مسجد اقصیٰ کی دیوار سے متصل کھدائی شروع ،عالمی مذمت نظر انداز

90
مقبوضہ بیت المقدس: صہیونی حکام کی موجودگی میں اوقاف کی زمین پر کھدائی کی جارہی ہے

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) قابض اسرائیلی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس کے وسط میں واقع صوانہ کالونی میں القدس محکمہ اوقاف کی اراضی میں گھس کر کھدائی شروع کردی۔ فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ جس جگہ کھدائی کی گئی ہے وہ الجلاد خاندان کے گھر اور وادی الجوز کے چوک کے قریب ہے۔ الجلاد منزل مسجد اقصیٰ کی مشرقی دیوار سے متصل ہے اور یہ علاقہ بیت المقدس اوقاف کاحصہ سمجھا جاتا ہے۔بیت المقدس کے مقامی شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ صوانہ کالونی میں کھدائیوں کے پیچھے قابض صہیونی حکام کی کوئی بڑی سازش ہوسکتی ہے۔ اس میں مقامی فلسطینی آبادی کو بے دخل کرنے اوریہود کو بسانے کی سازش کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صوانہ میں کھدائیوں سے علاقے پر قبضے کی صہیونی سازش اور یہودی آباد کاروں کو دھاوے کا موقع فراہم کرنے کی کوشش ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیلی بیت کے تاریخی اور اہم مقامات پر قبضہ کرکے اسرائیل میں ضم کرنے کی سازشوں پرعمل پیرا ہے۔ صوانہ کالونی جبل زیتون کے نشیبی مقام پرفلسطینیوں کی واحد آبادی ہے۔دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ جولائی کے پہلے ہفتے کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں فلسطینیوں نے سیکڑوں مقامات پر قابض فوج کے خلاف مزاحمتی کارروائیاں کیں ، جن میں 21 صہیونی زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کی طرف سے مختلف قسم کی مزاحمتی کارروائیوں کی تعداد 748 بتائی جاتی ہے۔ جنوبی نابلس میں بیتا کے مقام پر جبل صبیح پر یہودی آباد کاروں کے قبضے کی کوشش کے دوران فلسطینی شہریوں نے بھرپور رد عمل کا مظاہرہ کیا۔