مختصر لباس اور ریپ کے واقعات – شبیر ابن عادل

106

وزیراعظم عمران خان کا ایک حالیہ بیان کہ خواتین مختصر کپڑے پہنیں گی تو مردوں پر تو اثر ہوگا، ان دنوں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا اور روایتی میڈیا پر یہ بحث عروج پر ہے۔ اس میں ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ والے بھی سرگرم ہیں، دینی طبقہ اور دانشور بھی۔ حد تو یہ ہوئی کہ وزیراعظم کے ان ریمارکس کو عورت کی آزادی پر قدغن لگانے کے مترادف قرار دیا جارہا ہے۔ میرا مقصد وزیراعظم کے بیان کا دفاع نہیں، بلکہ پاکستان میں خواتین اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ان سے وابستہ دیگر تلخ حقائق کا جائزہ لینا ہے۔

اس امر سے تو سبھی واقف ہیں کہ جنسی خواہش انسان کی جبلّت کا حصہ اور فطرت کے عین مطابق ہے، لیکن ہر مہذب معاشرے نے اسے حدود وقیود میں رکھنے پر توجہ دی ہے۔ کیونکہ اگر اس خواہش کو مکمل آزادی دے دی جائے تو انسان اور حیوان میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔ صدیوں سے اس امر پر بحث چلی آرہی ہے کہ مرد اور عورت کے تعلقات کی نوعیت کیا ہو؟ اور صدیوں کے تجربات کے بعد یہی ثابت ہوا کہ انسانی معاشرے کی اکائی خاندان ہے اور اس کی بقاء دراصل معاشرے کی بقاء کی ضامن ہے۔

مغربی معاشروں کو سیکس فری قرار دیا گیا، عریانی کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ عریاں ساحل، عریاں نائٹ کلب، مساج سینٹرز، سرِعام بوس وکنار، اور اسی طرح کی دوسری قباحتیں عام کی گئیں۔ مرد اور عورت کے تعلقات کو شادی کے بندھن سے آزاد کیا گیا۔ ہم جنس پرستی کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ آزاد شہوت رانی اور اسی طرح کی دوسری چیزوں کو برائی کے بجائے اچھے کاموں میں شمار کیا جانے لگا۔ اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ خاندانی نظام تباہ ہوا، جس کی وجہ سے مغرب میں لوگ تنہائی کا شکار ہوتے چلے گئے۔ ناجائز بچوں کی فراوانی ہوئی اور دوسری بہت سی ایسی خرابیوں نے جنم لیا جن کا آج تک کوئی حل تلاش نہیں کیا جاسکا۔ لیکن وہاں بھی زنا بالجبر یا جنسی زیادتی، سڑکوں اور بازاروں میں سرعام عریاں ہونا، یا زنا کرنا جرم ہی رہا، تاکہ انسان اور حیوان میں فرق رہے۔

اب مشرق خاص طور پر پاکستان کا رخ کرتے ہیں، جسے اسلام کے نام پر قائم کیا گیا اور جہاں اسلام ہی سب سے زیادہ اجنبی ہے۔ یہاں خواتین کے ایک محدود طبقے نے آزادی کے نام پر جنسی آزادی کے مطالبے کیے۔ ان کا حالیہ نعرہ ’’میرا جسم، میری مرضی‘‘ اس کی بھرپور عکاسی کرتا ہے، اور یہی تباہ کن نعرہ معاشرے کی تباہی کا نقطہ آغاز ہے۔ جہاں تک پاکستانی عورت کا تعلق ہے تو وہ اُن معنوں میں تو برسوں سے آزاد ہے، جس کا مطلب دنیا بھر میں لیا جاتا ہے، یعنی وہ مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہے۔ شہروں سے زیادہ دیہات میں عورتیں کاشت کاری اور دیگر کاموں میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔ جبکہ شہروں میں غریب عورتیں اپنے گھروں میں سلائی کڑھائی، اور دوسرے گھروں میں جھاڑو پونچھا، کپڑے دھونے، کھانا پکانے اور اسی طرح کے کام کرکے اپنی زندگی کی گاڑی چلاتی ہیں۔ متوسط طبقے کی خواتین دفاتر، تعلیمی اداروں اور دیگر اداروں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔

