بیت المقدس ، فلسطینیوں کو 100 فلیٹ خالی کرنے کا حکم

126
مغربی کنارہ: اسرائیلی حکومت کے دباؤ پر خود ہی اپنا زیرتعمیر مکان دوسری بار مسمار کرنے والا فلسطینی متفکر کھڑا ہے‘ صہیونی فوج پانی کی لائنیں اکھاڑ رہی ہے

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی حکام نے مسجد اقصیٰ کے قریب سلوان کے مقام پر رہایش پزیر فلسطینیوں کے 100 فلیٹ خالی کرنے کا حکم جاری کردیا۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق صہیونی بلدیہ کی طرف سے سلوان میں 100 رہایشی فلیٹوں میں مقیم خاندانوں کو نوٹس جاری کیے گئے، جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے یہ گھر غیرقانونی ہیں اور ان کی تعمیر کے لیے حکام سے اجازت نہیں لی گئی۔ عبرانی ٹی وی چینل کے مطابق اسرائیلی بلدیہ نے یہود آبادکاری کے منصوبے ’کنگ پارک ‘کی توسیع کے لیے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کی سازش تیار کی ہے۔ صہیونی بلدیہ کے ڈپٹی میئر اریاکینگ کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو متبادل مقامات پر منتقل ہونے کا حکم دیا گیا ہے، تاہم وہ اپنی زمینیں چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں۔ دوسری جانب دوسری جانب قابض صہیونی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے لیے دیگر ہتھکنڈے بھی استعمال کیے جارہے ہیں۔ منگل کے روز الخلیل کے نواحی قصبے میں قابض فوج نے فلسطینیوں کو پانی فراہم کرنے والے نظام کو تباہ کردیا،جس کے باعث سیکڑوں گھر پانی سے محروم ہوگئے۔ واضح رہے کہ قابض صہیونی فوج فلسطینیوں کے مکان مسمار کرنے کے ساتھ انہیں بنیادی ضروریات سے بھی محروم کررہی ہے، تاکہ وہ اپنے آبائی علاقے یہود آباد کاروں کے لیے چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہوجائیں۔ واضح رہے کہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی آبادی اور فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کی اسرائیلی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ ادھر اسرائیلی انٹیلی جنس کی طرف سے حراست میں لیے گئے انسانی حقوق کارکن کووحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد اس کی حالت غیرہوگئی اور اسے اسے اسپتال منتقل کیا گیا۔ فلسطین میں فری ہیومن رائٹس کمیشن کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ غرب اردن کے جنوبی علاقوں کے ڈائریکٹر اور قانون دان ایڈووکیٹ فرید الاطرش کو گرفتار ی کے بعد جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں اس کی حالت غیرہوگئی اور اسے ’ہداسا‘ اسپتال منتقل کیا گیا۔ بیان میں فرید الاطرش پر تشدد کی سخت مذمت کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ قابض فوج نے فرید الاطرش کو وحشیانہ طریقے سے مشرقی بیت المقدس کی چوکی سے حراست میں لیا گیا۔ انسانی حقوق گروپ نے الاطرش کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلے میں آواز اٹھائیں۔