میانمر : آنگ سان سوچی نے جمہوریت کے نام پر آمریت کو تحفظ دیا

135

جب میانمر (برما) سے یہ خبریں آ رہی تھیں کہ انٹرنیٹ کاگراف گرتاجارہاہے،منتخب حکومت کاتختہ الٹ کراس کی سربراہ آنگ سان سوچی کوحراست میں لیاجاچکاہے،فوجی دستے سڑکوں پرگشت کررہے ہیں۔ آنگ سان سوچی کبھی جمہوریت کی جاں بازسپاہی کادرجہ رکھتی تھیں۔ اس حیثیت میں مغرب ان کابہت احترام کرتاتھا۔اب سوال یہ ہے کہ میانمر میں جوکچھ ہوااس کے حوالے سے عالمی برادری کاردِعمل کیا ہونا چاہیے؟۔ ایک عشرہ پہلے تک آنگ سان سوچی چمکتا ہواستارہ تھیں۔ آج وہ بہت بدل چکی ہیں۔ اب انہیں ایک ایسی سیاستدان کے طورپر دیکھا جاتا ہے، جوفوجی اقتدارکی محافظ کے طورپر سامنے آئی ہے۔ آنگ سان سوچی نے میانمرکی فوج کے ظالمانہ وغیرمنطقی اقدامات کابھی دفاع کیاہے اوربعض معاملات میں توانہوں نے فوج کے ہاتھوں قتلِ عام اورنسلی تطہیر تک کودرست قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف جانے سے صاف گریزکیاہے۔ کیادنیابھرکی جمہوریتوں کوآنگ سان سوچی کی رہائی کامطالبہ کرنا چاہیے یا ان کی طرف سے کچھ مدت سے فوج کے بہیمانہ اقدامات کی حمایت اورتنقیدسے گریزکی بنیادپرعالمی برادری کوخاموش رہنا چاہیے؟
میانمر کی فوج نے منتخب حکومت کاتختہ الٹنے کے بعدایک سال کے لیے ہنگامی حالت کااعلان کیا۔ آنگ سان سوچی کودرآمدشدہ غیرقانونی واکی ٹاکی رکھنے کے جرم میں 2 سال قیدکا حکم سنایاگیاہے۔ کئی دوسری حکومتی شخصیات کوبھی گرفتار کرلیا گیا۔ گزشتہ برس کے انتخابات اوران کے نتیجے میں حکومت کے قیام کے بعدسے اب تک فوج اورسیاستدانوں کے درمیان تنازع چل رہاتھا۔انتخابات میں آنگ سان سوچی کی نیشنل لیگ فارڈیموکریسی نے شاندارکارکردگی کامظاہرہ کیاتھااورفوج کی حمایت یافتہ پارٹی کامعاملہ مایوس کن رہاتھا اور بالآخر فوج نے ایک بار پھر اقتدارپرقبضہ کرلیا۔ مغرب کومیانمرمیں فوجی اقتدارسے نمٹتے ہوئے58سال ہوچکے ہیں۔ میانمرکی فوج نے1962ء میں اقتدارپرقبضہ کیاتھا۔ تب سے اب تک یہ ملک بیشتروقت فوج کے ہاتھ میں رہاہے۔1989ء تک یہ ملک برماکہلاتاتھا۔فوجی حکومت نے اس کانام تبدیل کرکے میانمر رکھا۔ تب ملک کی جنگِ آزادی کے ہیروجنرل آنگ سان کی بیٹی آنگ سان سوچی جمہوریت کے لیے چلائی جانے والی تحریک کی قیادت کی پاداش میں گھرمیں نظر بند تھی۔ برما میں جمہوریت کے لیے چلائی جانے والی تحریک نے دنیابھرمیں انسانی حقوق کے علم برداروں کی توجہ اپنی طرف کرلی۔
آنگ سان سوچی نے کم وبیش15سال تک ینگون(سابق رنگون)میں نظربندی بھگتی۔پھر1991ء میں انہیں امن کانوبل انعام دیاگیا، جس کے بعدانہیں عالمی سطح پرغیرمعمولی شہرت ملی۔ ان کے عزم کی بلندی اورجمہوریت کے حوالے سے سنجیدگی نے انہیں دنیابھرکے امن پسندعوام کی نظرمیں بڑارتبہ بخشا۔
آمرانہ اقتدارکے باعث میانمرکواقتصادی پابندیوں کابھی سامنا کرنا پڑا۔ ان پابندیوں نے میانمرکی فوج کے اقتدارکوکمزورکیا۔2010ء میں فوج نے آنگ سان سوچی سے سمجھوتا کیا۔اس کابنیادی سبب یہ تھاکہ عالمی اقتصادی پابندیوں کے باعث اقتدارپراس کی گرفت کمزورپڑچکی تھی۔ اس وقت کے امریکی صدراوبامااِس پراتنے خوش ہوئے کہ دو بار میانمر گئے۔ انہوں نے آنگ سان سوچی سے اسی گھرمیں ملاقات کی جس میں انہیں1 5سال تک نظربندی کا سامنا کرنا پڑاتھا۔ اوبامانے آنگ سان سوچی کوجمہوریت کی نمایاں علامت قراردیا۔ میانمرمیں فوجی اقتدارکاخاتمہ اوبامااوردنیابھرمیں انسانی حقوق کے علم برداروں کی بڑی کامیابی کے طور پردیکھااوردکھایاگیا۔
