مقبوضہ بیت المقدس کے شہری پانی سے بھی محروم

113
مقبوضہ بیت المقدس: شہری پانی کی بندش کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی حکومت کے مظالم اور تنگ کرنے کے دیگر ہتھکنڈوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق قابض ریاست نے مقبوضہ بیت المقدس کے قصبے کفر عقب میں فلسطینی آبادی کا پانی بند کررکھا ہے، جس کے خلاف ہفتے کے روز مقامی باشندوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ قابض انتظامیہ ان کے علاقے کو پانی کی ترسیل بحال کرے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے وادی اردن کے شمالی علاقے حمصہ الفوقا کے مقام پر قابض اسرائیلی حکام کے ہاتھوں فلسطینیوں کے گھروں اور دیگر املاک کی مسماری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ نیویاک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈوگریک نے کہا کہ فلسطینیوں کی املاک کی مسماری بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ اس طرح کے اقدامات سے جغرافیائی طور پر قابل قبول فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ہونے والی کوششوں کو شدید دھچکا لگے گا۔ ترجمان نے قابض اسرائیلی حکام پر زور دیا کہ وہ فلسطینیوں کی املاک اور گھروں کی مسماری اور غرب اردن میں فلسطینی املاک پر غاصبانہ قبضے کا سلسلہ روکیں۔ ترجمان نے کہا کہ اسرائیلی حکام نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق مرکزاوچا اور دوسری غیر سرکاری تنظیموں کو حمصہ الفوقا کے مقام تک رسائی کی اجازت دینے سے روک رکھا ہے، جس کے نتیجے میں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ متاثرین کو کس نوعیت کی مشکلات درپیش ہیں۔