزی عہدیداروں اشعر شجاع، نسیم میاں چیئرمین واٹر ٹرنک مین ڈویڑن ، ظفر بھائی، ذوالفقار قریشی، حفیظ خان، عاشق سومرو، خورشید مہدی ،عمران احمد، منصور کیانی، اصغر خان اور رب نواز لغاری نے بھی گلشن چورنگی WTM کے احتجاجی دھرنے سے خطاب کیا۔
بینرز پر کیا لکھا تھا
پیپلز لیبر یونین واٹر بورڈ ملازمین کے احتجاجی بینرز پر لکھا تھا۔ افسران کے آئوٹ آف ٹرن پروموشن فوری منسوخ کرو۔ DPC کے قبل سنیارٹی لسٹیں سرکل وائز جاری کی جائیں۔ 2012 (DPC-2)بحال کرو۔ سپریم کورٹ کے احکامات کے خلاف افسران واٹر بورڈ کی ترقیوں کی تحقیقات کروائی جائیں۔ ملازمین کے GP فنڈز کی فوری ادائیگی کی جائے۔ گروپ انشورنس کی مد میں فوری ادائیگی کی جائے۔ ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات فوری ادا کریں۔ محنت کشوں کا اوور ٹائم اور سن کوٹہ بحال کریں۔ بورڈ کی اجازت کے بغیر تخلیق کی گئی گریڈ 18 اور 19 کی پوسٹوں پر کیے گئے پروموشن منسوخ کیے جائیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے 89/2011 اور 93/2013 پر واٹر بورڈ میں عمل کروایا جائے۔