افغانستان میں سیاسی تصفیے کیلئے طالبان سے بات کرینگے،وزیراعظم

201
گوادر: وزیراعظم عمران خان سی پیک کے تحت مختلف منصوبوں کا افتتاح کررہے ہیں

گوادر(خبرایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ مل کر افغانستان کے سیاسی تصفیے کی کوشش کر رہے ہیں، طالبان سے بھی بات کریں گے،اس وقت خطے کی صورتحال کافی سنگین ہے، امریکا کو خود سمجھ نہیں آ رہی کہ آئندہ کیا ہوگا،افغانستان میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والا ملک بھارت ہے ،اس نے افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے، اگر عدم استحکام ہوا اور طالبان کا غلبہ ہوا تو بھارتی سرمایہ کاری کا کیا بنے گا،خدشہ ہے کہیں افغانستان کے حالات خراب نہ ہو جائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوادر میں ترقیاتی منصوبوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب ، مقامی عمائدین ،طلبہ اور سرمایہ کاروں سے ملاقات اور بعد ازاں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بدامنی سے متعلق خدشہ ہے، پاکستان کی پوری کوشش ہے افغانستان میں امن ہو، ایران کے صدرسے بھی افغانستان کے معاملے پربات کی ہے، خانہ جنگی ہوئی تو پناہ گزینوں کے مسائل پیدا ہوں گے اور وسطی ایشیائی ممالک سے تجارتی رابطے بھی متاثر ہوجائیں گے۔عمران خان نے کہا کہ جو پاکستان کا سوچے گا وہ بلوچستان کے بارے میں ضرور سوچے گا اور میں بلوچستان کے عسکریت پسندوں سے بات کرنے کا سوچ رہا ہوں کیوں کہ یہاں امن بہت ضروری ہے۔وزیراعظم نے بتایا کہ گوادر کے 2200 ایکڑ کے زونز کو آج کھول دیا ہے، پاکستان عظیم ملک بننے جارہاہے، فاٹا، بلوچستان اور جنوبی پنجاب سمیت جو علاقے پیچھے رہ گئے ان پر توجہ دیں گے، گوادر منصوبے بلوچستان کو ترقی کی نئی راہ پر ڈالیں گے، بلوچستان ترقی کے سفرمیں پیچھے رہ گیا ہے تاہم اب گوادر پاکستان کے ترقی کے سفر میں مرکز بننے جارہا ہے، یہاں انٹرنیشنل ائرپورٹ گوادر کو دنیا سے منسلک کرے گا، اس سے بلوچستان سمیت پورے پاکستان کوفائدہ ہوگا،تمام منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ان کے بقول غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ون ونڈوسسٹم پرجارہے ہیں، گوادر میں ساحلی پٹی کے مچھیروں کے لیے پوراپروگرام بنایاہے، وفاقی حکومت نے بلوچستان کے لیے 730 ارب روپے کا بڑاترقیاتی پیکیج دیا ہے، احساس پروگرام کے ذریعے کالج اور ٹیکنیکل یونیورسٹی بنارہے ہیں، مائیکروفنانس کے تحت غریب گھرانوں کے لیے قرضے فراہم کررہے ہیں، چین کی جانب سے گوادر میں تکنیکی تربیت فراہم کی جارہی ہے، دوران سفر جہاز سے ایک بڑا اچھا ٹیکنیکل تعلیم کا مرکز بھی دیکھا ہے۔عمران خان نے کہا کہ سی پیک کی ترقی میں کافی آگے نکل گئے ہیں لیکن مغربی سرحد پر رابطے نہ ہونے کی وجہ سے عوام کی معاشی ترقی نہیں ہوئی، جس کے نتیجے میں انتشار پسند لوگ بے روزگار نوجوانوں کو، جن کا نظام میں کوئی حصہ نہیں ہوتا، آسانی سے اپنے ساتھ ملا سکتے ہیں، اسی لیے بلوچستان کے عوام کے احساس محرومی کے خاتمے کے لیے ریکارڈ ترقیاتی پیکج دیا۔ وزیراعظم کے الفاظ میں بدقسمتی سے ماضی میں بلوچستان کی ترقی پر کسی نے توجہ نہیں دی عدم توجہی کے باعث سابق فاٹا شمالی علاقے اور بلوچستان ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے، ماضی میں بلوچستان کی ترقی کے بجائے صرف الیکشن جیتنے کی سیاست کی گئی لیکن میری ترجیح الیکشن جیتنا نہیں بلکہ عوامی خدمت ہے ، اپنے دور میں نواز شریف نے لندن کے 24 دورے کیے، 23 نجی دورے تھے لیکن دو بار بھی بلوچستان نہیں آئے، آصف زرداری نے دبئی کے 51 دورے کیے اور شاید ایک بار بھی گوادرنہیں آئے۔