درویش خدا مست ….. میاں طفیل محمد ؒ

97

وہ ہمارے زمانے میں رہے، لیکن وہ ہمارے زمانے کے نہیں تھے۔ انہوں نے اسی دنیائے حرص و ہوس میںعمر عزیز کے 96 سال بسر کیے، لیکن وہ اس دنیا کے لگتے نہ تھے۔ وہ تاریخ کی کتابوں سے نکل کر آئے تھے اور ایک عظیم الشان تاریخ بنا کر وہ پھر تاریخ کی کتابوں کا حصہ بن گئے۔
وہ موسم بہار کے پہلے پھول تھے، وہ سید مودودیؒ کے ابتدائی رفیق تھے، وہ اس قافلہ راہِ حق کے ہدی خواں تھے جس نے اعلیٰ منزلوں کی طرف سفر شروع کیا تو ان کے راستے کانٹوں سے بھر دیے گئے۔ اس ابتدائی دور کے تحریکی گھرانوں کے حالات ایک جیسے تھے۔ چنانچہ میں نے پہلی مرتبہ ابا جی مرحوم (مولانا گلزار احمد مظاہریؒ) سے میاں طفیل محمد کا نام اسی حرف تسلی کے دوران بطورِ مثال سنا جو وہ اماں جی اور ہم بہن بھائیوں کو دے رہے تھے۔ میاں صاحب کا نام ابتدائی بچپن سے ہی ان مثالوں کی وجہ سے ایک مرد درویش کے طور پر ذہن میں نقش ہو گیا۔ ابا جی بتایا کرتے تھے کہ میاں صاحب نیا مدرسہ کے سرونٹ کوارٹر میں رہتے ہیں۔ یہ مالی کے کمرے ہیں چھت کی کڑیاں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ میاں صاحب کی اہلیہ بچوں کے کپڑوں حتیٰ کہ ان کی پتلونوں کی خود سلائی کرتی ہیں۔ ان کے گھر میں چینی کا کوئی برتن نہیں۔ مٹی کے برتنوں میں ہی مہمانوں کو چائے کھانا پیش کیا جاتا ہے اور کھانا بھی بہت سادہ ہوتا ہے۔
میاں صاحب کی سادگی کی یہ مثالیں ہمارے لیے بھی مشعل راہ بن گئیں اور نجانے کتنے تحریکی گھرانوں کو ان ہی مثالوں سے سکون، طمانیت اور تقویت ملتی تھی۔ میاں صاحب کو اچھرہ کے بازاروں میں پیدل چلتے ہم نے بار بار دیکھا، ان میں تکلف نام کو نہیں تھا۔ وہ رحمن پورہ سے تنہا پیدل چلتے۔ 1۔ ذیلدار پارک میں روزانہ آتے تھے۔ ان کا یہ معمول اس وقت بھی رہا جب 1970ء کے الیکشن میں اسی علاقہ سے قومی اسمبلی کے امیدوار تھے۔ اگرچہ میاں صاحب بھاری ووٹ لینے کے باوجود روٹی کپڑے مکان کے طوفان اور کئی دیگر وجوہات کی بنا پر الیکشن تو نہ جیت سکے، لیکن انہوں نے دل جیت لیے۔ ان کی شرافت کی کہانیاں ضرب الامثال بن گئیں۔ انتخابات میں شکست کے بعد امیدواران حوصلہ ہار دیتے ہیں، گھروں سے غائب ہو جاتے ہیں کسی کو ملتے نہیں، مایوسی کی وجہ سے گمنامی کی اتھاہ گہرائیوں میں چلے جاتے ہیں، لیکن میاں صاحب عزم و حوصلہ کی چٹان بنے اپنے کارکنان کے بھی حوصلے بلند کر رہے تھے۔ الیکشن سے اگلے دن ہی لوگوں نے دیکھا کہ وہی میاں طفیل محمد اچھرہ بازار سے گھر کے لیے سبزی خرید رہے ہیں اور چہرے پر شکست خوردگی کا ایک معمولی سا نقش بھی نہیں۔
