صدر جووینیل موئزے کے قتل میں ملوث 4 افراد ہلاک، ہیٹی پولیس

180

پورٹ اپرنس: ہیٹی پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز صدر جووینل موئس کو 6 کرائے کےفوجیوں پر مشتمل گینگ نے قتل کیا، جن میں سے 4 کو ہم نے ہلاک اور 2 کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ مزید مشتبہ افراد ابھی بھی موجود ہیں، جن کی شناخت اور قومیت فوری طور پرمعلوم نہیں ہوسکا۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ہیٹی کی پولیس نے فائرنگ کرکے 4 کرائے کےفوجیوں کو ہلاک جبکہ 2 کو گرفتار کرلیا ہے، حملہ آور انگریزی اور ہسپانوی زبان بول رہے تھے اور خود کو امریکی ڈی اے ای (امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی) ایجنٹس ظاہر کر رہے تھے۔

ہیٹی کے حکام کا کہناہے کہ حملہ آوروں کے گینگ میں ہیٹی، کولمبیا، وینزویلا کے باشندے شامل تھے جبکہ پولیس چیف کا کہنا تھا کہ مبینہ قاتلوں نے پولیس کے تین اہلکاروں کویرغمال بنالیا تھا اور  مشتبہ افراد کے ساتھ پولیس فائرنگ کے تبادلے کے بعد انہیں بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

یاد رہے گزشتہ روز 55 سالہ صدر موئس کو ان کی نجی بندرگاہ کے باہر گولی مار دی گئی تھی، قاتلوں نے امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی کے ایجنٹ کا روپ دھار رکھا تھا جبکہ عبوری وزیر اعظم کلاڈ جوزف نے قاتلوں کو ڈھونڈنے کے لئے دو ہفتے کے لئے مارشل لا لگانے کا اعلان کیا تھا جس کے نتیجے میں بندرگاہ سے باہر تمام پروازوں کوروک دیا  اور ملک کی سرحدوں کو سیل کردیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز کرائے کےفوجیوں کےحملےمیں ہلاک ہوئے 55 سالہ صدر کی زخمی اہلیہ اسپتال میں زیر علاج ہیں، صدر کے قتل کےبعد ملک کا کنٹرول عبوری وزیراعظم نے سنبھال لیا ہے۔

دوسری جانب امریکہ میں تعینات ہیٹی کے سفیر نے کہا ہے کہ صدر جووینل موئز کو قتل کرنے والے پیشہ ور قاتل تھے جنہوں نے امریکی ایجنٹس کا روپ دھارا ہوا تھا جبکہ خاتون اول کو میامی ہسپتال منتقل کرنے کے لیے تمام انتظامات کر لیے گئے ہیں۔

سفیر کا کہنا تھا کہ قاتلوں کے ٹھکانے اور ان کے مقاصد کے حوالے تحقیقات کی جارہی ہیں تاہم یہ بھی پتا لگایا جا رہا ہے کہ ان کا کس ملک سے تعلق تھا۔