مودی سرکار کے 7 سال غربت اور بیروزگاری کے ریکارڈ قائم

153

نریندر مودی نے بھارت کی سیاسی بساط پر آتے ہی روزگار، خوشحالی میں اضافے اور سرخ فیتے کے خاتمے جیسے بلند بانگ وعدوں کی مدد سے تہلکہ مچا دیا تھا۔ آج سے 7 برس قبل 2014ء اور پھر 2019ء کے انتخابات میں نریندر مودی کی جماعت کو ملنے والے بھاری مینڈیٹ سے عوام میں یہ امید ہو چلی تھی کہ وہ ملک میں قابل ذکر اصلاحات لائیں گے، لیکن اپنی وزارت عظمیٰ کے ان 7 برس میں اُن کی حکومت کا معاشی ریکارڈ کچھ زیادہ قابل ذکر نہیں ہے اور پھر کورونا وائرس کی وبا نے اُن کی کارکردگی کو مزید نقصان پہنچایا۔
مودی کی جانب سے 2025ء تک مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی کا طے شدہ ہدف 50 کھرب ڈالر کی معیشت قائم کرنے کا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ دعویٰ محض ایک خواب ہی لگتا ہے۔ کووڈ کی وبا آنے سے قبل ماہرین نے اندازہ لگایا تھا کہ اگر حالات ٹھیک چلتے رہے تو زیادہ سے زیادہ وہ تقریباً 26 کھرب ڈالر تک پہنچ سکیں گے اور اب وبا آنے کے بعد اس تخمینے میں سے 200 سے 300 ارب ڈالرز کی مزید کمی ہو گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی بڑھی قیمتوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، لیکن صرف کووڈ ہی اس صورتحال کا ذمے دار نہیں ہے۔ بھارت کی مجموعی ملکی پیداوار یعنی جی ڈی پی وزیر اعظم مودی کے عہدہ سنبھالنے کے وقت 7 سے 8 فیصد تھا لیکن 2019-20ء کی آخری سہ ماہی تک یہ گر کر 3.1 فیصد تک پہنچ گیا تھا۔
5برس قبل 2016ء میں انہوں نے ملکی کرنسی پر پابندی لگائی تھی جس کی وجہ سے ملک میں استعمال ہونے والی نقد رقم میں 86 فیصد کمی آئی تھی اور ساتھ ہی ایک نیا ٹیکس لاگو کیا گیا تھا، جس سے کاروباری طبقے کی مشکلات بھی غیر معمولی طور پر بڑھ گئی تھیں۔ ان نامناسب فیصلوں نے دوسرے بڑے مسئلے کو جنم دیا۔
سینٹر فار مانیٹرنگ دا انڈین اکانومی (سی ایم آئی ای) کے سربراہ مہیش ویاس نے بتایا کہ بھارت کو درپیش سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک 2011-12ء کے بعد سرمایہ کاری میں ہونے والی کمی تھی۔ اور پھر 2016ء کے بعد سے معیشت کو متواتر جھٹکے لگے۔ مثلاً کرنسی پر پابندی، جی ایس ٹی اور لاک ڈاؤن وغیرہ جیسے فیصلوں سے بے روزگاری میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔
تازہ ترین اعداد شمار کے مطابق بے روزگاری کی شرح گزشتہ 45 برس میں سب سے زیادہ دیکھی گئی جب وہ 2017-18ء میں 6.1 فیصد تھی اور سی ایم آئی ای کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق اب یہ شرح دگنی ہو چکی ہے۔ رواں برس کے آغاز کے بعد سے اب تک ڈھائی کروڑ افراد بے روز گار ہو چکے ہیں اور مزید ساڑھے 7 کروڑ بھارتی شہری خط غربت سے نیچے چلے گئے ہیں۔
تحقیقی ادارے پیو ریسرچ کے مطابق غربت کا شکار ہونے والوں میں سے ایک تہائی، ملک کے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے تھے، جنہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں میں بھارت میں ہونے والی معاشی ترقی کی بنا پر اپنے معاشی حالات کو بہتر بنایا تھا۔ اجیت رنادے کے مطابق بھارتی معیشت کو سالانہ کم از کم 2 کروڑ نئی نوکریوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن نریندر مودی کی حکومت ایسا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
