تالے پر موجود سوراخ کا راز کیا ہے؟

361

کہتے ہیں کوئی بھی چیز بیکار نہیں ہوتی ہر چیز کسی نہ کسی مقصد کے تحت بنائی جاتی ہے لیکن آج کا انسان مصروفیات کے باعث ان چیزوں پرغور نہیں کرپاتا۔

یہاں انہی غیر ضروری نظر آنے والی چیزوں میں سے ایک کے استعمال سے متعلق تحریر پیش کی جارہی ہے۔

انسان ابتدا میں اپنی رہائش اور حفاظت کی طرف سے اتنا زیادہ محتاط نہیں تھا تاہم اپنی اور خود سے وابستہ لوگوں کی حفاظت کا خیال لاشعوری طور پر اس کے ذہن میں موجود تھا۔ آہستہ آہستہ یہ خیال مضبوط ہوتا گیا اور اس طرح ’’تالے‘‘ کا وجود ہوا۔

تالا آج انسان کی اہم ضروریات میں سے ایک ہے۔ لوگ اپنی دکانوں اور چیزوں کی حفاظت کےلیے روزانہ ’’تالے‘‘ کا استعمال کرتے ہیں۔ البتہ ہمیں یقین ہے کہ تالے کو روز استعمال کرنے والے افراد اس پر موجود ننھے سوراخ سے ہرگزواقف نہیں ہوں گے یا اگر ہوں گے تو بہت کم۔

تالے پرموجود یہ چھوٹا سا سوراخ دراصل تالے کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے بنایا جاتا ہے۔ عموماً تالے کو جب بند کیا جاتا ہے تو وہ باہر کی طرف ہوتا ہے بارش ہونے کی وجہ سے پانی تالے کے اندر چلا جاتا ہے اور تالے میں زنگ لگ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اکثر مغربی ممالک میں برف باری کی وجہ سے بھی تالے جم جاتے ہیں اور صحیح کارکردگی نہیں دکھا پاتے۔ لہٰذا یہ سوراخ تالے میں سے پانی کو باہر نکالتا ہے اس کے علاوہ اس سوراخ کے ذریعے تالے کے اندر تیل ڈالاجاتا ہے تاکہ تالا صحیح سے کام کرسکے۔