امریکی انخلا، افغانستان کے جنگی حالات اور اثرات

154

11 ستمبر کو امریکا کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد امریکا نے اسامہ بن لادن کی تلاش کےلیے افغانستان پر حملہ کیا اور 20 سال تک افغانستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر قیام کیا۔ امریکی فوج نے کچھ حاصل کیے بغیر بلکہ اپنا ہی تاریخی نقصان اٹھا کر، بدامنی، انتشار، جانی و مالی نقصان دے کر اور شرمناک شکست کا داغ ماتھے پر سجا کر افغانستان سے انخلا شروع کردیا ہے اور رواں سال کے ستمبر تک یعنی 2 ماہ میں امریکی فوجیں افغانستان سے نکل جائیں گی۔
افغانستان میں کچھ ہوا یوں کہ 1979ء میں اس وقت کی عالمی طاقت سوویت یونین نے افغانستان پر چڑھائی کردی اور افغانستان پر حملے کا مقصد صرف افغانستان فتح ہی نہیں کرنا تھا، روس نے پاکستان کو بھی اپنے نشانے پر لیا ہوا تھا، تاہم روس کے مقاصد کو ناکام بناتے ہوئے اسے افغانستان سے نکلنے پر مجبور کردیا گیا۔ سوویت یونین کے جانے کے بعد مستحکم افغانستان کا خواب پورا نہ ہوسکا۔ افغانستان اب تک اندرونی طور پر حالت جنگ میں ہے اور اس جنگ کے اثرات نے اب تک پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ ہر نئے دن کے ساتھ پاکستان کےلیے بھی مشکلات پیدا ہورہی ہیں۔
روس کے جانے کے بعد افغانستان میں افغان طالبان حکومت کے قیام کے بعد کسی حد تک حالات بہتری کی طرف رواں تھے، لیکن 11 ستمبر 2001ء میں جب امریکا میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ ہوا اور اس حملے کی ذمے داری اسامہ بن لادن پر ڈالی گئی تو امریکا اسامہ بن لادن کو ڈھونڈتے ہوئے افغانستان میں داخل ہوگیا۔ اسامہ کی تلاش پر بے گناہ افغانوں کا خون بہایا گیا۔ افغان سرزمین پر تاریخ کی بدترین بم باری کی گئی اور اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑا۔
11 ستمبر 2001ء سے قبل افغانستان، پرامن افغانستان کی طرف گامزن تھا لیکن 11 ستمبر کے واقعے نے ایک بار پھر حالات بدل دیے اور افغانستان کی سرزمین سے اٹھنے والی بدامنی کی لپیٹ نے پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ افغانستان کی جنگ میں امریکا کا اتحادی بننے پر پاکستان کو بم دھماکوں کی صورت میں بڑی قیمت ادا کرنا پڑی۔ جانی و مالی قربانیوں کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کی لہر کو ختم کیا۔ ملک میں امن کے قیام میں پاک فوج، پولیس، پاکستانی شہریوں اور سیاستدانوں نے جانوں کی قربانیاں دیں۔ آج بھی پاکستانی عوام بم دھماکوں کی گونج سے سہمے سہمے سے ہیں۔
افغان جنگ کے پاکستان پر اثرات 1979ء کے روسی حملے کے بعد ہی پڑنا شروع ہوگئے تھے۔ افغانوں کی بڑی تعداد نے پاکستان کا رخ کیا اور اس وقت سے پاکستان آنے والے افغانی پاکستان کے ہی ہوکر رہ گئے۔ افغان مہاجرین کیمپوں تک محدود نہیں رہے، انہوں نے پاکستانی شہری آبادیوں کا رخ کیا، کاروبار شروع کیا۔ افغان مہاجرین کی بڑی تعداد نے پاکستان میں مستقل قیام اختیار کرلیا۔
روس کے افغانستان سے جانے اور پھر امریکا کی افغانستان میں مداخلت کے بعد افغانستان میں بہتری کی کوئی گنجائش نظر نہیں آئی۔ امریکا اسامہ کی تلاش میں افغانستان آیا لیکن 20 سال تک رہنے کے بعد کچھ حاصل کیے بغیر رخصت ہورہا ہے۔ امریکی فوج کے انخلا کے بعد اب ایک بار پھر افغانستان میں اقتدار کی جنگ شروع ہوگئی ہے۔ افغان طالبان نے بیشتر علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے اور اطلاعات ہیں کہ افغان طالبان دارالحکومت کابل کے قریبی علاقوں تک رسائی حاصل کررہے ہیں۔ اس صورتحال کے تناظر میں ایک بار پھر افغانستان کی اندرونی معاملات کے اثرات پاکستان پر پڑنے کا خطرہ موجود ہے۔ افغانستان میں پیدا ہونے والی صورتحال نہ صرف حکومت پاکستان کےلیے پریشانی کا باعث ہے بلکہ خیبرپختونخوا میں بسنے والے شہری اور سیاسی قیادت بھی آنے والے دنوں کے حوالے سے پریشان ہیں۔
اطلاعات کے مطابق پاک افغان سرحد کے قریب افغان شہریوں کے انخلا کی صورت میں کیمپ بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں اور وزیر داخلہ شیخ رشید کے مطابق پاک افغان سرحد پر باڑ لگادی گئی ہے اور رواں ماہ کے آخر تک یہ کام مکمل کرلیا جائے گا۔ اگر افغان شہری ایک بار پھر مہاجرین کی زندگی گزانے پر مجبور ہوتے ہیں تو اس کے اثرات ایک بار پھر پاکستان پر پڑنے کے امکانات ہیں۔ اسی لیے حکومت پاکستان کو متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر مستقبل کےلیے لائحہ عمل بنانا ہوگا۔ اگر افغانستان میں مفاہمتی عمل شروع نہیں ہوتا، وہاں بات چیت کے بجائے اگر لڑائی کا عمل شروع ہوتا ہے تو پاکستان کو ایک بار پھر افغانستان میں خانہ جنگی کے اثرات کےلیے تیار رہنا ہوگا۔ گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی بڑی تعداد افغانستان واپس جاچکی ہے۔ اب افغان شہری علاج معالجے اور کاروباری غرض سے پاسپورٹ اور ویزے پر قانونی طریقے سے پاکستان آتے جاتے ہیں۔ اگر اقتدار کابل کی جنگ جاری رہتی ہے تو افغان مہاجرین کی بڑی تعداد ایک بار پھر پاکستان کا رخ کرسکتی ہے۔
افغانستان کی بدامنی سے منڈلانے والے خطرات سے بچاؤ کےلیے خیبرپختونخوا کی سیاسی قیادت بھی سر جوڑ کر بیٹھ گئی ہے اور اس حوالے سے اسلام آباد میں ایک طویل نشست ہوئی اور ممکنہ خطرات سے بچنے کےلیے صف بندی کی جارہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے تو واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ وہ پرائی جنگ کا کیوں حصہ بنیں۔ انہوں نے امریکا کو ہوائی اڈے دینے سے بھی انکار کردیا ہے، لیکن حکومت کو مغربی سرحدوں سے اٹھنے والے خطرات کے بادلوں کو روکنے کےلیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ ملکی معاشی صورتحال بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کیا جاسکے۔ اس حوالے سے حکومت کو تمام سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لینا ہوگا اور ملکی مفاد میں سیاسی جماعتوں کو بھی حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔ آنے والے وقت کےلیے ابھی سے پیش قدمی کی ضرورت ہے۔