دیہات اور چھوٹے شہروں میں عورتیں مکمل لباس بلکہ چادر اوڑھتی ہیں اور وہیں ریپ کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ریپ کے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ اور کس جذبے کے تحت انسان نما وحشی درندے عورتوں اور بچوں سے جنسی زیادتی کرتے ہیں؟ ایک ایسے معاشرے میں جہاں وقت گزرنے کے ساتھ مردوں اور عورتوں کا ناجائز تعلقات قائم کرنا آسان سے آسان تر ہوتا جارہا ہے تو پھر زبردستی کیوں؟ اور بچوں سے جنسی زیادتی…؟ ماہرینِ نفسیات اسے ذہنی مرض قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ یہ واقعات صرف پاکستان یا مشرقی ملکوں ہی تک محدود نہیں بلکہ امریکہ اور یورپ میں بھی ہوتے ہیں، جہاں مکمل جنسی آزادی ہے، لیکن رضامندی کے ساتھ۔ ایک اہم بات یہ کہ ریپ کے واقعات اعشاریہ صفر صفر ایک سے بھی کم ہوتے ہیں، بلکہ اکثر ’’واقعات‘‘ رضامندی سے ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جارہا ہے۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا مختصر کپڑے ریپ کے واقعات میں کوئی کردار ادا کرتے ہیں؟ میرا جواب ہے کہ ہرگز نہیں۔ خواتین مکمل لباس اور حجاب میں ہوں یا بالکل بے لباس، اس کا ریپ کے واقعات سے کوئی تعلق نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ بے حجابی یعنی مختصر لباس، اور مشرقی ملکوں خاص طور پر پاکستان میں جوان عورتوں کا دوپٹوں کو خیرباد کہہ دینا اور پینٹ یا ٹائڈز پہن کر گھروں سے نکلنا… اس طرح سے وہ توجہ کا مرکز ضرور بن جاتی ہیں، جس کی وجہ سے بازاروں، شاپنگ سینٹرز اور تفریح گاہوں میں رنگ ونور کا سیلاب آجاتا ہے، لیکن یہ سیلاب درپردہ اپنے اندر بہت سی اقدار اور تہذیبی روایات کو بہا لے جاتا ہے، اور اس سے بے شرمی کو فروغ ملتا ہے۔ کیونکہ لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ عورتیں نہ صرف یہ کہ دوپٹہ پہننا ترک کردیں بلکہ رفتہ رفتہ ان کا لباس مختصر ہوتا چلا جائے تاکہ وہ اپنی آنکھیں سینک سکیں۔ لیکن یہی چیز وہ اپنی بہنوں، بیٹیوں، بیویوں اور ماؤں کے لیے ناپسند کرتے ہیں۔ اگر زنا کے شوقین کسی فرد سے آپ یہ کہہ دیں کہ کیا وہ یہی آزادی اپنی بہن یا بیٹی کو دینا پسند کرے گا؟ تو وہ آپ کا گلا دبا دے گا۔

دفاتر اور دیگر مقامات پر خواتین کے ساتھ کام کرنا الگ بات ہے، اور ان سے دوستیاں کرنا، ان کے ساتھ ڈنر یا تفریح گاہوں پر جانا اور رات دیر تک گھومنا پھرنا اور دیگر خواہشات پوری کرنا دوسری بات ہے۔ اس طرح کی آزادی کی حد نہیں ہوتی۔ صرف مرد ہی نہیں، خواتین کے اندر بھی’’ فطری جذبہ‘‘ہوتا ہے۔ اگر مہذب طریقے سے یہ جذبہ اور ’’خواہش ‘‘ پوری نہ ہو تو پھر دوسرے راستے کھل جاتے ہیں، اور یہ راستے معاشروں کو برباد کردیتے ہیں۔

اس حوالے سے الیکٹرانک میڈیا نے بہت منفی رول ادا کیا، خاص طور پر پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز پر ہمہ جہتی پروگراموں کے بجائے صرف ڈرامے دکھائے جاتے ہیں۔ ان کی زیادہ تر کہانیاں مرد اور عورت کے ناجائز تعلقات استوار کرنے کے گرد گھومتی ہیں۔ یعنی عورت کا شادی کے بعد بھی اپنے سابق بوائے فرینڈ کے ساتھ چکر… کسی مرد کا اپنے بھائی کی بیوی یعنی بھابھی سے تعلق، اور یہ کوشش کہ وہ بھائی سے طلاق لے کر اس سے شادی کرلے… یا اسی طرح کی واہیات کہانیاں۔ اسی طرح ان میں بہت سی قابلِ اعتراض چیزیں دکھائی جانے لگی ہیں، جنہیں دیکھ کر نوجوان نسل کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔

دوسرے یہ کہ موبائل فون نے تباہی کے راستوں کو کھول دیا ہے، مختلف ایپ کے ذریعے اپنے بوائے فرینڈ کے مطالبے پر بے لباس ہونا، بوائے فرینڈ کا ان مناظر کو ریکارڈ کرنا اور پھر لڑکیوں کو بلیک میل کرنا بھی عام ہوا ہے۔ پھر نہ صرف لڑکوں بلکہ لڑکیوں اور خواتین کا مردوں سے موبائل فون پر ویڈیو کال کے ذریعے بے لباس ہونے کا مطالبہ بہت عام ہوگیا ہے۔ اسی طرح کے بہت سے واقعات ہیں، جن کا تذکرہ ذہنوں کو پراگندہ کرے گا، اور ان سے اجتناب ضروری سمجھتا ہوں۔

مرد اور عورت کے ناجائز تعلقات اور ریپ یا زنا بالجبر کا سلسلہ صدیوں سے جاری ہے، اسے کبھی بھی مکمل طورپر ختم نہیں کیا جاسکا، اور نہ یہ ممکن ہے۔ البتہ اس بے ہودہ عمل کو کم سے کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔ چونکہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، اس لیے دیگر کاموں کی طرح اس معاملے میں بھی اسی سے رہنمائی طلب کرنی چاہیے۔ قرآن وسنت میں اس کا باقاعدہ حل موجود ہے، اور جب بھی مسلمانوں نے اس پر عمل کیا تو پاکیزہ معاشرے وجود میں آئے۔ ان معاشروں میں سائنس دان، اسکالر، دانش ور، ادیب، مصنف، شاعر اور دیگر نابغۂ روزگار ہستیاں پیدا ہوئیں۔ خاص طور پر فاتحین، جنہوں نے مسلم ملکوں کو ناقابلِ تسخیر بنادیا۔

انسانی معاشروں کو گندگی سے پاک کرنے کا اسلامی حل پیش کرو تو ملّا کی پھبتی کس دی جاتی ہے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ قرآن وسنت پر عمل کرنے والے لوگ چاہے مسلم ملکوں میں ہوں یا مغرب کی ’’آزاد‘‘فضاؤں میں… وہ پُرسکون اور پاکیزہ زندگی گزار رہے ہیں۔ نہ تو وہ موبائل کا ناجائز استعمال کرکے اپنے جسموں کی نمائش کرتے ہیں، اور نہ ان کی خواتین غیر مردوں سے دوستیاں کرتی پھرتی ہیں۔ وہ اپنی جنسی خواہشات ’’جائز طریقوں‘‘ سے پوری کرتے ہیں۔ لیکن وہ اپنی اصل توجہ اپنی زندگی کو سنوارنے پر دیتے ہیں، ان کا ہر آنے والا دن گزرے ہوئے دن سے بہتر ہوتا ہے۔ ایسا نہیں کہ وہ فرشتے ہوتے ہیں، بلکہ ’’گناہ‘‘ ان سے بھی سرزد ہوجاتے ہیں، لیکن وہ فوری طور پر اپنے ربّ سے توبہ کرلیتے ہیں۔ ان کی اصل توجہ زندگی سے زیادہ سے زیادہ فوائد سمیٹنے، وقت کے بہترین استعمال، اپنے بچوں کی اصلاح کرنے، اپنی دنیا اور آخرت سنوارنے، دوسروں کی خدمت کرنے اور انہیں خوش رکھنے پر ہوتی ہے۔

صرف اتنا ہی کہہ کر اپنی بات ختم کروں گا کہ چاہے آپ امریکہ میں ہوں یا یورپ میں… ایشیا میں ہوں یا افریقہ میں… اپنے آس پاس ایسے نفوسِ قدسیہ‘‘ یا نیک لوگوں کو تلاش کریں۔ وہ مل جائیں گے، ایسے لوگ دنیا کے ہرکونے میں موجود ہیں، لیکن بہت کم ہیں۔ ان کے ساتھ رہیں اور اپنی زندگی کو بھی کامیاب بنائیں۔ اس سے آپ کو ایسی ابدی خوشی ملے گی، جس کا آپ تصور نہیں کرسکتے۔

(This article was first published in Friday Special)