مربی ، مفکر، مجاہد ، قائد…منور

98

ایڈیٹر روزنامہ جسارت

سید منور حسن کے بارے میں لوگ جتنا لکھیںکم ہی ہوگا چند روز یہ لکھنے لکھانے کا سلسلہ رہے گا اور پھر سال بہسال انہیں یاد کیا جاتا رہے گا اور بس… منور صاحب کے بارے میں اکثر لوگوں کا کہنا اور لکھنا ہے کہ وہ تقریر بڑی اچھی کرتے تھے۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں۔ لیکن منور صاحب کی تقریر اور گفتگو میں ہوتا کیا تھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ ایمان، عمل، آخرت، گناہ ثواب، اللہ کی رضا شیطان سے ہر لمحے جنگ اور مخلوق خدا خصوصاً مظلوم کی آواز بننا یہ سب کچھ ان کی تقریروں میں ہوتا تھا اور تقریر کیا ان کی پوری زندگی انہی چیزوں کے گرد گھومتی تھی۔ سید منور حسنؒ سے براہ راست ملاقاتیں اور مجلسیں صحافت میں آنے کے بعد ہوئیں اور اتنی ہوئیں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ساتھ جاری ہے۔ ان ہی دنوں میں جب ہم جسارت اور حلقہ صحافت اسلامی سے وابستہ تھے تو روز ادارہ نور حق یا اکیڈمی پہنچ جاتے ایک روز منور صاحب نے کہا کہ کاظم علی صاحب علیل ہیں ان سے ملنے کارڈیو چلنا ہے۔ ہم دوپہر کو اسپتال پہنچے تو معلوم ہوا کہ کاظم صاحب تھوڑی دیر قبل گھر چلے گئے ہیں۔ ہم نے کہا کہ لیجیے اتنی محنت ضائع ہوگئی۔ منور صاحب مسکرائے اور کہنے لگے ارے… یہ کیا کہہ دیا تم نے… ہم کاظم صاحب کو اپنی شکل دکھانے یا ان کی شکل دیکھنے تھوڑی آئے تھے۔ اللہ کے نبی کا حکم ہے مریض کی عیادت کرو… ہم اس لیے گئے تھے۔ اللہ کے نبی کے حکم پر عمل کیا کاظم صاحب مل جاتے وہ خوش ہوجاتے اور ہماری کوشش مقبول ہوتی۔ کوشش تو اب بھی مقبول ہوئی ہے اللہ کے ہاں تو لکھی گئی تو کوئی کوشش ضائع نہیں ہوتی۔ اور ان ہی باتوں میں ہم ادارہ نور حق پہنچ گئے۔ غالباً یہ پہلا سبق تھا۔ سید منور حسن کے ساتھ بہت سے امور پر گفتگو ہوتی تھی۔ نیا ناظم اعلیٰ کون آرہا ہے؟ کراچی کو کیا چیلنجز درپیش ہیں مقابلے کے کیا طریقے ہوسکتے ہیں۔ اچھا یہ بتائو صحافی کو غیر جانبدار ہونا چاہیے یا نہیں… جب ان سے کہا کہ صحافی کو تو غیر جانبدار ہی ہونا چاہیے اس پر منور صاحب نے کہا تمہارا مسئلہ یہ ہے کہ تم پہلے مسلمان ہو… اچھے خاصے جماعتی ہو تو پھر تم غیر جانبدار کیسے رہو گے… پھر خود گویا ہوئے… صحافت ایک مقدس کام ہے ۔ جب ہم پہلے مسلمان ہیں تو جانبدار ہوگئے۔ مسلمانوں کی جانبداری نہیں ہم اسلام کے جانبدار ہیں مسلمان تو انسان ہیں صحیح یا غلط کچھ بھی ہوسکتے ہیں لیکن اسلام تو ایک ہی ہے اور بحیثیت مسلمان ہم اس کے جانبدار ہیں۔
منور صاحب کشمکش کے آدمی تھے جب تکبیر نکلا اور جماعت اسلامی کے خلاف مہم چل رہی تھی تو ہم نے بھی دو تین کالم لکھ ڈالے۔ بہت سے لوگوں کو یہ صلاح الدین صاحب کے ساتھ بدتہذیبی لگی۔ لیکن ہم اسلام کے جانبدار بن چکے تھے۔ لہٰذا لکھ ڈالا۔ اس وقت تو بہت سے احباب نے برا منایا لیکن بعد میں اور اب تو سب کو یقین ہوگیا ہے کہ وہ سارا سلسلہ کیا تھا۔ منور صاحب کے ساتھ چند ایک سفر بھی کیے ہیں۔ 1987ء میں جب قاضی حسین احمد کارروانِ دعوت ومحبت لے کر کراچی پہنچے تو ہمارے پاس موٹر سائیکل بھی نہیں تھی۔ ادارے سے گاڑی میں لانڈھی پہنچے وہاں قاضی صاحب کی گاڑی کے پائیدان پر کھڑے ہو کر ہجوم کا جائزہ لے رہے تھے کہ اندر سے ایک ہاتھ کندھے پر آیا اور کہا کہ آپ کے پاس سواری ہے؟ ہم نے دیکھا منور صاحب ہیں۔ ہم نے کہا نہیں… کہنے لگے اس گاڑی میں جگہ ہے اب آپ ساتھ ہی رہیں اور اس روز قاضی صاحب کی گاڑی ہی میں شہر کا چکر لگایا۔ لیکن سید منور حسن کے ساتھ جو سفر جدہ سے مکہ مکرمہ اور وہاں سے مدینہ منورہ کا کیا اس کے بارے میں منور صاحب نے بارہا کہا کہ سفر ہو تو ایسا۔ احرام والے سفر کی کیا بات ہے!!!