مودی کا ایک بڑا دعویٰ یہ تھا کہ وہ میڈ ان انڈیا یعنی بھارت میں بنائی گئی مصنوعات کے فروغ کو ترجیح دیں گے اور ملک کو عالمی طور پر ایک ایسے طاقتور ملک کے طور پر پیش کریں گے جہاں سرخ فیتے یعنی سرکاری اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم سے کم کیا جائے گا اور ملک کو برآمدات کا مرکز بنانے کے لیے بڑی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ مودی نے وعدے کیے تھے کہ وہ ملک میں صنعت و حرفت یعنی مینوفیکچرنگ کے شعبے کو اتنی وسعت دیں کہ وہ جی ڈی پی کا 25 فیصد حصہ بن جائے لیکن ناقص پالیسیوں کے نتیجے میں حکومت میں 7 برس رہنے کے باوجود یہ حصہ 15 فیصد سے زیادہ بڑھ نہیں سکا ہے۔
اس سے بھی زیادہ بری خبر سینٹر فار اکنامک ڈیٹا اینڈ انالسسز کی جانب سے کی گئی تحقیق میں سامنے آئی جس میں کہا گیا کہ گزشتہ 5 برس میں مینوفیکچرنگ کے شعبے میں آدھی نوکریاں ختم ہو گئی ہیں۔ بھارت کی برآمدات گزشتہ ایک دہائی سے 300 ارب ڈالر سے بڑھ نہیں سکیں۔ نہ صرف ان میں اضافہ نہیں ہوا، بلکہ نریندر مودی کے دور میں بھارت، بنگلا دیش جیسے علاقائی حریفوں کے ہاتھوں مارکیٹ شیئر بھی ہار رہا ہے۔ بنگلا دیش جس نے برآمدات پر توجہ دے کر قومی شرح نمو میں تیزی سے اضافہ کیا ہے، اُن کی خاص توجہ ملک کی گارمنٹس کی صنعت پر تھی، لیکن دوسری جانب مودی کی حکومت میں انفراسٹرکچر کی تعمیرات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ماہرین معیشت اخراجات میں اضافے اور ٹیکسز کی مد میں آمدنی نہ آنے کی وجہ سے بھارت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے مالی خسارے کے بارے میں پریشان ہیں۔ معاشی ماہر ریتیکا کھیرا کا کہنا ہے کہ ماضی کی حکومتوں کی طرح اس حکومت نے بھی صحت کے شعبے کو نظر انداز کیا ہے۔ حکومت کی ترجیح تیسری سطح کی صحت کی صورتحال پر ہے، بجائے پرائمری درجے پر کام کرنے کے۔ ریتیکا کے مطابق یہ امریکی ماڈل ہے جو کہ نہایت مہنگا ہے اور اس میں مجموعی طور پر عوامی صحت بھی بہتر نہیں ہوتی۔ اب بھی بڑی تعداد میں لوگ زراعت کے شعبے سے منسلک ہیں۔ بھارت میں وہ لوگ جو نوکری کرنے کی عمر تک پہنچ چکے ہیں ان میں سے نصف سے زیادہ زراعت کے شعبے سے منسلک ہیں لیکن یہ شعبہ جی ڈی پی میں زیادہ حصہ نہیں دے پا رہا۔
تقریباً ہر کوئی اس بات سے اتفاق کرتا ہے کہ بھارت کا زرعی شعبہ اصلاحات کا متقاضی ہے۔ مارکیٹ نواز اور کسان دشمن قوانین کو گزشتہ برس منظور کیا گیا تھا لیکن اس کے بعد ہونے والے احتجاج کے باعث وہ سلسلہ آگے نہیں بڑھا کیونکہ کسانوں کا کہنا ہے کہ اس سے ان کی آمدنی میں کمی ہو گی اور یہ پورا منصوبہ مخصوص طبقے کو نوازنے کے لیے ہے جب کہ مودی حکومت کا دعویٰ تھا کہ اس سے کسانوں کی آمدنی دگنی ہو جائے گی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ان اصلاحات سے زیادہ کچھ حاصل نہیں ہو گا اور حکومت کو اس شعبے کو سودمند بنانے کے لیے زیادہ خرچہ کرنا ہو گا تاکہ یہ زیادہ منافع بخش بن سکے۔
زرعی اصلاحات سمیت کئی منصوبوں اور حکومتی پالیسیوں پر بی جے پی کی مرکزی حکومت اور اس کی کٹھ پتلی نریندر مودی کو گزشتہ 7 برسوں کے دوران منہ کی کھانی پڑی ہے اور عوامی سطح پر مودی سرکار کی مخالفت میں اضافہ ہوا ہے۔ ان برسوں میں اسلام خصوصاً مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافہ، شہریت جیسا متنازع قانون، مقبوضہ کشمیر کی ِ حیثیت تبدیل کرنا اور دیگر کئی متنازع اقدامات سے مودی حکومت اپنے ملک کو تباہی کی جانب دھکیل دیا ہے۔