ایرانی جوہری ہتھیار قطعی برداشت نہیں کریں گے ، امریکا

114
واشنگٹن: امریکی صدر جوبائیڈن اسرائیلی ہم منصب ریون رِولن سے ملاقات میں صحافیوں سے مخاطب ہیں

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) جو بائیڈن اسرائیل کو یہ یقین دلانے میں مصروف ہیں کہ ان کی انتظامیہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں دوبارہ شمولیت چاہتی ہے، تاہم وہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران کو قطعی برداشت نہیں کریں گے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے پیر کے روز اسرائیلی صدر ریوین رولن سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی اور ایران پر اپنے سخت موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ گرچہ ان کی انتظامیہ 2015ء کے جوہری معاہدے میں شمولیت کے لیے کوشاں ہے، تاہم وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے باز رکھنے کے لیے پر عزم ہیں۔ اوول آفس میں اسرائیلی صدر ریولن کے ساتھ بیٹھے ہوئے امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ میں آپ کو جو بتا سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ میری صدارت میں ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔ امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر ہونے والی بات چیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان امور پر فیصلے میں ابھی کافی وقت ہے۔ 2015ء میں اوباما انتظامیہ کے دور میں ایران کے ساتھ ایک جوہری معاہدہ طے پا یا تھا جو مشترکہ جامع لائحہ عمل کے نام سے جانا جاتا ہے، لیکن امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018ء میں اس معاہدے سے امریکا کو یکطرفہ طور پر الگ کر لیا تھا اور ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ اب یورپی ممالک کی مدد سے امریکا اس معاہدے میں دوبارہ شامل ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسرائیلی صدر نے جو بائیڈن سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ وہ ایران سے متعلق امریکی صدر کے بیان سے مطمئن ہیں اور دونوں ممالک کو تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