جبراً اضلاع پر قبضہ نہیں کیا، شہریوں نے خود خوش آمدید کہا، طالبان

199

طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ میڈیا پر جو دکھایا جارہا ہے، حقیقت کیخلاف ہے، مسلح تصادم سے صرف 6 ہفتوں میں 150 اضلاع پر قبضہ کرلینا ممکن نہیں ہے، شہریوں نے اپنی خوشی سے ہمیں قبول کیا۔

ترک نیوز ایجنسی ٹی آر ٹی کو دیے گئے انٹرویو میں سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ غیر ملکی افواج کے انخلاء کی تاریخ 1 مئی تھی اور امریکی صدر جوبائیڈن نے 11 ستمبر کردی، ہم نے معاہدے کیخلاف ورزی کے باوجود افواج پر حملہ نہیں کیا۔

اینکر کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں جو تشدد کی فضا ہے وہ طالبان کی وجہ سے ہے۔ اس پر سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ مسلح تصادم سے صرف 6 ہفتوں میں 150 اضلاع پر کنٹرول حاصل کرلینا ممکن نہیں، وہاں کے شہریوں نے رضاکارانہ طور پر ہمیں قبول کیا ہے۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغان سیکورٹی بھی اب کابل انتظامیہ کے کنٹرول میں نہیں، فوج اور پولیس والے بھی اسلامی نظام اور آزادی کے مجاہدین کی طاقت کو سمجھ چکے ہیں جس کی وجہ سے وہ ہم سے نہیں لڑر ہے بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں طالبان میں شامل ہورہے ہیں۔