دس سالوں میں پہلی بار چین میں بجلی کا شدید بحران، حکام کا انتباہ

160

چین اس وقت بجلی کی ایک بہت بڑی قلت کا شکار ہے ، توانائی کی بڑھتی طلب اور کوئلے کے محدود استعمال نے ملک کے پاور ہاؤس کو تین گنا زیادہ دھچکا پہنچایا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق چینی حکام نے کہا ہے کہ ملک میں بجلی کی قلت مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے جس سے معاشی اور عالمی تجارت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ چین کے متعدد صوبائی حکام نے کہا کہ انہیں رواں ہفتوں میں بجلی کے بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

صوبہ گوانگ ڈونگ چین کا مینوفیکچرنگ مرکز ہے جو ملک کی سالانہ معاشی پیداوار اور اس کی غیر ملکی تجارت کے 10 فیصد سے زائد کا ذمہ دار ہے اور وہ ایک ماہ سے توانائی کی کنڑول تقسیم کررہا ہے جس کے باعث صوبہ بھر کی متعدد کمپنیاں ہفتہ میں کچھ دن بند رہنے پر مجبور ہیں۔ کچھ صوبائی حکام کا انتباہ ہے کہ بجلی کا  بحران سال کے آخر تک رہ سکتا ہے۔
یہ حالات صرف گوانگ ڈونگ میں ہی نہیں ہیں بلکہ کم از کم نو صوبے بجلی کی قلت کا شکار ہیں اور اس سے نمٹنے کیلئے مسلسل جدوجہد کررہے ہیں۔
چین کی قومی بیورو برائے اعداد و شمار نے کہا کہ بجلی کے بحران نے چین میں فیکٹریوں کی پیداوار میں کافی کمی کردی ہے۔