ای او بی آئیکو تباہی سے بچایا جائے

154

نجی شعبہ کے ریٹائرڈ ضعیف العمر ملازمین کی وراثت ادارہ EOBI آج کل بے بسی اور کسمپرسی کے عالم میں بغیر کسی سہارے و نگہبانی کے گھسیٹا جارہا ہے لیکن اس کے باوجود ادارہ کے چند مخصوص افراد کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑھائی میں ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی تو استعفیٰ دے کر پرواز کرگئے۔ جب کہ براہ راست کوئی مکمل وزیر نہ ہونے کے سبب وزارت ترقی انسانی وسائل و سمندر پار پاکستانی جناب وزیراعظم کے دائرہ کار میں ہے۔ نیز ادارہ کے متنازع چیئرمین 18 فروری کو ملازمین سے ریٹائر ہوگئے جو گزشتہ چار ماہ سے مسلسل متحرک ہیں کہ کس طرح ان کو دوبارہ 3 سال کی مدت کے لیے کنٹریکٹ پر اس سرسبز چراہ گاہ کی نگہبانی دوبارہ سونپ دی جائے، لیکن وائے حسرت ناتمام۔ فی الوقت ایک خاتون DG بطور قائمقام چیئرمین نامزد ہیں جن کی دلچسپی اپنے ذاتی مفادات اور ان کے مخصوص جی حضوری افراد تک محدود ہیں جس کے سبب حسب سابق گزشتہ چیئرمین کے چہیتے انتہائی جونیئر ایک بطور ڈیفیکٹو چیئرمین اور دوسرا نام نہاد (HR) DG خاتون محترم کی آشیرباد کے ذریعے گرائونڈ کے چاروں اطراف چوکے چھکے لگارہے ہیں کیوں کہ جواب دہی اور احتساب کا کوئی خوف ہی نہیں ہے کہ نہ کوئی مستقل وزیر اور نہ ہی چیئرمین اور نہ ہی محترم وزیر اعظم کی ریٹائرڈ ضعیف العمر افراد اور کھربوں روپے کے اس فنڈ کی طرف کوئی نگاہ کرم ہے۔ جب کہ لاہور میں متعین ایک DG جن کا مقام تعیناتی کراچی ہے اپنے ان دو چہیتے جونیئر افسران کے ذریعے متعدد ریجنل آفس میں من پسند ٹرانسفر پوسٹنگ کے ذریعے نذرانہ وصولیابی میں مصروف ہیں۔ درحقیقت EOBI کا بنیادی اور بااختیار و فیصلہ ساز اسٹرکچر اس کا بورڈ آف ٹرسٹی (BOT) ہے جس کا تقرر 2 سال کے لیے ہوتا ہے جس میں 4 ٹرسٹی مزدور نمائندگان اور 4 ٹرسٹی صنعت کار نمائندگای شامل ہوتے ہیں۔ موجودہ بورڈ کی تشکیل 2012ء میں یعنی 9 سال قبل کی گئی تھی جو قانونی طور پر اپنا وجود کھو چکا ہے۔ لہٰذا ایسی صورت حال میں EOBI کی نوکر شاہی بشمول ڈیپوٹیشن افسران مادرپدر آزاد ہیں۔
گزشتہ 40 سال EOBI کی کارکردگی کا اگر جائزہ لیا جائے تو ملک کی 4 کروڑ صنعتی لیبر فورس میں اب تک 85742 فعال رجسٹرڈ صنعتیں اپنے ملازمین کا ماہانہ کنٹریبیوشن جمع کرواتی ہیں جس میں رجسٹرڈ ملازمین کی تعداد 77,70,037 (سستر لاکھ ستر ہزار سینتیس) ہے۔ ان کے علاوہ ماہانہ پنشن حاصل کرنے والے 5,95,400 (پانچ لاکھ پچانوے ہزار چار سو) شامل ہیں۔ اب فیصلہ قارئین پر ہے کہ گزشتہ 40 سال کی کارکردگی بحوالہ رجسٹرڈ صنعتیں و رجسٹرڈ ملازمین فی سال کا تناسب کیا ہے؟ اسباب پر نگاہ ڈالیں تو EOBI کا فیلڈ اسٹاف اور صنعت کاروں کا رویہ اور ان کا گٹھ جوڑ کوئی پوشیدہ نہیں ہے۔ ہمارے ملک کے اکثر صنعتی و تجارتی ادارے ایسے ہیں کہ اول تو ان کے کسی مزدور، ملازم کی رجسٹریشن ہی نہیں کروائی گئی یا اگر ہے تو مک مکا کے بعد چند افراد کی رجسٹریشن کروائی گئی ہے۔ دوسری جانب اس کثیر فنڈ کی سرمایہ کاری بذریعہ منافع بخش اسکیموں میں تا کہ مزید منافع کے حصول کے ذریعے EOBI بہتر انداز میں پنشن اسکیم کو جاری و ساری رکھ سکے۔ اس ضمن میں سرمایہ کاری کے ذریعے جو بے دریغ لوٹ کھسوٹ جس کے سرغنہ ظفر اقبال گوندل، ان کے ڈیپوٹیشن پر لائے گئے افراد اور متعدد وفاقی وزراء کرام کی سرپرستی قوم کے سامنے سارے حقائق عیاں ہیں۔ محترم وزیراعظم آپ کی ایک نگاہ کرم کے لیے یہ ضعیف العمر پنشنر افراد منظر ہیں کہ براہ کرم ایک تجربہ کار چارٹرڈ اکائونٹنٹ یا مینجمنٹ سائنس کے کسی PhD جس کو صنعتی و تجارتی اداروں کے انتظام و انصرام کا وسیع تجربہ ہو اس کا مکمل میرٹ پر فی الفور تقرر کیا جائے۔ دوئم یہ کہ بورڈ آف ٹرسٹی (BOT) کی فوری تشکیل کی جائے اور اس میں سیاسی نامزدگیوں سے گریز کرتے ہوئے مزدوروں اور صنعت کاروں کی حقیقی مخلص باصلاحیت و تعلیم یافتہ افراد کو بھی میرٹ پر نمائندگی دی جائے۔ وگرنہ اگر آپ بھی آنکھ بند کرکے پہلوتہی کریں گے تو کھربوں روپے کا فنڈ نااہل اور کرپٹ افراد ڈھکانے لگادیں گے۔ یہ موقع ہے حقوق العباد کی ادائیگی کا اور دعائیں سمیٹنے کا جس کو ضائع نہ ہونے دیں۔