پاکستان کے سالانہ جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہر سال تمباکو سے لاحق بیماریوں کی نظر ہو جاتا ہے۔ اسپارک

153

کراچی(رپورٹ:منیرعقیل انصاری) سماجی تنظیم اسپارک کے زیر اہتمام کراچی کے مقامی ہوٹل میں پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر اضافی ٹیکس کے حوالے سے سمینار منعقد ہوا۔

جس میں صحت پر کام کرنے والے کارکنوں نے وفاقی سالانہ بجٹ 2021-22 میں تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ نہ کرنے کے حکومت کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا۔

شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پرنسپل اکنامکس محمد صابر نے بتایا کہ تمباکو نوشی سے متعلق براہ راست لاگت صحت کے کل اخراجات کا 8.3 فیصد ہے، جو پاکستان کے جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے۔ اس کے مقابلے میں، تمباکو کی صنعت میں ٹیکس کی کل شراکت (2019 میں 120 بلین) تمباکو نوشی کی کل لاگت کا صرف 20 فیصد ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ ٹیکس کا نظام تمباکو کی صنعت کو سستا سگریٹ بیچنے میں مدد کرتا ہے۔ تمباکو کے استعمال کے معاشی اور صحت کے اخراجات پر غور کرتے ہوئے موجودہ ٹیکس کی شرح میں چار سے پانچ گنا اضافہ درکا ہے۔

تاہم،ابتدائی طور پر، یہ ضروری ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ڈبلیو ایچ او کے تجویز کردہ حد کو پورا کرنے کے لئے سگریٹ پیک کی خوردہ قیمت کا 70 فیصد ایکسائز ٹیکس کے طور پر اضافہ کرے۔

میڈیا منیجر کاشف مرزا نے کہا کہ پاکستان میں سگریٹ کی قیمتیں دنیا میں سب سے کم ہیں۔ خوردہ قیمت کا اوسطاً 45.4 فیصد ایکسائز ٹیکس شیئر ڈبلیو ایچ او کی اس تجویز سے بہت کم ہے کہ ایکسائز ٹیکس خوردہ قیمت کا کم از کم 70 فیصد ہونا چاہئے۔

فی الحال، سگریٹ پر ایکسائز ٹیکس کی موثر شرح اب بھی وہی ہے جو 5 سال پہلے تھی.فیڈرل ایکسائز ٹیکس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی،اتنی آسان قیمت خرید کی وجہ سے، پاکستان میں روزانہ 6 سے 15 سال کی عمر کے 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کردیتے ہیں۔پروجیکٹ منیجر شمائلہ مزمل نے کہا کہ تمباکو کی صنعت سے ہر سال لگ بھگ 170,000افراد کی بیماریوں کے سبب موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو مالی سال 2021-22 کے لئے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس کو حتمی شکل دیتے ہوئے افراط زر کی بڑھتی ہوئی شرح پر غور کرنا چاہیے تھا۔

مہنگائی میں اضافے اور ڈالر کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے، زندگی گزارنے کے لئے بنیادی سامان کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ، تمباکو کی مصنوعات کی قیمتیں پچھلے 4-5 سالوں سے یکساں ہیں۔ ان میں بھی اضافہ ہونا چاہئے تھا۔

بین المذاہب ہم آہنگی کے علامہ احسان صدیقی نے کہا کہ ہمیں پاکستان کے مستقبل کے معماروں کو بچانے کیلئے تمباکو مصنوعات کے خلاف اپنے گھر سے بھرپور مہم کا آغاز کرنا ہوگا اور اس میں تمام مذہبی رہنماؤں کو بھی اپنے ساتھ لے کر چلنا ہوگااور تمباکو کی مصنوعات پر بھاری ٹیکس لگانے سے نہ صرف تمباکو کے استعمال اور اس کی رسائی میں کمی آئے گی بلکہ بچوں کو بھی تمباکو سے دور رکھا جاسکے گا۔

سیمینار میں کاشف بشیر، راحیلہ مسرور، سرویچ ایڈوکیٹ، بشریٰ احسان، عمران شریف، مسعود وارثی، عبدالصمد تاجی، یعقوب احمد شیخ، شکیل ذکی، جنید احمد راجپوت، خالد خان، نور امین ودیگر سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