جب ہم نے اردو نیوز اختیار کیا اور ابھی جدہ نہیں گئے تھے۔ محترم مجیب الرحمن شامی کا ایک مضمون اردو نیوز کے لیے جارہا تھا اتفاق سے اسے پڑھ لیا۔ اس وقت شامی صاحب نواز شریف کے سحر میں مبتلا تھے۔ انہوں نے روانی میں نواز شریف کو پاکستان کا نجم الدین اربکان لکھ دیا۔ ہم نے اس کا حوالہ دیے بغیر ایک کالم لکھا جس میں اربکان اور نواز شریف کا موازنہ کیا۔ بات آئی گئی ہوگئی لیکن ایک ہفتے کے بعد صبح 11 بجے منور صاحب کا فون آیا۔ آج ملاقات ہوسکتی ہے۔؟ ہم نے کہا جی حاضر… دوپہر کو پہنچ گئے ان کے سامنے اردو نیوز پڑا ہوا تھا ہمارا مضمون نکالا اور کہا کہ یہ لکھنے کا کیا سبب تھا؟ ہم نے بتادیا کہ جناب شامی صاحب کے مضمون میں غلو بھی غلو کی حدود سے زیادہ تھا۔ پھر انہوں نے دوسری طرف کا صفحہ دکھایا کہ یہ ان کا مضمون ہے۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ احترام کا رشتہ برقرار رکھتے ہوئے تم نے ایک ایک نکتے کا جواب دیا ہے۔ کیونکہ شامی صاحب کی بہت قربانیاں ہیں۔ پھر اس مضمون کا حوالہ کئی نشستوں میں دیتے رہے۔ پھر ہم جدہ چلے گئے۔ وہاں بھی پاکستان میں جماعت اسلامی کے ایک ہی فرد سے خط کتابت رہی اور وہ منور حسن تھے۔ وہ جدہ آئے تو حرمین کے سفر میں ساتھ رہے جس کا حوالہ دیتے تھے۔ واپسی پر ہم نے ان کے ساتھ ناشتے کی نشست رکھی اور اس نشست میں جدہ جیسے شہر کے 35 صحافی شریک ہوئے۔ ان میں عرب نیوز، سعودی گزٹ، ریڈیو جدہ اور اردو نیوز کے علاوہ بھی مختلف نیوز ایجنسیوں کے لوگ تھے۔
یہ ناشتہ تو قیامت ہوگیا۔ اس پر طرہ ہمارے انڈین ساتھی ہارون نگرامی کے طنز پرمنور حسن صاحب کا سیدھا جواب… ہارون صاحب نے کہا کہ پاکستان تو سنبھلتا نہیں دلی کے لال قلعے پر جھنڈا گاڑنے کے دعوے کرتے ہو۔ اس پر منور حسن نے کہا ’’فکرہر کس بقدر ہمت اوست‘‘ یعنی ہر ایک کی فکر اس کی ہمت کے مطابق ہے۔ہم تو اپنی زمین واپس لینے کی بات کررہے تھے ،آپ کو کیا خوف… اس پر قہقہہ پڑا لیکن اس کی بازگشت بہت دور تک سنی گئی اور بالآخر سید مودودیؒ کے فرزند عمر فاروق مودودی اور اطہر ہاشمی پر کلہاڑی چلائی گئی۔ ( الگ موضوع ہے) اس کے بعد ہمارے اردو نیوزپہنچنے پر کیا جانے والا تبصرہ ’’آج اردو نیوز منصورہ2 ہوگیا‘‘ بروئے کار آیا اور زعیم الکبیر کہہ کر نصیر ہاشمی اور ان کا معاون نائب امیر قرار دے کر ہمیں گھر جانے کا حکم ہوا کس طرح ،دلوں کا معاملہ ہے۔ سید صاحب کو خبر ہوئی گھر پر فون آیا کیا معاملات ہیں۔ ہم نے بتایا کہ گھر بیٹھنے کو کہا ہے۔ کہنے لگے آپ گھر بیٹھیں اور انتظار کریں خود استعفیٰ نہ دیں۔ آپ کے لیے ہمارے پاس کام موجود ہے پھر چالیس دن بعد فراغت کا خط ملا جب خط لینے گئے تو اکائونٹس والوں نے ایک پلندہ فائل میں سے نکال کر پکڑایا جس کی وجہ سے فائل کا پیٹ خاصا پھولا ہوا تھا۔ اس پلندے میں اپنوں کے شکایت نامے اور منور صاحب کے کئی خطوط تھے تاہم ان میں سے کوئی کھولا نہیں گیا تھا۔ ترتیب وار دیکھا تو شکوہ تھا کہ تین خطوط لکھ چکا ہوں کیا قلم کو زنگ لگ گیا ہے۔ سید صاحب کا کیا مقابلہ، ایسی جمی ہوئی تحریر ہوتی تھی۔ ہمیں ایک خط میں لکھا کہ قلم کو مضبوطی سے پکڑو اور کسی سے کہہ کر کاغذ کو بھی بلنے نہ دیا کرو… پڑھنے میں مشکل ہوتی ہے۔ بات تو سب سمجھ گئے ہوں گے۔
سید منور حسن پر آج کل جتنے لوگ لکھ رہے ہیں وہ سب سید منور صاحب کے ساتھ اپنے تعلق کے حوالے سے لکھ رہے ہیں اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سید صاحب کے نام کو یہ لوگ (ہم بھی) اپنی مشہوری کے لیے استعمال کررہے ہیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ سید صاحب نے ہر ایک سے ایسا تعلق رکھا تھا کہ وہ ان کے اور اپنے واقعات ہی بیان کرتا ہے۔ یہاں ان کے دوسروں کے ساتھ دو واقعات بھی بیان کرتا چلوں… ہمارے ایک صحافی بیمار ہوئے 9 محرم کو اسپتال گئے میڈی کیئر میں داخل تھے دوپہر کو بتایا گیا کہ فوراً آپریشن ہوگا۔ منور صاحب سجاد میر کے ساتھ اسپتال پہنچے چند لمحوں میں بات سمجھ گئے اور تھوڑی دیر میں آپریشن کے لیے رقم اسپتال کے اکائونٹ میں جمع ہوچکی تھی۔ یہ ہمارے اسپورٹس رپورٹر ظفر اقبال (چیف صاحب) ان کا جماعت اسلامی سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن تاحیات اس واقعہ کا تذکرہ کرتے رہے اور منور صاحب کے گرویدہ رہے۔ اسی طرح ایک صاحب سے طائف میں ملاقات ہوئی انہوں نے بتایا کہ میں ایک روز منور حسن کے پیچھے پیچھے فجر کی نماز کے لیے چل رہا تھا۔ قریب آکر کہا کہ منور صاحب اتنی رات کو اکیلے نہ چلا کریں۔ منور صاحب نے گردن گھمائے بغیر کہا کہ میں کبھی اکیلا نہیں ہوتا… میں نے کہا کہ آپ مجھے نہ گنیں میں تو ایم کیو ایم کا ہوں… منور صاحب پھر مسکرائے اور مسجد میں داخل ہوتے ہوئے کہا کہ اللہ میرے ساتھ ہوتا ہے تو ایم کیو ایم کیا اور اس کے سرپرست کیا…!!