طویل عرصہ کرایوں کے مکان میں ہی رہے اور مالک مکان زیادہ کرایے کے لالچ میں مکان چھوڑنے کا نوٹس دے دیتا تو چپ چاپ کسی اگلے مکان میں منتقل ہو جاتے۔ ایسے ہی ایک موقع پر کسی صاحب ثروت عزیز نے پیشکش کی کہ آپ یہ مکان جو 24 ہزار روپے میں بک رہا ہے، خرید ہی لیں۔ میں رقم دیتا ہوں اور آپ یہ رقم اسی طرح مجھے واپس کرتے رہیں جیسے آپ اس مکان کا کرایہ دیتے ہیں، لیکن میاں صاحب کی غیرت نے اتنا احسان لینا بھی پسند نہ کیا، بلکہ انہیں توجہ دلائی کہ اگر آپ کو میرا خیال آیا ہے تو آپ پہلے اپنے غریب ملازمین کا خیال کریں اور انہیں ہی دو دو مرلہ کے مکانات بنا کر دے دیں اور آپ کی طرف سے یہی میری بھی خدمت ہو گی اور میں اسی پہ خوش ہو جائوں گا۔
میاں صاحب کو نماز میں دیکھ کر قرآنِ پاک کی یہ آیت یاد آ جاتی تھی کہ تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ… یوں لگتا تھا جیسے انہوں نے اس جہاں سے ناتا توڑ لیا ہے۔ ہم جیسے کوتاہ عملوں کے لیے ان کی نماز باجماعت کے لیے تڑپ اور لگن ایک مسلسل دعوت عمل ہی نہیں تازیانہ عبرت بھی تھی یعنی:
اے رو سیاہ تجھ سے تو یہ بھی نہ ہو سکا
وہ جامع منصورہ میں سب سے پہلے آتے اور سب سے بعد میں جاتے۔ ظہر کی نماز کی بارہ رکعتیں اور عشاء کی پوری سترہ رکعتیں ادا کرتے۔ نمازِ تراویح پوری بیس رکعتیں مسلسل کھڑے ہو کر پڑھتے۔ ان کے اس معمول میں کبھی کوئی فرق نہیں آیا۔ بڑھاپے اور بیماری کے باوجود اسی ذوق و شوق سے مسجد میں آتے رہے۔ حتیٰ کہ آنکھوں کی بینائی چلی گئی تب بھی انہوں نے میاں حسن فاروق کے ہمراہ مسجد آنے کا اپنامعمول ترک نہیں کیا۔ جس رات ان پر برین ہیمبرج کا حملہ ہوا اور وہ بے ہوشی کے عالم میں اسپتال پہنچائے گئے، اس رات بھی وہ نمازِ مغرب اور نمازِ عشاء مسجد میں باجماعت ادا کر کے گئے تھے۔ جب بھی کسی نے کہا کہ میاں صاحب آپ سنتیں اور نفل ہی بیٹھ کر پڑھ لیا کیجیے۔ تو ان کا جواب ہوتا تھا کہ جب میں ساری نماز کھڑے ہو کر ادا کر سکتا ہوں تو یہ اللہ کریم کی ناشکری ہو گی کہ میں بیٹھ کر ادا کروں۔ آنکھوں کی بینائی چلی جانے پر کسی نے تاسف کا اظہار کیا، تو انہوںنے جملہ کاٹتے ہوئے کہا اللہ کا شکر ہے کہ اس نے 93 سال تک مجھے بصارت کی نعمت عطا کی، اب بینائی چلی گئی ہے تب بھی اس کا شکر ہے۔میں نے ایک مرتبہ میاں صاحب کو فون پر جنرل ضیاء الحق سے بات کرتے ہوئے سنا۔ وہ انہیں مسلسل ڈانٹ رہے تھے۔ یہ کسی مظلوم فرد کا معاملہ تھااور اس پر میاں صاحب بہت برہم تھے اور اسے بار بار کہہ رہے تھے کہ آپ کی حکومت کو شرم آنی چاہیے۔
