پی ٹی آئی اور ماضی کے حکمران سب حالات کے ذمہ دار ہیں،سراج الحق

137
تیمر گرہ: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اجتماع ارکان سے خطاب کررہے ہیں

دیر( نمائندہ خصوصی) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کا روڈ انفرااسٹرکچر خستہ حال، صحت کے شعبے میں انقلاب کے تمام دعوے زمینی حقائق کے منافی ہیں۔ تبدیلی کا سونامی گزشتہ 8 برس سے صوبے میں کوئی بہتری نہیں لا سکا۔ فاٹا کے انضمام کے بعد بھی حالات جوں کے توں ہیں۔ عام آدمی مہنگائی کے ہاتھوں برباد ہو چکا ہے۔ عوام کی اکثریت کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں۔ نہیں معلوم پی ٹی آئی کس ترقی کی بات کر رہی ہے۔ جمہوریت کے استحکام کے لیے جماعت اسلامی نے انتخابی اصلاحات کا مکمل پیکج سیاسی جماعتوں کے ساتھ شیئر کر دیا۔ امید کرتے ہیں کہ سیاستدان انتخابی اصلاحات پر سنجیدگی دکھائیں گے۔ ملک کو غربت کی دلدل سے نکالنا ہے تو سودی نظام اور آئی ایم ایف کو خیرباد کہنا ہو گا۔ فرقہ واریت اور لسانی اور صوبائی تعصبات سے جان چھڑانا ہو گی۔ پاکستان کی ترقی کا راز اسلامی نظام کے نفاذ میں ہے۔ جمہوریت کو قرآن و سنت کے تابع کرنا پڑے گا۔ پڑھے لکھے افراد آگے بڑھیں اور جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔ اقتدار میں آ کر چوروں لٹیروں کا صفایا کر دیں گے۔ ہماری جنگ کرپٹ مافیا سے ہے۔ پی ٹی آئی کرپشن ختم کرنے میں مکمل ناکام ہو گئی۔ گورننس ٹھیک کی جاتی تو تمام شعبوں میں بہتری آ سکتی تھی۔ حکومت نے 3 سال میں ایک دفعہ بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ بڑی جماعتیں اپنے اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ ملک مزید ان لوگوں کا متحمل نہیں ہو سکتا جنہوں نے اس کے وسائل کے ساتھ کھلواڑ کیا۔ آئیے قرآن و سنت کا دامن مضبوطی سے تھام لیں اور اسلام کی سربلندی کے لیے جدوجہد کریں۔جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انھوں نے تیمرگرہ دیرپائین میں اجتماع ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیرضلع دیرپائین اعزاز الملک افکاری بھی اس موقع پر موجود تھے۔سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی نے بے روزگاری اور مہنگائی کے خلاف ملک گیر تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔عوام کو ریلیف نہ ملنے تک تحریک جاری رہے گی ۔ لوگ روٹی کے لقمے کے لیے ترس رہے ہیں ، حکمران طبقے کی عیاشی کم نہیں ہورہی ۔ اب بھی ملک کے وسائل کو عوام پر خرچ نہ کیا گیا تو لوگ حکمرانوں کے گریبان پکڑنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں ۔ ظلم اور ناانصافی کو برداشت کرنے کی حد ہوتی ہے ، ملک پر قابض اشرافیہ ہوش کے ناخن لے۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں 2 کروڑ نوجوان بے روزگار ہیں۔ وزیراعظم نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کر کے ایک ہزار نوجوانوں کے لیے بھی روزگار کے وسائل پیدا نہیں کیے۔ مارکیٹ میں روزی کمانے کے ذرائع ناپید ہو چکے ہیں۔ مزدور دیہاڑی کے لیے نکلتا ہے اور شام کو خالی ہاتھ واپس آتا ہے۔ دوسری جانب اشیائے خورونوش کی قیمتوںمیں دگنا سے زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ پیٹرول، گیس، بجلی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ملک قرضوں کے پہاڑ کے نیچے دبا ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ ساتھ ماضی کے حکمران بھی ان حالات کے ذمے دارہیں۔ امیرجماعت نے کہا کہ عوام کو جماعت اسلامی کا ساتھ دینا ہو گا۔ ہماری سیاست کا مقصد عام آدمی کے مسائل کو حل کرنا اور ملک میں نظام مصطفیؐ کا قیام ہے۔ جماعت اسلامی ملک میں پرامن جمہوری انقلاب کی داعی ہے۔ آزمائے ہوئے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کو مزید آزمانا ملک کے ساتھ ظلم ہے۔ مومن ایک سوراخ سے 2 دفعہ نہیں ڈسا جاتا۔