امریکا کا ساتھ دیا اور ہمیں ہی برا کہا گیا،وزیراعظم

204
اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان امیچور شارٹ فلم فیسٹیول کی تقریب سے خطاب کررہے ہیں

اسلام آباد(نمائندہ جسارت/مانیٹرنگ ڈیسک) و یراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم نے امریکا کا جنگ میں ساتھ دیا اور ہمیں ہی برابھلا کہا گیا، میں نے دوسروں کی جنگ میں پڑنے کی مخالفت کی تھی،امریکا کے لیے دہشت گردی کی جنگ کی مخالفت پر طالبان خان کہا جاتا تھا، دہشت گردی کی جنگ تھی تو سافٹ امیج لفظ سنتا تھا، سافٹ امیج کوئی چیز نہیں، سافٹ امیج کے لیے پاکستانیت کو پروموٹ کرنا ہوگا۔یہ بات وزیراعظم نے اسلام آباد میں منعقدہ ’’نیشنل امیچئور شارٹ فلم فیسٹیول‘‘ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار اور دیگر نے شرکت کی۔دنیا میں ہار سے ڈرنے والا کبھی نہیں جیتا ، جیت کے لیے رسک لینا پڑتا ہے، ہارنے کا خوف انسان کی صلاحیت میں رکاوٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ تھی تو سافٹ امیج لفظ سنتا ہوں کہ پاکستان کا سافٹ امیج دکھانا چاہیے، مجھے آج تک اس کی سمجھ نہیں آئی ، دہشت گردی کی جنگ میں شرکت کررہے تھے،امریکا کے لیے ہم دہشت گردی کی جنگ لڑ رہے تھے، ہمیں برا بھلا بھی کہا جارہا تھا، حالانکہ ہمیں امریکا کی دہشت گردی کی جنگ میں شرکت کرنے کی ضرورت نہیں تھی، میں شروع سے ہی اس کی مخالفت کی تھی، جب انہوں نے کہا کہ پاکستان خطرناک جگہ ہے، انتہاپسند اور دہشت گرد ہیں، ہمارے اندر سے ایک دفاع کرنے کی چیز سامنے آئی کہ پاکستان کا سافٹ امیج پروموٹ کریں گے تو دنیا کہے گی ہم بہت اچھے ہیں، سافٹ امیج کوئی چیز نہیں ہوتی ، احساس کمتری کی وجہ سے اس طرف لگ جاتے ہیں، میں اس سے گزرا ہوا ہوں مجھے طالبان خان کہتے تھے ،ماڈریٹ کیاچیز تھی؟مطلب ہم انگریزی بولنا شروع کردیں اور ان کی طرح کپڑے پہننا شروع کریں، تو یہ سافٹ امیج ہے کہ ہم آپ کی طرح ہی ہیں۔سافٹ امیج خودداری سے آتا ہے، دنیا اس کی عزت کرتی ہے جو اپنی عزت کرتا ہے، جس میں خودداری نہیں ، دنیا اس کی عزت نہیں کرتی، سافٹ امیج پروموٹ کرنا ہے تو پاکستانیت کو پروموٹ کریں ۔ہم نے بھارتی فلموں کو کاپی کرکے اپنی شناخت خراب کی فلم انڈسٹری سے متعلق انہوں نے کہا کہ فحاشی ہالی وڈ سے بالی وڈ اور پھر یہاں آئی، ہم نے بھارتی فلموں کو کاپی کرکے اپنی شناخت خراب کی، میں چاہتا ہوں ہماری فلم انڈسٹری اپنی سوچ لے کر آئے، ہم فلم انڈسٹری میں نئی سوچ لے کر آئیں گے۔عمران خان نے مزید کہا کہ یہاں کے بڑے بڑے لیڈر چھٹیاں گزارنے کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں، انہیں ملک کی خوبصورتی کا پتا ہی نہیں، سیاحت کو فروغ دے رہے ہیں۔