میانمرمیں آنگ سان سوچی کی حکومت کے خاتمے سے دنیابھرمیں جمہوریت پسندوں کودھچکالگاکیونکہ انہوں نے میانمرمیں جمہوریت کی خاطرطویل جدوجہد کی تھی۔آنگ سان سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے2015ء کے عام انتخابات میں شاندارکامیابی حاصل کی۔ تب تک ملک میں وہی آئین نافذتھاجوفوج نے نافذکیاتھا۔اس آئین کے تحت فوج کوغیرمعمولی اختیارات حاصل تھے۔پارلیمان میں فوج کو25فیصدنشستوں کی ضمانت بھی دی گئی تھی۔ وزارتوں میں بھی فوج کاحصہ متعین تھا۔وزارتِ دفاع اوروزارتِ داخلہ کوآئینی طورپرفوج کے ہاتھ میں رکھاگیاتھا۔آنگ سان سوچی سربراہِ حکومت توبن گئیں تاہم آئین کی رو سے وہ صدرنہیں بن سکتیں کیونکہ ان کے بچے برطانوی شہریت کے حامل تھے۔
فوج نے بیشتراختیارات اپنے ہاتھ میں رکھے تھے۔ یہی سبب ہے کہ جب فوج نے بنگلادیش کی سرحد سے ملحق علاقے میں روہنگیا مسلمانوں کوانتہائی سفاکی سے نشانہ بنایا، تب آنگ سان سوچی نے خاموش رہنامناسب جانا۔ اندرونی ذرائع بتاتے ہیں کہ ایساکرنے کابنیادی مقصداپنے اقتدارکوبچاناتھا۔ اب یہ بات کھل کرسامنے آچکی ہے کہ آنگ سان سوچی نے مسلمانوں کے قتلِ عام پرخاموش رہ کرجمہوریت کوکیا بچایا،اپنی ساکھ بھی داؤ پرلگادی۔ دنیابھرمیں یہ مطالبہ بھی کیاگیاکہ نوبل امن انعام واپس لے لیاجائے۔
میانمر میں عوام سڑکوں پرنکلے اور اب احتجاج کادائرہ وسعت اختیارکرتاجارہاہے۔ ینگون اوردیگربڑے شہروں میں بڑے پیمانے پر ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔ایسے میں سوال یہ پیداہوتاہے کہ جمہوریت کوبچانے کے نام پرجوکچھ کیاگیااس کی وقعت کیاتھی۔ آنگ سان سوچی نے جوکچھ کیاوہ بھی دنیاکے سامنے ہے اوراب عوام جوکچھ بھی کررہے ہیں وہ بھی اظہرمن الشمس ہے۔میانمرمیں جمہوریت اگربحال ہوسکتی ہے توصرف اس وقت جب عوام اپنے حصے کاکام کرتے رہیں۔ ان میں پایاجانے والاجوش ماندپڑگیاتو بات بن نہ پائے گی۔
میانمرمیں جمہوریت ایک مدت کے بعدبحال ہوئی تھی،مگراسے بچانے پرخاطرخواہ توجہ نہیں دی گئی۔ آنگ سان سوچی کاکردارزیادہ تعمیری اورقابلِ رشک نہیں رہا۔انہیں جہاں ڈٹ جاناچاہیے تھاوہاں انہوں نے پسپائی اختیارکی اوریہی ان کی غلطی تھی تاہم ہم ابھی تک ان کی نسلی منافرت کاوہ واقعہ بھی نہیں بھول سکے جب انہوں نے ایک عالمی ادارے کے ذرائع ابلاغ میں کام کرنے والی خاتون کوانٹرویودینے سے محض اس لیے انکارکردیاکہ وہ مسلمان تھی۔ ان کے دوراقتدارمیں جب بھی ان سے روہنگیاکے مسلمانوں کے قتل عام پرسوال کیاگیاتوانہوں نے اس کوجواب دینے کے بجائے سوال کرنے والے کومحض اس لیے ڈانٹ دیاکہ یہ ان کے ملک کااندرونی معاملہ ہے جبکہ دنیابھرکے میڈیانے اس سفاکی پران کی خاموشی پرانتہائی مایوسی کااظہارکیا۔یہی وجہ ہے کہ دنیابھرکے دانشور میانمرکی فوجی حکومت کی تومخالفت کررہے ہیں لیکن آنگ سان سوچی سے کسی نے ہمدردی کااظہارنہیں کیا۔