پھر چند ہی دن گزرے ہوں گے کہ مجھ پر (اس نوجوان پر) ایم کیو ایم میں بُرا وقت آگیا۔ دوستوں نے سعودی ویزے کا انتظام کردیا ٹکٹ اور ویزے کے لیے پیسے جمع کررہا تھا۔ کسی نے کہا کہ منور صاحب سے کہو تمہارے تعلقات ہیں۔ میں حیران رہ گیا… ان سے کہوں… لیکن جان پر بنی ہوئی تھی ڈرتے ڈرتے ان کے گھر گیا اور کہا کہ میرے ساتھ یہ مسئلہ ہے… پیسے واپس کردوں گا۔ منور صاحب نے پوچھا کتنے چاہئیں۔ میں نے ٹکٹ سے دوگنی سے بھی زیادہ رقم بتادی… پچاس ہزار… منور صاحب نے کہا کہ دوپہر میں ادارہ نور حق آجائو… انہوں نے ایک پرچہ دیا اکائونٹس والوں نے رقم دی… میں شکریہ ادا کرنے گیا منور صاحب نے دعائیں دیں اور کہا اللہ تمہاری حفاظت کرے… یہ زندگی اللہ نے اپنے دین کے کام کے لیے دی ہے اس کا خیال رکھنا… یہ بیان کرتے ہوئے اس نے مجھے کہا مظفر بھائی دس سال میں کوئی سو مرتبہ جماعت اسلامی کا یہ احسان اتار چکا ہوں لیکن دل نہیں بھرتا۔ یہ بات اس نے 1999ء میں بتائی تھی اور ہماری اطلاع کے مطابق اب تک یہ احسان اُتار رہا ہے۔ منور صاحب کے انتقال پر ضرور رویا ہوگا… (نام قصداً اور احتیاطاً نہیں لکھا)۔
منور حسن صاحب سے صحافت، سیاست، بین الاقوامی معاملات اور ہر موضوع پر بات ہوتی تھی۔ ان کا طریقہ یہ تھا کہ پہلے سوال پوچھتے تھے… ہم کہتے کہ آپ بتائیں!! تو وہ کہتے کہ پوچھا ہم نے ہے اور ہم ہی بتائیں۔ پھر اس حوالے سے مکمل رہنمائی فرماتے۔ جب اردو نیوز سے سبکدوشی ہوئی جسے ایک صاحب نے فارغ لکھا ہے تو منور صاحب کو بتایا کہ معظم علی قادری نے اسلام آباد آنے کا حکم دیا ہے تو کراچی چھوڑ کر وہاں جائوں…؟ منور صاحب نے کہا کہ جی ،جسارت کو آپ کی ضرورت ہے وہ جہاں بلائے آپ چلے جائیں۔ اور ہم چلے گئے… اس موقع پر انہوں نے ایک تبصرہ قاضی صاحب کو ہمارے بارے میں بھیجا تھا بس اسے ساتھ لیے ہم بھی منور صاحب کے پیچھے چلے جائیں گے۔
سید صاحب کے وژن اور مستقبل بینی کو داد دینی چاہیے۔ جب وہ چین کے دورے سے آئے تھے تو اس زمانے میں ایک تنظیم مسلسل جماعت کے خلاف پروپیگنڈا کررہی تھی کہ وہ چین میں ایغور مسلمانوں پر مظالم کی توثیق کرکے آئی ہے۔ ہم نے منور صاحب سے پوچھا کہ کیا ایسا ہی ہے تو انہوں نے بتایا کہ وہاں ہماری ملاقات چینی کمیونٹی کے نام سے مسلمانوں سے کرائی جارہی تھی تو ہم نے منع کردیا اور کہا کہ ہمیں چینی مسلمانوں سے ملوایاجائے۔ چینی حکومت نے اپنا ترجمان دیا ہم بھی انتظام کرکے گئے تھے لہٰذا ترجمان جو کچھ بتارہا تھا ہم نے اپنے مترجم سے اس کی تصدیق کی ۔اس کے بعد چین میں مسلمانوں کے حقوق اور ان کو الگ کمیونٹی قرار دینے کا مطالبہ کیا ۔ یہ سن کر ہم نے کہا کہ اس تنظیم کو جواب دیں کہ وہ پروپیگنڈا نہ کرے… منور صاحب نے کہا کہ اتفاق سے وہ بھی اسلام کا نام لیتے ہیں ہمیں اپنے دوست بڑھانے ہیں۔ اسلام کے نام لیوائوں میں بیان بازی اور مقابلے سے ہم اپنے دوست کم کردیں گے۔ تنظیم اسلامی کے اجتماعات میں جماعت اسلامی پر تنقید مولانا مودودیؒ کے فیصلوں کو غلط قرار دینے پر اصرار (جواب بھی جاری ہے) کا جواب دیں… اس پر بھی منور صاحب نے کہا کہ دین کا کام کرنے والوں کے بارے میں ہمیں بیان بازی نہیں کرنیچاہیے۔ ویسے بھی میدان میں ہم ہیں وہ جو بھی کہتے رہیں جب تک مقابلے پر نہیں آتے خاموش رہیں…

