تیونس : مہاجرین کی کشتی کھلے سمندر میں ڈوب گئی ، 43 مسافر جاں بحق

131
تیونس سٹی: تیونس کے ساحلی محافظین سمندر میں ڈوبنے والی کشتی کے مسافروں کو لائف جیکٹ فراہم کرکے بچانے کی کوشش کررہے ہیں

تیونس سٹی (انٹرنیشنل ڈیسک) تیونس کے کھلے سمندر میں مہاجرین کی کشتی غرقاب ہونے کے باعث 43 غیر قانونی مہاجرین ہلاک ہو گئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق بحیرہ روم میں تیونس کے کھلے سمندر میں مہاجرین کی ایک کشتی کے غرقاب ہونے کے نتیجے میں 43 افراد ہلاک ہو گئے۔ تیونسی ہلال احمر نے اطلاع دی ہے کہ کشتی میں سوار غیر قانونی مہاجرین لیبیا کے شمالی شہر زووارے سے اٹلی کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ متاثرین کا تعلق مصر، سوڈان اور بنگلادیش سے تھا۔ حادثے کی اطلاع ملنے پرتیونس کے ساحلی محافظوں نے فوری کارروائی اور مسافروں کو لائف جیکٹ فراہم کی۔ تیونسی ہلال احمر کے مطابق امدادی کارروائی کے دوران 84مسافروں کو ڈوبنے سے بچایا کر محفوظ مقام پرمنتقل کردیا گیا۔ واضح رہے کہ افریقا میں بسنے والے ہزاروں افراد ملکی بحران کے باعث بہتر مستقبل کا خواب آنکھوں میں سجائے یورپ جانے کے لیے بحیرئہ روم کے سفر کا خطرہ مول لیتے ہیں۔ انسانی سمگلر سیاسی بحران کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور ایسے تارکین وطن کو کشتیوں میں سوار کرکے کھلے سمندر میں بے یارومددگار چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کے جال میں آنے والے زیادہ تر افراد کا تعلق لیبیا ، مراکش اور سوڈان سے ہوتا ہے اور وہ یورپ پہنچنے کے لیے اپنی جمع پونجی لٹا کر جان کا نذرانہ دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ بہت ہی کم تعداد ایسی ہوتی ہے جو یورپ پہنچنے میں کامیاب ہوپاتی ہے ورنہ اکثر افراد راستے ہی میں لہروں کی نذر ہوجاتے ہیں۔