بائیڈن شخصی ہتھیاروں کی روک تھام میں ناکام

132
واشنگٹن: جوبائیڈن شخصی ہتھیاروں پر پابندی سے متعلق بات کررہے ہیں

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر جو بائیڈن تمام تر دعووں کے باوجود شخصی ہتھیاروں کی روک تھام میں ناکام رہے ہیں۔ اب اس تناظر میں انہوں نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت امریکا کے اندر بڑھتے ہوئے پُرتشدد جرائم کے لیے کئی اقدامات کرنے جا رہی ہے اور اس ضمن میں سماج کے خلاف برے کام کرنے والے برے افراد سے نمٹا جائے گا۔ صدر بائیڈن نے امریکا کے اندر تشدد پر مبنی جرائم کے خاتمے کے لیے ایک حکمت عملی کا اعلان ایسے وقت پر کیا ہے جب قومی سطح پر بالخصوص کرونا کے دنوں میں پُرتشدد جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ وائٹ ہاؤس سے خطاب میں صدر بائیڈن نے ملک کے اندر فائرنگ کے حالیہ واقعات، مسلح ڈکیتیوں کی وارداتوں اور دیگر جرائم کا حوالہ دیتے ہوئے اس طرح کے متشدد جرائم کو روکنے کی حکمت عملی بیان کی، جس میں اسلحہ کے پھیلاؤ کو روکنے اور نوجوانوں کے لیے روزگار عام کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔ صدر بائیڈن نے کہا کہ، تاریخی طور پر بھی موسم گرما کے دوران جرائم میں اضافہ ہوتا ہے، ایسے میں جب ہم عالمی وبا سے باہر نکل رہے ہیں، ملک دوبارہ کھل رہا ہے، یہ موسم گرما جرائم کے اعتبار سے زیادہ قابل ذکر ہو سکتا ہے۔ جو بائیڈن اس سے قبل بندوق سے پھیلنے والے تشدد میں کمی لانے کے لیے کئی صدارتی حکم نامے جاری کر چکے ہیں اور بدھ کے روز خطاب میں بھی انہوں نے کانگریس پر زور دیا ہے کہ وہ گن کنٹرول کے لیے قانون سازی کرے۔ انہوں نے کانگریس سے کہا کہ وہ انسداد منشیات واسلحہ کے ادارے کی سربراہی کے لیے ان کے انتخاب ڈیوڈ چپمین کی نامزدگی کی توثیق کریں۔ امریکا میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد ابتدائی مہینوں میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ اس وبا کے سبب عام زندگی میں معاشی مشکلات اور بے چینی پیدا ہوئی ہے۔