بچوں میں نکسیر پھوٹنا، والدین کے لیے پریشانی اور خوف کا سبب

260

نکسیر پھوٹنا ایک مشکل صورتحال ہوسکتی ہے جس میں یہ طے کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ آیا اسے قدرتی طور پر رکنے دیا جائے یا طبی مدد طلب کی جائے۔

ویب سائٹ میں شائع رپورٹ کے مطابق بچوں میں نکسیر پھوٹنا ایک عام مسئلہ ہے لیکن یہ اکثر والدین کے لیے پریشانی اور خوف کا سبب بنتی ہے جبکہ یہ عام طور پر تھوڑے عرصے ہوتی ہے اور شاذ و نادر ہی کسی بڑی تشویش کا سبب بنتی ہے، تاہم  مسلسل اور کثرت سے یا بہت شدید خون بہہ جانے کی صورت میں بچے کو طبی امداد کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

شائع رپورٹ کے مطابق عموماً نکسیر اپھوٹنا ان بچوں میں عام ہے جن کی عمر 2 سے 10 سال کے درمیان ہوتی ہے۔

اگر نکسیر بار بار آتی ہے تو بچے کو کب ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہیے؟

نوزائیدہ اور بچوں کی خون کی رگوں میں جلن: ماہرین کا کہنا ہے کہ چہرے پر چوٹ لگنے سے ناک میں خون کی نالیوں میں جلن پیدا ہوسکتی ہے، جس سے بچے کو نکسیر آئے گی اور یہ نکسیر بہنے کی ایک عام وجہ ہوتی ہے۔

زیادہ تر نکسیر ناک کے اگلے نرم حصے سے آتی ہے کیونکہ ناک کا یہ حصہ خون کی بہت سی چھوٹی چھوٹی نالیوں پر مشتمل ہوتا ہے جن میں تھوڑا سا اتار چڑھاؤ یا سوجن ہوجائے تو خون بہنے لگتا ہے۔

ناک کے پچھلے حصے سے نکسیر بہت کم ہوتی ہے اور یہ بچوں میں شاذ و نادر ہی ہوتا ہےجبکہ اگر ناک کے پچھلے حصے سے نکسیر بہنے لگے تو اسے روکنا مشکل ہوتا ہے۔

خون کی رگوں میں سوزش کی وجوہات: خشک ہوا، ناک کو  سختی سے صاف کرنا، الرجی کی وجہ سے ناک کی سوزش، چہرے یا ناک پر گیند یا گرنے سے چوٹ آنا، نزلہ اور زکام وغیرہ، ناک کے سپرے کا زیادہ استعمال۔

نکسیر پھوٹنے سے بچاؤ: بچوں میں نکسیرکو روکنا ممکن نہیں ہوسکتا ہے لیکن اسے کم کرنے میں مدد کے لیے اقدامات کیے جاسکتے ہیں، ان میں یہ شامل ہیں: ناک میں پانی ڈالنا،  نمکین پانی کا استعمال کرکے بچے کی ناک کو نم رکھے رکھنا، ناک کو انفیکشن سے بچانے کے لیے الرجی کا علاج کرنا۔

ہوا کی خشکی سے بچانے کے لیے بچے کے کمرے میں ایئر کنڈیشن چلانا، بچوں کو کھیلوں یا دیگر سرگرمیوں کے دوران مناسب حفاظتی سامان پہننے کی ترغیب دینا جہاں وہ خود کو زخمی کرسکتے ہیں۔

خیال رہے بعض اوقات خون بہنے سے خطرناک صورتحال پیدا ہوسکتی ہے لیکن نکسیر کی صورت میں صرف 10 فیصد میں طبی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

بچوں کو نکسیر آنے کی وجوہات: خشک ہوا، چاہے یہ گرم انڈور ہوا ہو یا خشک آب و ہوا ہو، بچوں میں نکسیر کی سب سے عام وجہ خشک ہوا ہے جو ناک کی جھلیوں کو خشک کردیتی ہے۔

ناک کو کھرچنا یا رگڑنا، نکسیر آنے کی وجوہات میں سے یہ دوسری سب سے عام وجہ ہے کیونکہ ناک کو کھرچنے یا رگڑنے سے ناک میں خارش ہوتی ہے جو ناک میں خون کی نالیوں سے نکسیر کا سبب بنتی ہے۔

جب کسی بچے کو ناک میں چوٹ لگتی ہے تو ناک سے خون بہتا ہے، اور زیادہ تر وقت یہ کوئی مسئلہ نہیں ہوتا ہے لیکن اگر آپ دس منٹ تک خون بہنے سے روک نہیں سکتے تو آپ کو طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔

کوئی بھی بیماری جس میں ناک کی جلن کی علامات شامل ہوں، نکسیرکی وجہ سے ہوسکتا ہے۔

بیکٹیریل انفیکشن، بیکٹیریل انفیکشن کی وجہ سے ناک کے اندر اور ناک کے سامنے والے حصے میں انفیکشن خون بہنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

اگر آپ کے بچے کو نکسیر مندرجہ بالا وجوہات کے علاوہ آتی ہے توڈاکٹر سے رجوع کریں۔

بار بار نکسیر آنا پریشانی کب مسئلہ بن جاتی ہے؟

ماہرین کے مطابق کئی بچوں کو سالوں میں صرف ایک یا دو  بار نکسیر آتی ہے، لیکن کچھ بچوں کو یہ مسئلہ بار بار پیش آتا ہے اور  یہ اس وقت ہوتا ہے جب بچے کی ناک کی اندر سے کمزور ہوجاتی ہے اور معمولی وجوہات  سے خون کی نالیوں سے نکسیر بہنا شروع ہوجاتی ہے۔

نکسیر پھوٹنے کی ایک اور وجہ دل کے امراض سے متعلق دوائیاں بھی ہوتی ہیں، ان کے مطابق جگر، گردے اور خون کی بیماریوں میں مبتلا افراد عموماً نکسیر کی بیماری کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