تیل کی پیداوار و ترسیل پر سعودی عرب اور امارات میں اختلاف

212

حالیہ دنوں میں دو خلیجی ریاستوں کے مابین تیل کی پیداوار اور اس کی ترسیل سے متعلق ایک نئے تنازعے نے جنم لیا ہے۔

العربیہ کے مطابق سعودی وزارت توانائی نے تیل کی پیداوار میں اضافے اور اُس کی ترسیل کو بڑھانے کی اوپیک + ڈیل کی مخالفت کرنے پر عرب امارات کی مذمت کی ہے۔

پٹرولیم ایکسپورٹ کرنے والے ممالک کی تنظیم OPEC اور اس کے اتحادیوں نے رواں سال اگست سے دسمبر تک تیل کی روزانہ پیداوار میں 20 لاکھ بیرل اضافے کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ترسیل کو 2022 کے اختتام تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

معاہدے کا مقصد، کورونا وبا کے تناظر میں مزید خام تیل کیلئے صارفین کے مطالبات کو پورا کرتے ہوئے عالمی سطح پر ضروریات کو پورا کرنا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے شدت سے اس معاہدے کی مخالفت کی ہے۔ امارات کا کہنا ہے کہ تیل کی پیداوار میں اضافہ کیا جانا چاہئے لیکن اُس کی سپلائی میں توسیع ملتوی کی جائے۔

سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبد العزیز بن سلمان نے العربیہ چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ تیل کی ترسیل کوئی دوسرا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پیداوار کے ساتھ ہی جُڑا ہے۔

 انہوں نے کہ مستقبل میں پیشرفت کی صلاحیت کو برقرار رکھنے اور عالمی مارکیٹ کی صورتحال میں توازن رکھنا ضروری ہے۔ اگر پیداوار بڑھتی ہے تو اس کی سپلائی میں بڑھے گی۔