پاکستانی سیاست اور رہنمائی کا ’’شریفانہ ماڈل‘‘ – شاہنواز فاروقی

153

نواز لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے ایک بیان میں فرمایا ہے کہ اگر میاں نوازشریف کو انصاف، زندگی اور صحت کی ضمانت فراہم کی جائے تو وہ اُنھیں آج شام کی پرواز سے پاکستان بلا سکتی ہیں۔ ہمیں مریم نوازکا یہ بیان پڑھ کر اکبر الٰہ آبادی کا شعر یاد آگیا۔ اکبر نے کہا ہے ؎

قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ
رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ

مریم نواز کا مذکورہ بالا بیان ’جنگ‘ کراچی میں 6 کالمی سرخی کے ساتھ شائع ہوا ہے۔ روزنامہ ’دنیا‘ نے اسے ایک کالمی خبر کے طور پر شائع کیا ہے۔ جب کہ روزنامہ ’ڈان‘، روزنامہ ’ایکسپریس‘ اور روزنامہ ’جسارت‘ میں یہ بیان سرے سے شائع ہی نہیں ہوا۔ ایک ہی ملک میں صحافت کے کتنے رنگ ہوسکتے ہیں، اندازہ کیجیے۔ لیکن مسئلہ صرف یہی نہیں ہے، مسئلہ یہ بھی ہے کہ مریم نواز نے میاں نوازشریف کی رہنمائی کو ’’مشروط رہنمائی‘‘ بنادیا ہے، یعنی پہلے میاں صاحب کو انصاف کی ضمانت مہیا کی جائے، پھر انہیں بتایا جائے کہ آپ کی زندگی سو فیصد محفوظ ہے، اس کے بعد انہیں یقین دلایا جائے کہ آپ کی صحت بھی بالکل محفوظ رہے گی۔ جب یہ سب کچھ ہوجائے گا تب میاں صاحب قوم کی رہنمائی کے لیے پاکستان تشریف لائیں گے، ورنہ نہیں۔ واہ کیا قیادت ہے۔ واہ کیا رہنمائی ہے۔ واہ کیا رہنمائی کا ماڈل ہے۔

پاکستان میں عام لوگوں کی اے بی سی ڈی اس طرح شروع ہوتی ہے:

A,B,C,D,E,F,G… مگر پاکستان میں میاں نوازشریف اور ان کے خاندان کی اے بی سی ڈی اس طرح شروع ہوتی ہے: A,B,C,D,G,H,Q… میاں صاحب رہنما بنتے ہیں تو جی ایچ کیو کی بنیاد پر۔ میاں صاحب پنجاب کے وزیراعلیٰ بنتے ہیں تو جی ایچ کیو کے سہارے۔ وزیراعظم بنتے ہیں تو جی ایچ کیو کا ہاتھ پکڑ کر۔ وہ ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘ کی مہم چلاتے ہیں تو اُن کا مخاطب جی ایچ کیو ہوتا ہے۔ میاں صاحب ملک سے باہر جاتے ہیں تو جی ایچ کیو سے ڈیل کرکے۔ اب اُن کی دخترِ نیک اختر اُن کے لیے انصاف، زندگی اور صحت کی ضمانت مانگ رہی ہیں تو جی ایچ کیو سے۔ اس لیے کہ ملک میں کوئی اور تو میاں صاحب کو انصاف، زندگی اور صحت کی ضمانت فراہم نہیں کرسکتا۔ اس کے باوجود بھی میاں صاحب ’’اینٹی اسٹیبلشمنٹ‘‘ ہیں۔ اس کے باوجود میاں صاحب ’’انقلابی‘‘ ہیں۔ اس کے باوجود میاں صاحب ’’نظریاتی‘‘ ہیں۔

