سندھ اسمبلی میں اپوزیشن نے جمہوریت کا جنازہ نکال دیا ،صحافیوں کے تحفظ کا بل دوبارہ منظور

74
کراچی: اپوزیشن ارکان جمہوریت کے تابوت کے لیے چادر لے کر آرہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روزشدید ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا، اپوزیشن ارکان جمہوریت کے علامتی جنازے کے طور پر ایوان میں چار پائی اٹھا کر لے آئے ،اسپیکر نے حزب اختلاف کے اس اقدام کو ایوان کی سنگین بے حرمتی قراردیتے ہوئے ذمے دار ارکان کے خلاف کارروائی کرنے کا اعلان کردیاہے۔ایوان میں سخت نعرے بازی اور شور شرابے کے باعث وقفہ سوالات چند لمحوں میں نمٹ گیا۔توجہ دلا ئونوٹس اور اپوزیشن کے رکن محمد حسین کی تحریک استحقاق پربھی بات نہ ہوسکی البتہ ہلڑ بازی کے دوران ایوان نے صحافیوں کے تحفظ کے بل کی دوبارہ منظور ی دیدی جسے گورنر سندھ نے بعض اعتراضات کے ساتھ واپس کردیا تھا۔گزشتہ روز سندھ اسمبلی کا اجلاس 2 بجے کے مقررہ وقت کے بجائے تقریباً3 بجے ایک گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا تو وقفہ دعا کے دوران پی ٹی آئی کے2ارکان عدیل احمد اور ادیبہ حسن نے نشستوں سے کھڑے ہوکر کہا کہ سندھ میں جمہوریت کی موت ہوگئی ہے دعا کرائی جائے۔ دعاکے بعد اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ بھی نشست سے کھڑے ہوگئے اور انہوں نے بولنے کی کوشش کی تو اسپیکر نے رولنگ دی کہ وہ انہیں وقفہ سوالات کے بعد بات کرنے کی اجازت دیں گے ۔حلیم عادل شیخ نے اصرار کیا کہ ان کی بات سنی جائے تو اسپیکر نے کہا کہ میں کسی کی ڈکٹیشن نہیں لوںگا۔ اس موقع پرحلیم عادل شیخ کا مائیک بند کردیا گیا لیکن انہوں نے اپنی بات جاری رکھی اورایوان میں زبردست شور شرابہ شروع ہوگیا۔اسپیکر نے وقفہ سوالات شروع کرنے کا علان کردیا لیکن ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی کے باعث اپوزیشن کے کسی رکن نے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سے متعلق وقفہ سوالات میں اپنا کوئی سوال نہیں پوچھا حالانکہ اسپیکر نے ان کے نام پکارے تھے بعد میںاسپیکر آغا سراج درانی نے خاموش رہنے والے اپوزیشن ارکان کے سوالات ختم کردیے ۔اپوزیشن ارکان نشستوں سے کھڑے ہوگئے اور شدید نعرے بازی شروع کردی۔ہنگامہ آرائی کے دوران کچھ اپوزیشن ارکان اپنے کاندھوں پر چارپائی اٹھاکر ایوان میں لے آئے ،کچھ کے ہاتھوں میں بستر بھی تھے۔اسمبلی اسٹاف نے انہیں روکنے کی کوشش کی مگرپی ٹی آئی ارکان منع کرنے کے باوجود چارپائی لیکر ایوان میں زبردستی داخل ہوئے۔اس موقع پر پی ٹی آئی کی خاتون رکن سدرہ عمران نے اسمبلی اسٹاف کو متنبہ کیا کہ مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش مت کرنا۔اسپیکرآغا سراج نے اس صورتحال پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ اسمبلی کی بے حرمتی کررہے ہیں،انہوں نے اسمبلی اسٹاف کو ہدایت کی کہ چار پائی اور بستروں کو باہر پھینک دیں۔ اپوزیشن ارکان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے سندھ میں جمہوری اقدار اور روایات کا جنازہ نکال دیا ہے، اس لیے وہ جمہوریت کے علامتی جنازے کے طور پر چارپائی لانے پر مجبور ہوئے ہیں۔وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چائولہ نے ایوان میں جاری بدنظمی کے حوالے سے کہا کہ ان لوگوں نے پورے ملک اورغریب آدمی کا جنازہ نکال دیا ہے،کچھ تو شرم کرو ۔ ایوان نے شور شرابے کے دوران صحافیوں کے تحفظ کے بل کی دوبارہ منظور ی دی۔وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ نے کہا کہ یہ خود نئے نئے آرڈینس نکال دیتے ہیں،گورنر نے صحافیوں کے بل پر اعتراض لگایا ہے لیکن ہم دوبارہ بل منظور کررہے ہیں۔اس موقع پر اپوزیشن ارکان نے نعرے لگانے شروع کردیے کہ اجلاس نہیں چلے گا،ان کے ہاتھوں میں ایک بینر بھی تھا جس پر تحریر تھا کہ جمہوریت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے ۔اسپیکر نے کہا کہ جنہوں نے اسمبلی کی بے حرمتی کی ہے ان کے خلاف ایکشن لوں گا۔ مکیش کمار چائولہ نے کہا کہ ہم ہمیشہ صحافیوں کو سپورٹ کرتے آئے ہیں اس لیے آج صحافیوں کے تحفظ کا بل دوبارہ منظور کیا۔اپوزیشن کے شور شرابے میں صحافیوں کے تحفظ کا بل ایوان سے دوبارہ منظور کرلیا گیا،جس کے بعد اسپیکر نے اجلاس (آج)منگل کی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کردیا ۔