ایک بڑا عجیب تاثر بعض تحریروں اور تبصروں میں ملا ہے کہ منور حسن بڑے سخت گیر، تند و تیز جواب دینے والے اور تلخی بکھیرنے والے آدمی تھے۔ یہ بالکل غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غلط بات سن کر اس کی خوش اخلاقی سے تردید کرتے یا درست بات بیان کرتے تھے لیکن اگر کوئی اس پر اصرار بلکہ ڈھٹائی اختیار کرتا تو ان کا کوئی کاٹ دار جملہ آجاتا… منور صاحب کے کسی موقف کو آج تک کوئی غلط قرارنہیں دے سکا۔ امریکا کی جنگ ہو یا اخباری دنیا میں اپنا بن کر جماعت کو ڈسنے والے یا کمرشل اخبارات سب کے بارے میں جو موقف انہوں نے اپنایا کبھی اس سے یوٹرن نہیں لیا اور سب کے سب درست ثابت ہوئے۔ اتحادوں کی سیاست ہو یا سیاست میں فوجی مداخلت ،دو ٹوک اور واضح موقف اختیار کیا اور جو کچھ تجزیہ کیا وہی درست ثابت ہوا… منور صاحب جماعت اسلامی کو چھوڑ جانے والوں سے سخت ناراض ہوا کرتے تھے۔منور صاحب کی تقریروں میں جس چیز پر سب سے زیادہ زور ہوتا تھا وہ فکر آخرت تھی اور اس آخرت کی فکر کیسے کی جائے اس کا عملی نمونہ وہ خود تھے۔ ایک مرتبہ ہم منصورہ گئے ان کے علم میں تھا۔ چنانچہ دار الضیافہ میں باہر والا کمرہ ہمارے نام پر محفوظ تھا۔ اگلے روز دوپہر کو ان کے دفتر گئے تو وہ جاچکے تھے۔ شام کو مسجد میں ملے اور قریب آکر پوچھا کیا بہت دیر سے آئے تھے۔ ہم نے کہا نہیں کوئی گیارہ بجے تھے۔ کہنے لگے فجر میں نہیں نظر آئے تو میں نے سمجھا کہ بہت دیر ہوگئی ہوگی… ہم نے وضاحت کی کہ کمرے میں پڑھ لی تھی… پھر سو گئے۔
منور صاحب کے سیکرٹری ابرار صاحب نے ایک دن دلچسپ واقعہ سنایا کہ کئی روز کے دورے کے بعد ایک رات کو دفتر آئے اور فون اُٹھا کر ایک طرف رکھ دیا اندر سے دروازہ بند کرلیا۔ یہ کام وہ عموماً کرتے تھے… تا کہ کوئی ڈسٹرب نہ کرے، پھر تمام خطوط کا بغور مطالعہ کرکے جواب لکھتے یا کسی تنظیمی ضرورت پر ہدایات لکھتے تھے۔ ابرار صاحب نے بتایا اس رات ہم اپنے کمرے میں بیٹھے رہے فون بند اور کمرہ لاک صبح فجر کی اذان ہوئی تو ایک کال کی گھنٹی بجتی رہی، فوراً جا کر دروازے کو ہلکا سا دھکا دیا تو پتا چلا کہ سید صاحب غائب… ساری رات کام کرکے ایک ایک خط اور مراسلے پر ہدایات تحریر کرکے مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اور صبح دس بجے پنجاب کے ذمے داران سے میٹنگ طے تھی… یہ اللہ کا بندہ سوتا کب ہے۔
