امریکہ کا عراق و شامی سرحد پرفضائی آپریشن، 17 جنگجو ہلاک

103

واشنگٹن: امریکہ کی جانب سے عراق اور شام کی سرحد پر فضائی حملے کیےگئے ہیں اور عراق اور شام میں ایران کی حمایت یافتہ ملیثیا کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ حملے میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پینٹاگون کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق عراق اور شام میں ایران کی حمایت یافتہ ملیثیا کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے  جبکہ ایران کی پشت پناہی میں سرگرم ملیشیا کے ٹھکانوں سے عراق میں امریکی فوجیوں اور اڈوں پر ڈرون حملے کیے جارہے تھے۔

پینٹاگون کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی گئی جبکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہلاکتوں اور دیگر ممکنہ نقصانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا نے شام کی انسانی حقوق کی تنظیم آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے حوالے سے بتایا ہے کہ شام پر کیے گئے امریکی حملوں میں 17 ایران نواز جنگجو مارے گئے ہیں۔

شام کی انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق ان حملوں میں ہتھیاروں سے لیس تین گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں پاپولر موبلائزیشن فورسز کے 17  جنگجو مارے گئے۔

واضح رہے  پینٹاگون کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن کے حکم پر ایران کی حمایت یافتہ ملیثیا کے تین ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور تنظیم کے آپریشنل اور ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے والے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ترجمان پینٹاگون کے مطابق عراق اور شام میں تعینات امریکی فوجیوں پر ایران کی پشت پناہی میں سرگرم ملیشیا کی جانب سے ڈرون حملوں کے جواب میں ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ صدر جوبائیڈن پہلے ہی واضح  کرچکے ہیں کہ وہ عراق میں تعینات امریکی اہلکاروں کی حفاظت کو ہر صورت یقینی بنائیں گے۔

یاد رہے  جو بائیڈن کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکہ کی جانب سے عراق میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے خلاف یہ دوسرا حملہ ہے اور حالیہ مہینوں میں عراق میں تعیانت امریکی افواج  کو متعدد بار ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ امریکہ ایران کو ان حملوں کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے، تاہم ایران ان حملوں سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کرچکا ہے۔