بھارت : انسانی حقوق کارکن کی زیرحراست موت

106
بھارت: پادری کی زیرحراست ہلاکت پر احتجاجی مظاہرہ کیا جارہا ہے

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں انسدادِ دہشت گردی قانون ’’یو اے پی اے‘‘ کے تحت قید انسانی حقوق کے کارکن فادر اسٹن سوامی کے انتقال پر سماجی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 84 سالہ اسٹن سوامی رعشہ کے مریض تھے اور پیر کے روز ممبئی کے ایک نجی اسپتال میں انتقال کر گئے۔ وہ خرابی صحت کی بنیاد پر ضمانت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اتوار کو ان کی صحت زیادہ خراب ہو گئی تھی، جس کے بعد انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا، لیکن پیر کے روز دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہو گیا۔ اسٹن سوامی کو اشتعال انگیز تقریر اور ملک کے خلاف سازش کے الزامات کے تحت گزشتہ برس گرفتار کیا گیا تھا۔ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) ان کی ضمانت کی مخالفت کر رہی تھی۔ پیر کے روز ممبئی کی ایک عدالت میں ان کی درخواست ضمانت پر سماعت ہو رہی تھی کہ اسی دوران ان کے وکیل نے عدالت کو مطلع کیا کہ فادر اسٹن سوامی انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی صحت کے متواتر بگڑنے کی وجہ سے انہیں ممبئی کے مضافات میں واقع تلوجہ سینٹرل جیل سے ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔دوسری جانب فادر اسٹین سوامی کی موت پر عالمی سطح پر بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی خصوصی نمایندہ میری لالر نے ایک ٹوئٹ کر کے کہا کہ بھارت سے موصول ہونے والی خبر انتہائی ہولنا ک ہے۔ جب کہ یورپی یونین میں انسانی حقوق کے خصوصی نمایندے ایامن گیلمور نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ فادر اسٹین سوامی کی موت نے ہمیں غمزدہ کر دیا ہے۔ وہ قبائلیوں کے حقوق کے علمبردار تھے۔ ان کی حراست میں موت ہوئی ہے۔