برلن کانفرنس سے امن مذاکرات میں پیشرفت ہوئی‘ لیبیا

110
برلن: لیبیا کے وزیراعظم عبدالحمید دبیبہ جرمن وزیر خارجہ ہائیکوماس سے ملاقات کررہے ہیں

طرابلس (انٹرنیشنل ڈیسک) لیبی وزیرخارجہ نجلہ منقوش نے کہا ہے کہ جرمن دارالحکومت برلن میں امن مذاکرات کے نئے دور میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی آیندہ دنوں میں غیر ملکی جنگجو اور کرائے کے فوجی چلے جائیں گے۔ دوسری جانب تُرک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو نے برلن کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ انقرہ حکومت لیبیا میں امن و سلامتی، استحکام اور خود مختاری کے قیام کے لیے تعاون جاری رکھے گی۔ ادھر امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے کانفرنس کے موقع پر کہاکہ وہ افریقی ملک کے تنازع کے حل کے لیے برلن میں فریقین کو اکٹھا کرنے پر جرمنی کے شکر گزار ہیں۔ خبررساںاداروںکے مطابق برلن کانفرنس کا ایجنڈا صرف لیبیا کے تنازع کو حل کرنا تھا، لیکن امریکی وزیر خارجہ دورے کے دوران جرمن ہم منصب کے ساتھ ہولوکاسٹ کو جھٹلانے اور یہودمخالفت کے سدباب کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کرتے رہے۔ لیبیا کے لیے امریکا کے خصوصی نمایندے رچرڈ نارلینڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ برلن مذاکرات کے بعد لیبیا میں دسمبر میں ہونے والے انتخابات کی راہ ہموار ہوگی۔ یاد رہے کہ لیبیا میں 2011 سے سیاسی عدم استحکام ہے۔نیٹو کی حمایت میں ہونے والی بغاوت نے طویل عرصے سے برسراقتدار معمر قذافی کو ان کے عہدے سے ہٹایا تھا۔ اس کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں دوحکومتیں قائم ہو گئی تھیں۔ گزشتہ برس اکتوبر میں جنگ بندی کا ایک معاہدہ ہوا تھا،جس میں تمام غیر ملکی جنگجوؤں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ 90 روز کے اندر اندر ملک چھوڑ دیں۔