پنڈت جواہر لعل نہرو مال دار باپ کی اولاد تھے۔ وہ فائیو اسٹار زندگی بسر کرتے تھے۔ ان کے والد موتی لعل چاہتے تھے کہ جواہر لعل نہرو سیاست نہ کریں۔ مگر نہرو سیاست چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھے، چنانچہ ایک دن یہ ہوا کہ موتی لعل نہرو نے اچانک جواہر لعل نہرو کی زندگی کو ’’زیرو اسٹار‘‘ بنادیا۔ موتی لعل نے کہا کہ سیاست میں آدمی ڈنڈے کھاتا ہے، عوام کے ساتھ رہتا ہے، اسے جیل بھی جانا پڑتا ہے، جیل میں آرام دہ بستر ہوتا ہے نہ شاندار کھانا ملتا ہے، یہاں تک کہ جیل کا لباس بھی موٹا جھوٹا ہوتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے جواہر لعل نہرو سے اُن کا آرام دہ بستر چھین لیا، انہیں سادہ کھانا دیا جانے لگا، انہیں کھدر کا لباس پہنا دیا گیا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو نے ان تبدیلیوں کو خوش دلی سے قبول کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نہرو کی زندگی ضرور ’’زیرواسٹار‘‘ تھی، مگر اُن کی سیاست ’’فائیو اسٹار‘‘ تھی۔ نہرو کی سیاسی زندگی سے آگاہ لوگ جانتے ہیں کہ وہ بار بار جیل گئے، مگر انہوں نے یا اُن کی بیٹی نے کبھی انگریزوں سے یہ نہیں کہا کہ نہرو کو زندگی، صحت اور ان کے ساتھ انصاف کی ضمانت مہیا کی جائے گی تو وہ قوم کی رہنمائی کریں گے ورنہ نہیں۔ اندراگاندھی سے ایک بار پوچھا گیا کہ آپ اپنا موازنہ اپنے والد پنڈت نہرو سے کرتی ہیں تو آپ کو کیا فرق نظر آتا ہے؟ اندرا گاندھی نے کہا: میرے والد ’’خواب دیکھنے والے‘‘ تھے مگر میں ’’حقیقت پسند‘‘ ہوں۔ مگر نہ خواب دیکھنے والے نے کبھی اپنے لیے کوئی ضمانت مانگی، نہ حقیقت پسند اندرا گاندھی کو کبھی کسی طاقت سے اپنے لیے ضمانتیں مانگتے دیکھا گیا۔

میاں نوازشریف ماشاء اللہ خود کو ’’قائداعظم ثانی‘‘ قرار دلوا چکے ہیں، مگر قائداعظم کی پوری زندگی ہمارے سامنے ہے۔ وہ نہ کبھی انگریزوں سے ڈرے، نہ کبھی ہندو اکثریت سے گھبرائے۔ انہیں نہ زندگی کا خوف لاحق ہوا، نہ انہوں نے انگریزوں سے کبھی یہ کہا کہ انصاف کی ضمانت مہیا کرو گے تو میں سیاست کروں گا۔ قائداعظم کی صحت اتنی خراب تھی کہ میاں نوازشریف اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے، مگر قائداعظم نے کبھی اپنی بدترین صحت کو بھی اہمیت نہ دی۔ چنانچہ تاریخ نے انہیں ہر دور میں ’’فائیو اسٹار‘‘ سیاست کرتے دیکھا۔ اس سیاست میں ایک نازک مرحلہ وہ بھی آیا جب اُن کی بیٹی نے ایک پارسی لڑکے سے شادی کرلی، مگر قائداعظم نے ’’اصولی سیاست‘‘ کے لیے اکلوتی بیٹی کو چھوڑ دیا۔

