حق اور باطل ساتھ نہیں چل سکتے ،ملک لاقاونونیت کی لپیٹ میں ہے،سراج الحق

192
لاہور: امیر جماعت اسلامی سراج الحق مرکزی شوریٰ سے خطاب کررہے ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے حکومت کے اس دعوے کو کہ حالیہ بجٹ ریاست مدینہ کی تشکیل کی جانب بڑا قدم ہے کو جھوٹ اور دھوکا دہی سے تشبیہ دیتے ہوئے حکمرانوں سے سوال کیا ہے کہ سود اور غریب عوام پر ٹیکسز کی بھرمار کے ذریعے وہ کونسی اسلامی فلاحی ریاست بنانے جا رہے ہیں۔اگر ملک پر مسلط اشرافیہ کو وقت ملے تو عام آدمی سے بات کرکے اس کے حالات جاننے کی کوشش کرلی جائے۔ باطل اور حق ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے،پورا ملک لاقانونیت کی لپیٹ میں ہے ۔ حکومت ایک جانب دعوے کررہی ہے کہ غریب آدمی کی حالت بدل دیں گے ، زراعت اور توانائی کے شعبے میں انقلاب آجائے گا مگر دوسری جانب سرمایہ دارانہ پالیسیاں اور آئی ایم ایف کی غلامی جاری ہے۔ لاپتا افراد کی بازیابی میں موجودہ حکومت بھی ناکام رہی ۔وفاقی اور صوبائی تعصبات پر مبنی سیاست قومی سلامتی اور وحدت کے لیے خطرہ ہے۔ قومی و صوبائی اسمبلیاں و سینیٹ 3 سال سے مسلسل ناکام ، عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان کی تکالیف میں اضافہ کررہی ہیں۔ شفاف و غیر جانبدارانہ الیکشن بحرانوں کا واحد حل ، قومی اتفاق رائے سے انتخابی اصلاحات ملک کی ضرورت ہیں۔ موجودہ سیاسی بحران کا ذمے دار وزیراعظم کا اسلوب حکمرانی ہے ۔ معیشت میں بہتری لانے کا واحد حل کرپشن سے پاک معاشرے کی تشکیل، گڈگورننس اور اداروں کی مضبوطی ہے۔ بدقسمتی سے پی ٹی آئی نے ملک کو 3 سال میں مزید بحرانوں سے دوچار کیا۔ دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ بجٹ میں اعلان کیا گیا ترقیاتی فنڈ قبائلی علاقوں ، بلوچستان ، سندھ اور پنجاب کے پسماندہ علاقوں پر لگے اور غریب کو کچھ ریلیف ہو۔ ٹیکس اہداف اگر70 فیصد تک بھی حاصل ہوگئے تو معجزہ ہوگا۔ حکمران طبقے میں جس چیز کی کمی ہے وہ نیت کا صاف نہ ہونا ہے۔ 2 فیصد اشرافیہ جان بوجھ کر غریب اور مڈل کلاس فرد کو ترقی کرتا برداشت نہیں کرسکتی۔ عام لوگوں کا راستہ روکا جاتا ہے اور چند ارب پتی فیملیز کے لوگ چچا بھتیجا ، ماموں بھانجا کی شکل میں ایوانوں پر قابض ہیں۔ خودمختار اور ترقی یافتہ اسلامی پاکستان کے حصول کے لیے قرآن و سنت سے رہنمائی لینا ہوگی، کوئی دوسرا چارا نہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ملک پر قانون کی حکمرانی اور نظام مصطفی ؐکے قیام کے لیے جاری جدوجہد میں مزید تیزی لائی جائے۔ آنے والے دنوں میں ظالم حکمرانوں سے نجات کے لیے ملک کے طول وعرض میں تمام طبقات کو متحرک کیا جائے گا۔ وہ منصورہ میں جاری مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس کے دوسرے روز حاضرین سے گفتگو کررہے تھے۔امیر جماعت نے جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن کے پہلے یومِ وفات کے موقع پر ان کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کرائی اور ان کی دین ، عالم اسلام اور پاکستان کے لیے خدمات پر انہیں زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ سید منور حسن کی زندگی اور جدوجہد جماعت اسلامی سے وابستہ ہر فرد کے ساتھ ساتھ تمام پاکستانیوں کے لیے ایک نمونہ ہے۔ مرحوم سچے ، کھرے اور نڈر انسان تھے۔ ان کی زندگی ایک جہد مسلسل کا نام ہے۔ سید منور حسن دینی اور سیاسی میدان میں عمر بھر متحرک رہے۔ وہ ایک بہترین بیٹے ، بھائی، خاوند، والداور دوست تھے۔ ان کی گفتگو میں دریا کی سی روانی تھی اور ان کا سینہ علم کے نور سے منور تھا۔ وہ دیانتدار، اعلیٰ پائے کے منتظم اور محب وطن پاکستانی تھے۔ انہوں نے دین اسلام کی سربلندی اور پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت بنانے کے لیے کئی دہائیاں ان تھک محنت کی۔ سراج الحق نے اس عہد کا اعادہ کیا کہ جماعت اسلامی مشکل حالات اور لمیٹڈ ریسورسز کے باوجود انسانیت کی خدمت ، لوگوں کی بھلائی اور پاکستان کو عظیم مملکت بنانے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ہماری سیاست کا مقصد لوگوں کی انفرادی اور اجتمائی زندگیوں میں قرآن کا انقلاب برپا کرنا ہے۔ آئیے عہد کریں کہ زندگی کی آخری سانس تک اللہ کے دین کی خدمت جاری رکھیں گے۔