‘چیئرمین نیب حلیم عادل شیخ کو گرفتار کیوں نہیں کرتے، نام ای سی ایل میں کیوں نہیں ڈالتے؟’

179

اسلام آباد: سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی کا کہنا ہے کہ حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کے مطالبے پر نیب انہیں دھمکیاں دے رہا ہے، ان کے خلاف تحقیقات کی بات کر رہا ہے، امید ہے کہ نیب نے ان پر جو الزامات لگائے ہیں ان کی تحقیقات کرے گا۔

تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیرتعلیم سعید غنی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ پیر کو نیب کراچی کے دفتر جائیں گے، انہوں نے سوال کیا کہ چیئرمین نیب حلیم عادل شیخ کو گرفتار کیوں نہیں کرتے، نام ای سی ایل میں کیوں نہیں ڈالتے؟ لگتا ہے چیئرمین نیب کی ایک ویڈیو حلیم عادل شیخ کے پاس بھی ہے۔

سعیدغنی نے کہاکہ چیئرمین نیب حکومت سے بلیک میل ہوتے رہتے ہیں، چیئرمین نیب کے بارے میں بات کرنے پر کبھی کوئی نوٹس جاری نہیں ہوا، خورشید شاہ اور اعجاز جکھرانی کے ساتھ ظلم و زیادتی ہو رہی ہے، اس ظلم کیخلاف بات کرنے پر کہا گیا میرے خلاف 31 اے کے تحت کارروائی کی جائیگی۔

صوبائی وزیر نے بتایا کہ ایک اور پریس ریلیز میں کہا گیا کہ نیب کراچی میں میرےخلاف کوئی تحقیقات بھی ہو رہی ہیں، مجھے تحقیقات سے کوئی خوف نہیں، کریں تحقیقات،ویسے میں چیئرمین نیب کیخلاف اتنے عرصے سے بات کر رہا ہوں، کبھی تحقیقات31 اے کا ذکر نہیں آیا مگر جیسے ہی حلیم عادل شیخ کےخلاف بیان دیا تو یہ سب ہونے لگا۔

سعید غنی نے کہاکہ 264ایکٹر زمین پر حلیم عادل شیخ نےقبضہ کیا، یہ سب نیب نے کہا،حلیم عادل شیخ کوکیوں گرفتار نہیں کیا جاتا؟، کیوں نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا جارہا؟کل بھی کہا تھا، آج پھر کہہ رہا ہوں، میرے خلاف تحقیقات کریں، کیس کریں، میں ضمانت نہیں کراؤنگا۔

انہوں نے کہاکہ میں پیر کو نیب کےآفس جاؤنگا، کہوں گا کہ میں حاضر ہوں، گرفتار کرنا ہے تو کریں، ریمانڈ پر لے جائیں، اگر 90 روز کا نیب نے ریمانڈ مانگا تو اس پر کوئی درخواست نہیں کروں گا۔

سعید غنی نے سوال کیا کہ نیب نے گندم اسکینڈل پر کس کو گرفتار کیا؟،حکومت نے خود شوگر کمیشن بنایا، اس پر کیا کارروائی ہوئی؟، علی ظفر شوگر ملز کے وکیل رہ چکےہیں، کیا اس بات سے کسی کو انکار ہے کہ گندم، چینی کی قیمتیں بڑھیں۔

ان کاکہنا تھا کہ ادویات کی قیمتیں بڑھ گئیں، نیب نے کس کو گرفتار کیا، کیا تحقیقات کیں؟ ، پچھلے سال ایل این جی کی کرپشن ہوئی، کیا ندیم بابر کو گرفتار کیا گیا؟۔

پی پی وزیر نے کہاکہ یہ نیب نیازی گٹھ جوڑ ہے، نیب پی ٹی آئی کا سیاسی ہتھیار ہے، اختیارات کے ناجائز استعمال کا کوئی کیس بنتا ہے تو چیئرمین نیب کیخلاف بنتا ہے، اپوزیشن کو دبانے کیلئے یہ کام ہو رہا ہے۔

سعید غنی نے کہاکہ میں نے آج تک یونس میمن کو نہیں دیکھا، نہ کبھی فون نہیں آیا، نہ بات ہوئی، نیب لوگوں کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے، نیب لوگوں کی عزت اچھالتا ہے، نیب کی وجہ سے لوگوں نے خود کشیاں کی ہیں۔

ان کاکہنا تھا کہ یہ شوق سے انتقامی کارروائیاں کریں، پیپلزپارٹی نے کبھی ماضی میں انتقامی کارروائی کی نہ آگے کرے گی ۔

ایم کیوایم سے متعلق بات کرتے ہوئے سعید غنی نے کہاکہ اس کا طرز سیاست ماضی جیسا ہی ہے، بس چہرہ بدل گیا ہے، کراچی میں لوگوں کی رائے سنیں، ایم کیوایم کراچی سے فارغ ہوچکی ہے۔

سعید غنی نے بتایا کہ فردوس شمیم سےمتعلق بھی نیب میں کچھ چیزیں ہیں، لاڈلوں کےخلاف بات کرنے سے یہ ساری کارروائیاں ہوتی ہیں، تحقیقات میں شامل ہونے کیلئے پیر کو نیب کے دفتر اکیلا جاؤں گا۔

انہوں نے کہاکہ ارباب غلام رحیم جہاں بھی گئے ہیں اس پارٹی کو برباد کیا، پی ٹی آئی کو بھی برباد کریں گے۔