اسی طرح جب فوج میں ایک لیڈی ڈاکٹر (غالباً ڈاکٹر کوثر فردوس صاحبہ) کو کہا گیا کہ آپ کو ملازمت برقرار رکھنی ہے تو نقاب اتار کر ڈیوٹی دیں، تو میاں صاحب اس پر بہت برہم ہوئے۔ انہوں نے جنرل ضیاء الحق کو کھری کھری سنائیں اور بالآخر ان سے منوا لیا کہ اگر کوئی خاتون نقاب پہن کر ڈیوٹی دینا چاہے تو اسے کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی۔
ایک مرتبہ میاں صاحب نے مجھے گھر طلب کیا۔ میں ان دنوں پنجاب اسمبلی کا رکن تھا۔ میاں صاحب کے پاس ضلع پاکپتن کے دو تین افراد بیٹھے تھے۔ یہ دور پار سے میاں صاحب کے عزیز بھی تھے۔ ان کی زمینوں پر میاں منظور وٹو سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نے قبضہ کر لیا تھا اور کھڑی فصلوں کو جلا دیا تھا۔ میاں صاحب نے مجھے حکم دیا کہ میں میاں منظور وٹو کو میاں صاحب کا پیغام پہنچائوں اور انہیں کہوں کہ اگرچہ آپ نے براہِ راست قبضہ نہیں کیا، لیکن آپ کے حوصلہ پر ہی ان افراد نے یہ جسارت کی ہے۔ اس لیے قیامت کے دن آپ کو بھی جواب دہ ہونا پڑے گا۔ میں نے میاں منظور وٹو سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ میں میاں صاحب کے پاس خود حاضر ہوں گا۔ وضاحت بھی کروں گا اور مظلوم افراد سے پورا تعاون بھی۔ چنانچہ میں نے میاں صاحب سے وقت طے کیا اور میاں منظور وٹو صاحب کو بتایا۔ وہ مقرر وقت پر تشریف لائے۔ انہوں نے میاں صاحب کا بے حد اکرام کیا۔ وضاحت کی کہ واقعہ میری لاعلمی میں ہوا ہے۔ پھر دونوں مظلوم افراد کو سینے سے لگایا اور تسلی دی کہ تمہیں ان شاء اللہ کوئی بے دخل نہیں کرے گا۔
ایک مرتبہ انہوں نے طلب فرمایا۔ محترم مولانا خلیل احمد حامدی بھی موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی ایک پراجیکٹ شروع کر رہی ہے جس کے تحت ملک کے مختلف حصوں میں بعض اہل خیر کے تعاون سے مساجد تعمیر کی جائیں گی اور آپ کے ذمہ یہ ہے کہ آپ پورے ملک بالخصوص پنجاب کے مختلف اضلاع میں دورہ کر کے مساجد کے لیے موجود اراضی اور دیگر تفصیلات کا موقع پر جا کر جائزہ لیں اور امکانات، اخراجات اور اثرات وغیرہ پر مشتمل ایک تفصیلی رپورٹ تیار کر لیں۔ میں نے ان کے حکم کے مطابق ایک مکمل دورہ کیا۔ بڑی جامع رپورٹ تیار کی، اراضی کے کاغذات نقشے وغیرہ سب کچھ جمع کر کے کئی فائلوں پر مشتمل سروے پیش کر دیا۔ میاں صاحب محترم بہت خوش اور مطمئن ہوئے اور فرمایا ہماری خواہش ہے کہ آپ ہی شعبہ مساجد کو سنبھال لیں اور یہ سارے پراجیکٹ اپنی نگرانی میں مکمل کروائیں۔ میں نے عرض کیا کہ میں تو ایک کارکن ہوں، آپ جہاں ڈیوٹی لگائیں گے میں ان شاء اللہ ادا کروں گا۔ تاہم میری گزارش ہے کہ میں یہ کام رضا کارانہ کروں گا، ہمہ وقتی کارکن کی حیثیت سے نہیں کروں گا۔ مجھے گمان نہیں تھا کہ میاں صاحب اس بات پر ناراض ہوں گے۔ بظاہر کوئی ایسی بات نہیں تھی، تاہم میاں صاحب محترم نے اسے جماعت اسلامی کے ہمہ وقتی کارکنان پر تنقید محسوس کیا اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’جو لوگ ہمہ وقتی کارکن ہیں کیا وہ جھک مار رہے ہیں۔‘‘مجھے تب اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ ہمہ وقتی ہونا فرد کی نہیں جماعت کی ضرورت ہوتا ہے اور وہ فرد انتہائی قابل قدر ہیں جو تحریک کی ضرورت پر لبیک کہتے ہوئے اپنے آپ کو فارغ کر لیتے ہیں۔
دوسرا موقع وہ تھا کہ جب میاں صاحب محترم اسلامک فرنٹ اور بعض دیگر پالیسیوں سے اختلاف فرما رہے تھے۔ اسی دوران کی بات ہے کہ میاں صاحب سعودی عرب تشریف لے گئے تھے۔ ان کے ہمراہ فیض الرحمن ہمدانی مرحوم تھے۔ میں بھی ان دنوں سعودی عرب کے سفر پر تھا۔ شاید مدینہ منورہ کا ذکر ہے محترم فیض الرحمن ہمدانی ہوٹل میں میرے کمرے میں تشریف لائے اور انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے تحریک اسلامی قائم کرنے والے کئی احباب کے محترم میاں صاحب کو مسلسل فون آ رہے ہیں کہ وہ تحریک اسلامی کی سربراہی و سرپرستی قبول فرمائیں۔ محترم میاں صاحب پر یکطرفہ دبائو بڑھ رہا ہے۔ اس لیے تم محترم میاں صاحب سے بات کرو… میں نے کہا کہ اول تو محترم میاں صاحب ہمارے مربی و رہنما ہیں۔ ہم تو ’’دعوت اسلامی اور اس کے مطالبات‘‘ میں بالخصوص ان کی تحریر پڑھ کر جماعت میں شامل ہوئے تھے۔ تحریکی شعور، خدمات اور مقام و مرتبہ میں میری ان کی نسبت ایک اور ایک ہزار سے بھی زیادہ ہے۔ دوسرے ہم گمان بھی نہیں کر سکتے کہ میاں صاحب کوئی دوسرا راستہ اختیار کر سکتے ہیں، پھر آپ سے بہتر کون بات کر سکتا ہے۔ تاہم فیض صاحب کے اصرار پر میاں صاحب کے پاس حاضر ہوا۔ ڈرتے ڈرتے تمہید بندھی میاں صاحب نے تحمل سے سنا۔ پہلے تو انہوں نے مرکز جماعت کے بعض افراد کا گلہ کیا، پھر پورے یقین سے یہ بات کہی کہ میں نے جماعت کے لیے زمانے بھر کو ٹھکرایا ہے، اب کیسے آپ سوچ سکتے ہیں کہ میں جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ اختیار کر سکتا ہوں۔ میرے اختلافات بعض پالیسیوں سے ہیں، لیکن گھر کے ایک فرد کے طور پر ہیں، گھر کو بچانے اور محفوظ رکھنے کے لیے۔ میں نے گھر بنایا ہے، میں چھوڑ کے کیوں جائوں گا۔ محترم میاں صاحب نے ہماری موجودگی میں رابطہ کرنے والوں کو نہایت سختی سے جھڑک دیا، بلکہ انہیں جماعت اسلامی سے الگ راستہ اختیار کرنے سے منع کیا۔