نیلسن منڈیلا 27 سال تک جیل میں رہے۔ اس دوران انہوں نے قیدِ تنہائی بھی جھیلی۔ نیلسن منڈیلا کا کوئی قصور نہ تھا۔ وہ صرف نسل پرستی اور اس سے وجود میں آنے والے نظام کے خلاف تھے۔ 27 سال میں آدمی بچے سے جوان اور جوان سے بوڑھا ہوجاتا ہے۔ منڈیلا بوڑھے ہوگئے مگر انہوں نے کبھی نسل پرست حکمرانوں سے نہ انصاف کی ضمانت مانگی، نہ زندگی کا تحفظ طلب کیا، نہ کبھی اپنی صحت کے لیے وہ کوئی مطالبہ کرتے نظر آئے۔ منڈیلا کی زندگی یقیناً ’’زیرواسٹار‘‘ تھی، مگر اُن کی سیاست ’’فائیو اسٹار‘‘ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ منڈیلا عصری سیاست کی ایک روشن علامت، مزاحمتی سیاست کا استعارہ اور اصولی سیاست کا ایک Icon تھے۔

یہ تو بڑی شخصیات کا تذکرہ تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نہ قائداعظم تھے، نہ نہرو تھے، نہ نیلسن منڈیلا تھے، مگر انہوں نے آمرِ وقت جنرل ضیاء الحق کے سامنے سر نہیں جھکایا، اُن سے کوئی مفاہمت نہیں کی، اُن سے انصاف کے طلب گار نہ ہوئے، اُن سے زندگی اور صحت کے تحفظ کی بھیک نہ مانگی۔ انہیں جیل سے فرار کرانے کا منصوبہ بنایا گیا مگر انہوں نے اس سے انکار کردیا۔ بھٹو کی سیاست ’’ٹو اسٹار‘‘ تھی مگر جنرل ضیا الحق کے سامنے ان کا طرزِعمل ’’فائیواسٹار‘‘ تھا۔ بے نظیر بھٹو اپنے والد کا پاسنگ بھی نہیں تھیں۔ وہ میاں نوازشریف کی ہم عصر تھیں۔ انہیں ہر محبت کرنے والے نے مشورہ دیا کہ تمہاری جان کو خطرہ ہے، پاکستان نہ آئو۔ مگر بے نظیر پاکستان آکر رہیں۔ اُن کے والد اور دو بھائی مارے جا چکے تھے، مگر یہ خوف بھی انہیں پاکستان آنے اور سیاست کرنے سے نہ روک سکا۔ یہاں تک کہ بے نظیر قتل ہوگئیں۔ اس کے برعکس میاں صاحب کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ہر مرحلے پر اے بی سی ڈی، جی ایچ کیو کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ وہ ڈیل کرکے ملک سے باہر بیٹھے ہیں۔ ان کی دخترِ نیک اختر مریم نواز بھی اُن کی طرح ’’انقلابی‘‘ بنتی ہیں، مگر وہ 6 کالمی سرخی کے ساتھ رپورٹ ہونے والے اپنے بیان میں جی ایچ کیو سے میاں صاحب کے لیے انصاف اور زندگی و صحت کے تحفظ کی بھیک مانگتی ہوئی پائی جارہی ہیں۔ بلاشبہ میاں صاحب کی زندگی ’’فائیو اسٹار‘‘ بلکہ ’’سیون اسٹار‘‘ ہے، اور ان کی سیاست ’’زیرواسٹار‘‘ تھی، ہے، اور رہے گی۔ وہ ہمیشہ انگلی کٹوا کر شہیدوں میں شامل ہوتے ہوئے پائے جائیں گے۔ یہ ہے میاں نوازشریف اور اُن کے خاندان کا اصل سیاسی تشخص۔ یہ ہے میاں صاحب کی رہنمائی کا ماڈل۔ میاں صاحب کو سیاست میں آئے اب 35 سال ہوگئے ہیں، مگر ان کا حال میرؔ کے اس شعر جیسا ہے ؎