اگر منور صاحب سے عقیدت کا حوالہ ہو تو ہم درجنوں لوگوں کو جانتے ہیں جن میں صفدر چودھری کے بیٹے منور بھی شامل ہیں، جن کا نام منور حسن سے عقیدت کی وجہ سے منور رکھا گیا ہے۔ لیکن منور حسن سے عقیدت یہ نہیں کہ ہم ان کی تقریروں کو شیئر کریں، ان کے بیانات اور اچھے جملے یاد کریں بلکہ حقیقی عقیدت تو یہ ہے کہ منور حسن جس مشن کو لے کر اُٹھے تھے حق بات کہنے کا جو ڈھنگ انہوں نے اختیار کیا تھا اور جو جو موقف اور بات انہوں نے کہی تھی اس سب کے پیچھے ان کا مضبوط کردار تھا۔ عقیدت کا تقاضا ان جیسا کردار پیدا کرنا ہی ہے۔ منور صاحب کے ساتھ بہت سے سفر کیے، صحافتی امور میں چونکہ ان کا گہرا مشاہدہ اور مطالعہ تھا اس لیے جب جسارت میں کوئی چیز غلط شائع ہوتی تو بڑے تحمل سے کچھ دن بعد ملاقات میں اس کی نشاندہی کرتے۔ اس زمانے میں ان سے ملاقاتیں تواتر کے ساتھ ہوتی تھیں۔ ایک دن فون کرکے کہا کہ میں منصورہ میں ہوں رات کو تقریباً دس بجے پہنچ گیا تھا لیکن ابھی جسارت میں خبر دیکھی ہے کہ منور حسن لاہور روانہ… ایک تو جسارت یہاں دوپہر میں آتا ہے… دوسرے یہ کہ ایسی خبریں کم از کم میرے بارے میں نہ لگایا کریں کہ روانہ ہوگئے یا جہاں جسارت جاتا ہی نہیں وہاں کے بارے میں بتائیں کہ منور حسن فلاں جگہ خطاب کریں گے۔ یہ بہت مقامی مسائل ہوتے ہیں۔ ایک مرتبہ جسارت کے دفتر میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صحافیوں میں فکر آخرت کی باتیں کررہے تھے۔ قلم کی حرمت کا بیان کررہے تھے۔ ہم نے کہا کہ صحافی تو تنخواہ کی فکر میں ساری زندگی گزار دیتا ہے۔ اسے آخرت کی فکر کیسے ہوگی۔ منور صاحب نے کہا کہ ہمارا کام تو یہ پیغام پہنچانا ہے اور یہ بات یاد رکھو جتنے لوگ تنگ دست ہیں ان ہی میں تمہیں کشادہ دل زیادہ ملیں گے۔ رزق روزی روزگار کا تعلق فکر آخرت سے نہیں ہے۔ ارب پتی آدمی کو بھی آخرت کی فکر اسی طرح کرنی چاہیے جس طرح ایک غریب شخص کو بلکہ امیر کو تو اور زیادہ کرنی چاہیے کتنا حساب دے گا۔ اسی لیے تو کہا گیا ہے نکلو اللہ کی راہ میں خواہ ہلکے ہو یا بوجھل۔ مجھے تو زیادہ اُمید ایسے ہی طبقات سے ہوتی ہے۔
سید منور حسن سے جماعت اسلامی کی اندرونی سیاست پر بھی بات ہوتی تھی اور انہوں نے ہمیشہ صاف اور سیدھا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔ کبھی کسی رہنما کے خلاف بات نہیں سنتے تھے اور اس پر تبصرہ نہیں کرتے تھے۔ منور صاحب کو خوامخواہ فوج کا دشمن یا مخالف بنادیا گیا تھا۔ دراصل یہ کام فوج کے ترجمانوں کی غلط ترجمانی نے کیا تھا۔ آج فوج سمیت سب منور صاحب کے ہر اس موقف کے حامی اور اسے اپنا بیانیہ بنائے ہوئے ہیں جن کی تردید میں متشدد ہوئے جاتے تھے۔ لیکن اگر ان کی عملی زندگی کو سامنے رکھیں تو یہ بلاخوف تردید کہا جاسکتا ہے کہ پاکستانی قوم نے ہیرا کھودیا۔ یہ ہیرا آلودہ بھی نہیں تھا دھوکا بھی نہیں تھا بالکل شفاف سب کو نظر آتا تھا کہ قدرت کا تراشیدہ ہیرا ہے۔ اور یہ دنیا داری کی بات نہیں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب جب قوموں نے اللہ کا پیغام پہنچانے والوں ،دین کے غلبے کی بات کرنے والوں کو مسترد کیا وہ خود مسترد ہوئے، ذلیل و خوار ہوئے، تباہی مقدر ٹھیری اور بڑے سے بڑا طاقتور اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔
…٭…
حق مغفرت کرے، کیا عجیب شخص تھا
جان کر منجملۂ خاصان میخانہ’’ اسے‘‘
مدتوں رویاکریں گے جام و پیمانہ ’’اسے‘‘
nn