داخلے کی اجازت نہ ملنے پر پی ٹی آئی اراکین کا سندھ اسمبلی دروازے پر دھرنا

84
کراچی:تحریک انصاف کے رہنما فردوس شمیم نقوی پریس کانفرنس کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) اسپیکر سندھ اسمبلی کی جانب سے پابندی کا شکار پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کم از کم 8 اراکین اسمبلی کو اسمبلی کے احاطے میں داخل ہونے سے روکنے پر پی ٹی آئی کے اراکین نے سندھ اسمبلی کے مرکزی دروازے کے باہر دھرنا دیا۔جبکہ سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے احتجاج پر اپوزیشن تقسیم ہوگئی ہے، جی ڈی اے نے ایوان میں جمہوریت کا علامتی جنازہ لانے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس قسم کے غیر جمہوری کاموں میں پی ٹی آئی کا ساتھ دینے کو تیار نہیں ہے۔گزشتہ روز اسپیکر سندھ اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کو اپنی باری سے قبل ایوان سے خطاب کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا جس پر پاکستان تحریک انصاف کے اراکین نے ایوان کی کارروائی میں خلل ڈال دیا تھا۔ حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی نے اس پر ہنگامہ کھڑا کردیا تھا اور ایوان میں ایک چارپائی لا کر اسے جمہوریت کا علامتی جنازہ قرار دیا تھا جس کی حکومتی اراکین نے شدید مذمت کی تھی۔اسپیکر نے بعد میں اپوزیشن کے طرز عمل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ایوان کے تقدس کو پامال کیا ہے، اس کے بعد انہوں نے موجودہ سیشن سے پی ٹی آئی کے 8 اراکین صوبائی اسمبلی کے داخلے پر پابندی عاید کردی، جن اراکین پر پابندی عاید کی گئی ان میں سعید احمد، رابستان خان، ارسلان تاج حسین، محمد علی عزیز، عدیل احمد، شاہ نواز جدون، بلال احمد اور راجا اظہر خان شامل ہیں۔ منگل کو تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کا ایک گروپ اسمبلی پہنچا تو ان کے ساتھ ڈھول تاشے والے بھی موجود تھے جبکہ پابندی کا شکار کچھ اراکین نے ہار پہنے ہوئے تھے لیکن انہیں سیکورٹی عملے نے ایوان کی عمارت میں داخلے سے روک لیا، قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ بھی ان کے ہمراہ تھے اور انہوں نے داخلے کی اجازت دینے کے حوالے سے عملے پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی لیکن یہ سب بے سود رہا۔محافظوں سے مزاحمت کے درمیان اسمبلی میں داخل ہونے کے خواہاں پی ٹی آئی کے شبیر قریشی اور محمد ریاض حیدر کے ساتھ ساتھ متحدہ مجلس عمل کے عبدالرشید دروازہ پھلانگ کر اسمبلی میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔دریں اثنا پی ٹی آئی کی 2 خواتین اراکین اسمبلی سدرہ عمران اور رابعہ اظفر نظامی مرکزی دروازہ بند ہونے کے سبب دوسرے دروازے سے اسمبلی میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئیں۔دوسری جانب اسپیکر کی جانب سے پی ٹی آئی ارکان پر ایوان میں داخلے پر پابندی کے باعث اسمبلی کا ماحول کشیدہ رہا، تحریک انصاف کے ارکان نے اسپیکر کے فیصلے کے خلاف ایوان سے بائیکاٹ کیا ۔ کارروائی کے دوران اسپیکر آغا سراج درانی نے گزشتہ روز پیش آنے والے واقعہ کو انتہائی شرمناک اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کا مرکزی دروازہ ڈھول تاشوں کو روکنے کے لیے بند کیا گیا ہے ،سراج درانی نے کہا کہ وہ جی ڈی اے اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہیںجنہوں نے ہمارا ساتھ دیا۔اسپیکر نے کہا کہ اگر آج بھی یہ لوگ گند کرناچاہ رہے ہیں تو سکیورٹی اہلکار گیٹ بند کردیں۔ 30 سال میں کبھی ایسی حرکات نہیں دیکھی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسمبلی کی بے حرمتی میں کبھی بھی برداشت نہیں کروں گا۔ اس موقع پر جی ڈی اے کے رکن اسمبلی نند کمار گوکلانی نے کہا کہ ہم اسمبلی کو ڈی گریڈ کرنے والوں کے ساتھ شامل نہیں ،ہم خاندانی ہیں،ان لوگوںنے کل اپنا جنازہ نکالا ،انہیںدوبارہ اسمبلی میں نہیںآنا ہے ۔رکن سندھ اسمبلی اور جماعت اسلامی کے رہنما سید عبدالرشید نے بھی کل کے واقعات کو افسوس ناک قرار دیا اور کہا کہ اس وقت پولیس کا طرز عمل جیالوں جیسا ہے۔ کارروائی کے دوران ایوان میں موجود پی ٹی آئی کے واحد رکن فردوس شمیم نقوی کچھ کہنا چاہتے تھے تاہم اسپیکرنے انہیںبات کرنے سے روک دیا۔ بعدازاں اسپیکر نے سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی دوپہر دو بجے تک ملتوی کردیا۔