لانڈھی کاٹیج انڈسٹری کے متاثرین کا نمائشی تابوت کے ساتھ دھرنا

48
لانڈھی کاٹیج انڈسٹری کے متاثرین بلدیہ عظمیٰ کراچی کے دفتر کے باہر نمائشی تابوت کے ساتھ احتجاج کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)آل پاکستان آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کراچی کے صدر اور لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز الاٹیز ایکشن کمیٹی کے چیئرمین محمود حامد نے مطالبہ کیا ہے کہ کے ایم سی لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کی آ باد کاری میں 28 سال کی تاخیر کی
عدالتی تحقیقات کرائی جائے اور ذمے دار افسران کو احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے۔ لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کی زمین کا قبضہ فوری طور پر الاٹیز کے حوالے کیا جائے،الاٹیز 28 سال سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں ‘ کروڑوں روپے وصول کرنے کے باوجود پلاٹ فراہم نہیں کیے گئے‘ بلدیہ عظمیٰ کراچی 28 سال میں تقریباً 14 کروڑ 19 لاکھ روپے سے زائدسود کما کر کھا چکی ہے۔ وہ آج KMC ہیڈ آفس پر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کر رہے تھے۔ مظاہرے سے تحریک انصاف کے رہنما نفیس حیدر،ایوب خان شہاب صدیقی،اقبال یوسف، محمد اشرف،محمد امین، نوشاد احمد اور دیگر نے خطاب کیا۔انہوں نے اعلان کیا اس ظلم کے خلاف اور کاٹیج انڈسٹری کی آباد کاری میں رکاوٹ بننے والے افسران کا بھی گھیراؤ کیا جائے گااگر مسئلہ حل نہ ہوا تو ایم اے جناح روڈ بلاک کردیں گے۔ محمود حامد نے کہا اس سے زیادہ شرمناک بات یہ ہے کہ صوبائی محتسب نے یہ حکم جاری کیا کہ الاٹیز کو پلاٹ فراہم کیے جائیں یا ان کی رقم منافع کے ساتھ واپس کر دی جائے، اس حکم کو بھی ہوا میں اڑا دیا گیا۔انہوں کہاکہ کے ایم سی نے اورنگی اور بلدیہ کاٹیج انڈسٹریز کے الاٹیز کے ساتھ بھی یہی سلوک روا رکھا ہے اب تینوں کاٹیج انڈسٹریز مل کر جدو جہد کریں گی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کاٹیج انڈسٹری کی آبادی کا ارمان لئے بہت سے الاٹیز اس دنیا سے کوچ کر گئے اب ان کی بیوائیں اور بچے اس پلاٹ کے منتظر ہیں۔ اگر کے ایم سی کے عملے نے کاٹیج انڈسٹریز کی زمین سے قبضہ ختم نہیں کرایا تو یہ لوگ توہین عدالت کے بھی مرتکب ہوئے ہیں ان پرالاٹیزکو پریشان اور ہراساں کرنے کے ساتھ توہین عدالت کا بھی مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔دریں اثنا مظاہرے کے بعد بلدیہ عظمیٰ کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد اظہر نے مظاہرین سے مذاکرات کیے، ان کے مطالبات سنے اور اس پر ڈیپارٹمنٹ کی پیش رفت سے آگاہ کیا اور مظاہرین کو یقین دلایا کہ ان کے مسئلہ کو جلد از جلد حل کر دیا جائے گا۔