لاہور ہائیکورٹ کا مفت ٹرانسپورٹ اور قبرستانوں میں تدفین کا حکم

146

لاہور: چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد قاسم خان نے پنجاب حکومت کو قبرستانوں میں مفت تدفین کا حکم دے دیا ہے  جبکہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں قبرستانوں کی جگہ مختص کرنا لازمی قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق  چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے کیس کی سماعت کے لیے 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا اور چیف جسٹس نے احادیث اور بین الاقوامی قوانین کو بھی اس فیصلے کا حصہ بنایا ہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں ایل ڈی اے کو نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں قبرستانوں کی جگہ مختص کرنا لازمی قرار دیا ہے۔

واضح رہے  عدالت عالیہ نے آئندہ سماعت پر سب رجسٹرار پراپرٹیز کو اصلی دستاویزات پیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے جبکہ کیس کی مزید سماعت اب 27 جولائی کو ہوگی۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ شہری ساری زندگی حکومت کو مختلف اشیاء خریدنے پر ٹیکس ادا کرتا ہے، مرتے وقت بھی اس سے قبر اور دیگر اشیاء کے نام پر پیسے لیے جاتے ہیں۔

عدالت عالیہ کا مزید کہنا تھا کہ  حکومت کو بحیثیت مسلمان روایات اور اسلامی قوانین کی روشنی میں قبرستانوں کے حوالے سے اقدامات کرنے چاہیے، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے وہ متعلقہ شہری کی تدفین کا خرچہ اٹھائے۔

انتظامیہ قبرستان میں تدفین کے لیے مفت ٹرانسپورٹ فراہم کرے جبکہ انتظامیہ قبرستانوں کی دیکھ بھال اور درخت لگانے کے حوالے سے بھی مکمل اقدامات کرے۔

عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا ہےکہ پنجاب کے 4 شہروں میں فوری طور پر ماڈل قبرستان قائم کیے جائیں اور شہر خاموشاں اتھارٹی کو مکمل اختیارات کے ساتھ فعال کیا جائے جبکہ شہر خاموشاں اتھارٹی میں پڑھ لکھے افراد کو میرٹ پر بھرتی کیا جائے۔