میٹرک امتحانات میں بدترین انتظامی غفلت کئی مراکزپر پرچے پہنچے نہ عملہ،ایس او پیز کی خلاف ورزی

191
کراچی : میٹرک کے طلبہ پرچہ حل کرنے میں مصروف ہیں چھوٹی تصویر میں میٹرک بورڈ کے چیئرمین ایک امتحانی مرکز کا دورہ کررہے ہیں

کراچی (رپورٹ:حماد حسین)ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی میں انتظامی بحران کے باعث نویں اور دسویں سائنس گروپ کے سالانہ امتحانات شروع ہوتے ہی انتظامی نااہلی سامنے آگئی۔ ایک گھنٹے میں کئی کئی بار امتحانی مراکز کو تبدیل کیے جانے کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا۔ کئی اداروںمیں گنجائش سے زیادہ امیدواروں کا امتحانی مراکز بنا دیے گئے۔ کچھ تعلیمی اداروں کو نوازنے کے لیے 100طلبہ کا امتحانی مرکز قائم کردیا گیا۔ امتحانی مراکز کی تبدیلی کے باعث والدین اور طلبہ شدید ذہنی کوفت کا شکار ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابقثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے تحت نویں اور دسویں سائنس گروپ کے سالانہ امتحانات کے آغاز سے ہی بد انتظامی نظر آنے لگی۔امتحانات کے پہلے ہی روز طلبہ اور والدین کو اس وقت شدیدذہنی کوفت اٹھانا پڑی جب والدین اپنے بچوں کو امتحانی مراکز میں پیپر دلوانے پہنچے تو امتحانی مراکز کے دروازے پر ہی اسکول انتظامیہ نے اپنی جان چھڑانے اور طلبہ کی سہولت کے لیے امتحانی مرکز ختم ہونے اور نئی جگہ منتقل ہونے کا نوٹس آویزاں کیا ہوا تھا۔ ذرائع کے مطابق ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے تحت نویں اور دسویں کے سالانہ ہونے والے امتحانا ت کے آغاز سے چند گھنٹوں قبل تک امتحانی مراکز میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں جس کا خمیازہ طلبہ اور والدین کو بھگتنا پڑا۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ شہر میں قائم کچھ تعلیمی اداروں کو نوازنے کے لیے بورڈ کے قواعد و ضوابط کو بھی ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا، کئی اسکولوں میں 100 سے بھی کم طلبہ کا امتحانی مرکز قائم کردیا گیا ہے۔ ذرائع کا مزید کہناتھا کہ لانڈھی لیبر اسکوائر میںقائم اقراء انعم اسکول کو بھی امتحانی مرکز بنایا گیا ہے جبکہ سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر سعید الدین کی جانب سے اسکول کو کبھی بھی امتحانی مرکز نہ بنانے کا کہا گیا تھا۔ النور اسکول سو کوارٹر،اے کے گرامر اسکول ، NIMSاسکول میں بھی گنجائش سے زیادہ طلبہ کا امتحانی مرکز بنایا گیا ہے جس کی بناء پر اسکول کی جانب سے چھت پر شامیانے لگا کر امتحان کا انعقاد کرایا گیا۔ ذرائع کے مطابق قائم مقام ناظم امتحانات کو امتحانات کاکوئی تجربہ نہیں تھا اور بورڈ میں 6 نائب ناظم امتحانات میں سے صرف ایک طارق کریم کو 17سینئر افسران کی حق تلفی کرکے اضافی چارج دیا گیا تھا جبکہ 5نائب ناظم امتحانات کے عہدے تاحال خالی ہیں جبکہ کچھ افسران کو کچھ عرصہ قبل ہی ترقیاں دی گئی ہیں تاہم ان کے تعینات کے احکامات کا اجراء نہ ہوسکا۔دوسری جانب نہم و دہم کے سالانہ امتحانات پہلے ہی دن بد نظمی کا شکار ہو گئے۔ پہلی شفٹ میںطبیعات کا پرچہ وقت سے قبل آؤٹ ہو گیاجبکہ دوپہر کی شفٹ میں ہونے والے معاشیات اور اسلامک اسٹڈیز کے پرچے بھی وقت امتحانی مرکز نہ پہنچ سکے بعض مراکز پر اکنامکس کا پر چہ ساڑھے 6بجے کے بعد لایا گیا جس کے باعث بعض بچے امتحان دیے بغیر گھروں کو واپس لوٹ گئے ، لیاری میں دوپہر کی شفٹ میں پرچہ تاخیر سے پہنچنے پر اسسٹنٹ کمشنر عبدالکریم میمن نے پرچہ ملتوی کرنے کااعلان کردیا۔ قائم مقام ناظم امتحانات کی ہدایت کے باوجود امتحانی مراکز کے سینٹر سپرنٹنڈنٹ اور سی سی اوز نے تاخیر سے شروع کیے گئے پرچے پر طلبہ کواضافی وقت نہ دیاجس کی وجہ سے طلبہ کا مستقبل دائوپر لگ گیا جبکہ بعض امتحانی مراکز میں پونے 2 گھنٹے میں پرچہ واپس لے لیا گیا۔ گورنمنٹ سکینڈری ٹیچرز ایسوسی ایشن مہیسر سندھ نے نا اہلی کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کا عندیہ دیدیا جبکہ آل پرائیویٹ اسکولز منیجمنٹ ایسوسی ایشن سندھ نے وزیر تعلیم سندھ سے میٹرک کے پہلے پرچے میں ہونے والے بے ضابطگیوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ گرینڈ الائنس آف پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز سندھ کے وفد نے چیئرمین بورڈ پروفیسر سید شرف علی شاہ اور سیکرٹری محمد علی شائق سے ملاقات کر کے طلبہ کے ساتھ ہونے والی زیادتی، بے ضابطگیوں اور بدا نتظامی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ علاوہ ازیں وزیر تعلیم سعید غنی کا کہنا تھا کہ کچھ امتحانی مراکز پر پرچے تاخیر سے پہنچنے کی اطلاعات ملی ہیں گو کہ میٹرک اور انٹر بورڈ میری وزارت میں نہیں آتی تاہم معاملات کو دیکھ رہا ہوں،بورڈ چیئرمین اور کنٹرولر امتحانات سے معلومات لی گئی ہیں۔آج بروز منگل کو بروقت امتحانی پرچے مراکز پر پہنچانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی میں امتحانات سے ایک روز قبل تک طلبہ کو ایڈمٹ کا رڈ نہیں ملے تھے اور ہزاروں طلبہ اپنے امتحانی مراکز سے بھی لاعلم رہے ہیں۔ کراچی کے متعدد سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے سربراہان، عملہ اور طلبہ بڑی تعداد میں اتوار کی شام تک اپنے امتحانی مراکز معلوم کرنے کے لیے سرگرداں رہے تھے۔