سیکولر نصاب قبول نہیں اسلامی اقدار پر مبنی نظام تعلیم ناگزیر ہے،سراج الحق

155
لاہور: امیر جماعت اسلامی سراج الحق منصورہ میں مشاورتی اجلاس کی صدارت کررہے ہیں، سیکرٹری جنرل امیر العظیم بھی موجود ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہاہے کہ ملک میں ایسے نظام تعلیم کی ضرورت ہے جو اپنے اندر جدید اور اسلامی اقدار سموئے ہوئے ہو۔ حکومت قوم کو ایک تعلیمی نصاب دینے میں ناکام ہو گئی۔ سیکولر اور مغرب زدہ نصاب کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ملک کو توانا بنانے کے دعوے داروں نے توانائی سمیت ہرشعبہ کمزور کردیا۔ زرعی ملک اگر اجناس درآمد کر رہاہے تو یہ لمحہ فکر ہے۔ فوڈ سیکورٹی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے اعلانات نہیں اقدامات کی ضرورت ہے۔ توانائی کے شعبے میں گردشی قرض ڈھائی ہزار ارب تک پہنچ گیا ہے۔ یہی پالیسیاں جاری رہیں تو آئندہ2 سال میں یہ رقم د گنی ہو جائے گی۔ موجودہ اورسابق حکومتیں اگر ڈیموں کی تعمیر پر توجہ دیتیں تو بجلی کی قیمت آسمانوں پر نہ جاتی۔ سی پیک کے تحت بنائے گئے انڈسٹریل زونز ویران پڑے ہیں۔ کپاس کی پیداوار 50 فی صد تک کم ہو گئی ہے۔ حکومت نے 3 سال میں زراعت و صنعت کی ترقی کے لیے کچھ نہیںکیا۔ ملک میں جمہوریت مضبوط کرنے کے لیے اقتدار نچلی سطح پر منتقل کرنا ہو گا، سیاسی جماعتیں اپنے اندر جمہوریت لائیں۔ بلدیاتی الیکشن سے گریز کی وجہ سے مزید مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ صاف اور شفاف انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کو مضبوط اورخودمختار ادارہ بنانا ہو گا۔ سابق اور موجودہ حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے ملک میں ادارے مستحکم نہیں ہوسکے۔ نظام ٹھیک ہوتو افراد کی کمزوریاں کور ہو جاتی ہیں۔ امریکا کی پسپائی افغان عوام کی تاریخی فتح ہے۔ افغانستان میں امن پاکستان اور خطے میںامن کی ضمانت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے منصورہ میں اپنے مشیران کے ساتھ ایک میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم ، سراج الحق کے مشیر برائے تعلیمی امور پروفیسر ابراہیم، مشیر برائے افغان امور شبیر احمد خان، مشیر برائے توانائی امور محمد بشیر لاکھانی، مشیر برائے قانونی امور عبدالرحمن انصاری ایڈووکیٹ، مشیر برائے زرعی امور حافظ فصیح احمد خان اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف نے شرکت کی۔ منصورہ میں 4 گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں ملک کو درپیش صنعتی، زرعی ، تعلیمی اوردیگر چیلنجز سے متعلق تفصیلی گفتگو ہوئی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ جماعت اسلامی تمام شعبوں میں بہتری کے لیے حکمرانوں کو تجاویز، عوام میں آگاہی اور اپنے تئیں کوششیں جاری رکھے گی۔سراج الحق کا کہنا تھا کہ پاکستان کو فوڈ سیکورٹی کے بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ ملک میں پانی کی فی کس دستیابی70 فی صد تک کم ہو چکی ہے۔ زیرزمین پانی کی سطح د گنا نیچے جا چکی ہے۔ کسان کو اپنی فصلوں کے لیے پانی دستیاب نہیں۔ موجودہ اور سابق حکومتوںنے اس مسئلے پر کبھی توجہ نہیں دی۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ فی الفور ملک میں واٹر ایمرجنسی نافذ کریں، پانی کے ذخائر کی تعمیر کے لیے ٹارگٹس فکس اور ان پر تیزی سے کام شروع کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ فوڈسیکورٹی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے زرعی پیداوار کو بڑھانا ہو گا، حکومت اگر زرعی مداخل کی قیمتوں میں کمی لائے اور کسانوں کو اعلیٰ بیج، کھاداور ادویات میسر ہوں تو کوئی وجہ نہیںکہ زرعی پیداوار دگنا ہو سکتی ہے۔ پڑھے لکھے نوجوانوں کو لیز پر زرعی زمینیں دی جائیں اور زراعت میں ماڈرن ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑھایا جائے۔ حکومت زرعی مشینری پر ٹیکسز کو ختم کرے اور کسانوں کو ڈائریکٹ سبسڈی دے۔ امیر جماعت نے کہاکہ پی ٹی آئی کی حکومت ہر طرح سے ناکام ہوچکی ہے۔ وزیراعظم کے یوٹرنز کی وجہ سے عوام اب ان پر مزید اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ انہوںنے کہاکہ 3 برس میں پی ٹی آئی کی حکومت لوگوں کو کسی بھی قسم کا ریلیف نہیں دے سکی۔ مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی کے مسائل جوں کے توں ہیں۔انہوں نے کہاکہ تینوں بڑی پارٹیاں عوامی اعتماد کھو چکی ہیں۔ حکمران طبقہ آئندہ الیکشن میں لوگوں کو مزیدبے وقوف نہیں بنا سکتا۔ امیر جماعت نے کہا کہ قوم متحد ہو کر ملک میں پرامن اسلامی جمہوری انقلاب کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دے۔ نظام کی تبدیلی کے لیے نوجوانوں کو آگے بڑھنا ہوگا۔ پڑھے لکھے اور باشعور عوام جب تک متحد ہو کر ظالمانہ نظام، جاگیرداروں، کرپٹ سرمایہ داروں کے خلاف جدوجہد نہیں کریں گے، پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کو عوام نے موقع دیا تو تعلیم وصحت کے شعبے میں جدیدیت لائیں گے۔