مکّے گیا، مدینے گیا، کربلا گیا
جیسا گیا تھا ویسا ہی چل پھر کے آ گیا

میاں نوازشریف اور اُن کے خاندان کی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ اس کا کوئی نظریہ ہی نہیں ہے۔ تاریخ میں ایسی کئی مثالیں ہیں کہ پہلے ایک سیاست دان کچھ بھی نہیں تھا، مگر پھر اُس نے ایک نظریے کو اختیار کرلیا۔ مگر میاں صاحب 35 سال سے سیاست کی خاک چھان رہے ہیں، اس کے باوجود اُن کا کوئی نظریہ نہیں ہے۔ وہ نہ ’’اسلامسٹ‘‘ ہیں، نہ سیکولر ہیں، نہ ’’لبرل‘‘ ہیں، نہ ’’کمیونسٹ‘‘ ہیں۔ چنانچہ میاں صاحب اور اُن کے خاندان کی سیاست موم کی ناک ہے۔ حالات کا دبائو انہیں جہاں لے جاتا ہے وہ چلے جاتے ہیں۔ وہ پہلے جنرل پرویز کو بجاطور پر ’’غاصب‘‘ قرار دیتے ہیں، مگر پھر اسی جنرل پرویز کے ساتھ ڈیل کرکے سعودی عرب فرار ہوجاتے ہیں۔ وہ ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘ کی مہم چلاتے ہیں، ’’خلائی مخلوق‘‘ ایجاد کرتے ہیں، پھر اسی خلائی مخلوق کے ساتھ ڈیل کرکے لندن بھاگ جاتے ہیں۔ جب کسی رہنما اور اُس کے خاندان کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا تو پھر اُس شخص اور خاندان کی سیاست میں یہی کچھ ہوتا ہے۔

میاں نوازشریف کو سیاست میں آئے ساڑھے تین دہائیاں ہوگئی ہیں، مگر اُن کی سیاست ابھی تک ’’قومی سیاست‘‘ نہیں بن سکی ہے۔ اُن کی سیاست پنجاب میں شروع ہوتی ہے، پنجاب میں آگے بڑھتی ہے اور پنجاب میں ختم ہوجاتی ہے۔ چنانچہ میاں نوازشریف کی اصل یہ ہے کہ وہ قومی رہنما نہیں ’’پنجابی رہنما‘‘ ہیں۔ وہ پورے ملک کے لیے نہیں صرف پنجاب کے لیے سوچتے ہیں۔ وہ پورے ملک کے لیے نہیں صرف پنجاب کے لیے عمل کرتے ہیں۔ بلاشبہ دکھانے کے لیے وہ دو چار غیر پنجابی شخصیات کو اپنے اردگرد جمع کرلیتے ہیں، مگر یہ ویسا ہی دھوکا ہے جیسا دھوکا الطاف حسین نے مہاجر قومی موومنٹ کو متحدہ قومی موومنٹ بناکر گھڑا تھا۔

میاں نوازشریف کا نعرہ ہے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘۔ ووٹ جمہوریت کا ایک حصہ ہے۔ اب صورت یہ ہے کہ میاں صاحب جمہوریت کے ایک حصے کو تو عزت دینے کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر وہ خود عملاً 35 سال سے جمہوریت کی تذلیل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کا ناقابلِ تردید ثبوت یہ ہے کہ نواز لیگ پہلے دن سے ایک شخصی اور خاندانی جماعت ہے۔ اس جماعت میں آج تک جمہوریت داخل نہیں ہوئی۔ اس جماعت میں آج تک ووٹ کو عزت نہیں دی گئی۔ چنانچہ آج میاں صاحب نواز لیگ کے سربراہ ہیں۔ وہ نہیں ہوں گے تو مریم نواز، نواز لیگ کی سربراہ ہوں گی۔ وہ نہیں ہوں گی تو شہبازشریف نواز لیگ کی قیادت کررہے ہوں گے۔ اس صورتِ حال کا نتیجہ یہ ہے کہ میاں صاحب کو ووٹ اور نوٹ تو بہت ملتے ہیں مگر وہ اپنی جماعت کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج نہیں کرپاتے، یہاں تک کہ انہیں دھرنے کے لیے فضل الرحمٰن کی صورت میں کرائے کے فوجی درکار ہوتے ہیں۔

(This article was first published in Friday Special)