برطانیہ مسئلہ کشمیر و افغانستان حل کرنے کیلیے کردار ادا کرے،سراج الحق

178
امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق سے منصورہ میں برطانوی ہائی کمیشن کی سیاسی قونصلر آیوناتھامس ملاقات کررہی ہیں

لاہور( نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہاہے کہ برطانوی حکومت کو کشمیر اور افغانستان کے مسائل کے حل کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے ۔ بھارتی حکومت کا کشمیر کی ریاستی حیثیت کا خاتمہ غیر قانونی ہے ۔ مسئلہ افغانستان کا حل افغان عوام کی مرضی اور زمینی حقائق کے مطابق ہوناچاہیے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان میں برطانوی
ہائی کمیشن کی سیاسی قونصلر آئیوناتھامسن ، جو منصورہ میں ان سے ملاقات کی لیے آئی تھیں، سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ملاقات میں برطانوی ہائی کمیشن کے سیاسی مشیر طلال رضا اور جماعت اسلامی کے شعبہ امور خارجہ کے ڈائریکٹر آصف لقمان قاضی بھی موجود تھے ۔ سراج الحق نے کہاکہ افغانستان میں امن کا قیام اولین ترجیح ہوناچاہیے اور دیگر ممالک کو قیام امن کے لیے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے ۔افغانوں کی 2 نسلیں اس جنگ کی نذر ہو گئی ہیں ۔ اب وہاں کے بچوں اور بچیوں کو یہ حق ملنا چاہیے کہ وہ امن کے ماحول میں اسکولوں و کالجوں میں تعلیم حاصل کرسکیں ۔ مسئلہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے سراج الحق نے کہاکہ برطانیہ تاریخی لحاظ سے بھی اس مسئلے سے وابستہ رہاہے ۔ بھارتی حکومت کی جانب سے اقوام متحد ہ کی قراردادوں کو نظر انداز کر کے جبر کے ذریعے ایک ایسا نظام مسلط کرنا جو کشمیریوں کو قبول نہیں ہے، ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے ۔ انہوںنے کہاکہ 5 اگست 2019ء کے بعد سے بھارتی حکومت وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔ سراج الحق نے برطانوی حکومت کی جانب سے کووڈ19 کی ویکسی نیشن ، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں پاکستان کی مدد کرنے پر برطانوی سفارتکار کا شکریہ ادا کیا ۔ اس مو قع پر گفتگو کرتے ہوئے آئیونا تھامسن نے کہاکہ برطانوی حکومت کی کوشش ہے کہ افغانستان میں امن قائم اور خانہ جنگی کا تدارک کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر حال ہی میں برطانوی حکومت کے منسٹر آف اسٹیٹ برائے جنوبی ایشیا طارق احمد نے اپنی تشویش کا اظہار کیاہے ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان میں سیکورٹی کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے اور ہم پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات میں تعلیم ، صحت اور تجارت پر اپنی توجہ مرتکز کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہاکہ تمام ممالک کو مل کر کووڈ 19 وبا کے خاتمے کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے ۔