ابو ظہبی میں اسرائیلی سفارت خانے کا افتتاح

96
مقبوضہ بیت المقدس؍ ابوظبی: صہیونی فوج فلسطینیوں کی دکان مسمار اور شہریوں پر تشدد کررہی ہے‘ اسرائیلی اور اماراتی وزرا سفارتخانے کا افتتاح کررہے ہیں

ابوظبی (انٹرنیشنل ڈیسک)اسرائیلی وزیر خارجہ یائرلیپید نے متحدہ عرب امارات میں سفارت خانے کا افتتاح کردیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق اسرائیلی وزیرخارجہ 2روزہ دورے پرمنگل کے روز ابوظبی پہنچے۔ دونوں ممالک کے مابین گزشتہ برس سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد یہ کسی اسرائیلی وزیر کی جانب سے خلیجی ریاست کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ روانگی سے یائر لیپیدنے طیارے کے اندر کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اپنے دورے کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے دورے کے دوران ابوظبی میں اسرائیلی سفارت خانے اور دبئی میں اسرائیلی قونصل جنرل کے دفتر کا افتتاح کریں گے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ابوظبی ائرپورٹ پر اماراتی وزیر اقتصادی امور احمد علی صایغ ان کا خیر مقدم کیا۔یائر لیپید نے اماراتی وزیر ثقافت نورہ الکعبی کے ساتھ ابوظبی میں سفارت خانے کا افتتاح کیا اور فیتا کاٹا۔ انہوں نے اماراتی ہم منصب شیخ عبد اللہ بن زاید النہیان سے بھی بھی ملاقات کی۔ یاد رہے کہ سابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو مارچ میں متحدہ عرب امارات کا دورہ کرنے والے تھے، لیکن فضائی حدود کے حوالے سے اردن کے ساتھ تنازع کی وجہ سے انہوں نے اپنا دورہ منسوخ کر دیا تھا۔ اس سے پہلے بھی وہ کئی بار خلیجی ریاستوںکا دورہ ملتوی کرچکے تھے،تاہم نئی حکومت نے آتے ہی ان کے پروگرام کو عملی جامہ پہنا دیا۔ یائر لیپیدوزیر خارجہ کے علاوہ اسرائیل کے متبادل وزیر اعظم بھی ہیں۔ نئی اتحادی حکومت کے سربراہ نفتالی بینت کے بعد معاہدے کے تحت لیپید ہی وزارت عظمی کی ذمے داریاں سنبھالیں گے۔ گزشتہ برس سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ دونوں ممالک نے بعد میں سیاحت سے لے کر مالیاتی خدمات تک مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے کئی معاہدوں پر دستخط کیے۔ متحدہ عرب امارات کے بعد بحرین، مراکش اور سوڈان نے اسرائیل سے مراسم بحال کرلیے، جس پر دنیا بھر کے مسلمانوں نے سخت مذمت کی۔صہیونی وزیر خارجہ کے حالیہ دورے میں فریقین کے درمیان اہم معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں اور اس دورے کو عرب دنیا کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات خطے میں سلامتی کا راگ الاپ کر خود کو ایک قائد کے روپ میں پیش کرنا چاہتا ہے۔ ابوظبی کی حکومت نے ملک کو ایک اہم معاشی مرکز بنا لیا ہے اور اب وہ مشرق وسطی میں من مانی کرنے کے راستے پر گامزن ہے۔ اس سلسلے میں عالمی طاقتوں کے ساتھ مراسم استوار کرکے ہتھیار حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ خلائی مشن بھی روانہ کیے جاچکے ہیں۔