ضرورت ایجاد کی ماں، تاریخ کا ایک مختصر سفر

187

ضرورت ہمارے اعمال ، جذبات اور محرکات کو متاثر کرتی ہے۔ ضرورتوں کے بغیر انسان ایک غیر جانبدار مخلوق بن جاتا ہے۔

ایک کہاوت ہے، ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ دوسرے لفظوں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ انسان صرف وہی چیز ایجاد کرتا ہے جس کی اسے ضرورت ہوتی ہے۔ انسان کی بہتر زندگی گزارنے کی زبردست خواہش اسے ایجادات کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ دور پتھر کے زمانے سے چلا آرہا ہے۔

انسان کبھی مطمئن نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ زیادہ حاصل کرنے کی خواہش کرتا ہے اور خواہشات میں ضروری نہیں کہ لالچ یا دوسروں سے بلند تر ہونا اور بہتر چیزوں کا حصول ہو۔ بلکہ انسان کو کچھ چیزوں کی ضرورت بھی محسوس ہوتی ہے جو اس کی خواہش بن جاتی ہے اور اسے لگتا ہے کہ کسی خاص شے کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس کی ضروریات کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔ اور یہی احساس محرومی اسے نئی چیزیں دریافت کرنے یا مزید بہتر اوزار یا آلات ایجاد کرنے کی تاکید کرتی ہے۔

سائنس کے مطابق قدیم زمانے میں انسان اپنی بقا کے لیے غاروں میں رہتا تھا اور جانوروں کا شکار کرتا تھا۔ اُس زمانے کے انسان بمشکل ہی کوئی لباس پہنتے تھے اور کچا گوشت کھاتے تھے۔ آہستہ آہستہ سخت درجہ حرارت میں انہیں احساس ہوا کہ ایسے زندگی بہت زیادہ تکلیف دہ ہو رہی ہے۔ اسی ضرورت کے تحت انسان نے آگ دریافت کی تاکہ خود کو گرم رکھا جاسکے۔ اسی طرح ان میں پکے ہوئے کھانے کی اہمیت بھی اجاگر ہوئی۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کو کچھ ایسا کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی جس سے اس کی محنت کم ہوجائے اور اس طرح انسان نے پہیہ ایجاد کیا۔ رفتا رفتا اس نے ایسے اوزار اور آلات بنانے شروع کیے جس سے وہ کام کو زیادہ موثر انداز میں انجام دینے لگا۔

پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب انسان کو ایک سوسائٹی کی ضرورت محسوس ہوئی جہاں سہولیات مجتمع ہوجائیں اور ہر انسان ان سہولیات کا فائدہ اٹھائے۔ اس سے شہر ، سڑکیں، مکانات وجود میں آئے۔ یہ سب کچھ اسی ‘ضرورت’ کے احساس کے تحت ہوا جب وہ سمجھ گیا تھا کہ غاروں میں رہنا اس کے اور اس کے اہل خانہ کے لئے غیر محفوظ ہے۔ خود کو بچانے کے لئے انسان نے تہذیبوں کو تعمیر کرنا شروع کیا۔

آج کی مثال لیں تو جدید دور کی ٹیکنالوجی پوری طرح سے ضرورت پر مبنی ہے۔ ایک شخص نے محسوس کیا کہ لوگوں سے دور سے بات چیت کرنا مشکل ہے۔ لہذا اس نے ٹیلیفون ایجاد کیا۔ اور اسی ضرورت نے ترقی کرتے کرتے کمپیوٹر، ٹی وی، انٹرنیٹ، موبائل فونز وغیرہ کو جنم دیا۔