ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں لاء آفیسر کو ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ تعینات

107

کراچی(رپورٹ:منیر عقیل انصاری) سندھ حکومت نے اپنے مند پسند افسران کو نوازنے کیلئے اقرباء پروری کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے، ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں لاء آفیسر کو ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ تعینات کرکے انوکھا کارنامہ سر انجام دیدیا۔

پاکستان کونسل آف آرکیٹیک اینڈ ٹاؤن پلانرز کے رجسٹرار نے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں خلاف ضابطہ تعیناتی کیخلاف سیکرٹری بلدیات نجم احمد شاہ کو خط ارسال کردیا ہے،ادارے کی اہم ترین پوسٹ پر پروفیشنل پلانر تعینات کیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے اپنے لاڈلے افسران کو نوازنے کیلئے تمام قوانین کو پیرو تلے روند دیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی اہم ترین پوسٹ ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ کے عہدے پر ایک متنازعہ ترقی اور غیر متعلقہ شعبے کے افسر کو تعینات کرکے اقرباء پروری کے تمام ریکارڈ کو توڑ دیا گیا ہے۔

سیکرٹری بلدیات نجم شاہ کے حکم پر ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں 18 جون2021 ء کو ایک آرڈر کے ذریعے گریڈ19 کے آفیسرمحمد عرفان بیگ کو ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ ایم ڈی اے تعینات کیا گیا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ محمد عرفان بیگ ایم ڈی اے میں لاء آفیسر کے عہدے پر کام کررہے تھے تاہم قیمتی سرکاری زمینوں کو ٹھکانے لگانے والی لینڈ مافیا کے ساتھ سہولت کاری کے سنگین الزامات پر وزیر بلدیات کے حکم پر محمد عرفان بیگ سمیت4 افسران کو25 فروری2021ء کو معطل کردیا گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مزید دلچسپ امر یہ ہے کہ محکمہ بلدیات سندھ نے17مارچ2021ء کو ایک لیٹر کے ذریعے محمد عرفان بیگ اور ارشد خان کی گریڈ7 سے گریڈ18 تک کی جانے والی ترقیوں کا ریکارڈ طلب کرکے تحقیقات شروع کررکھی ہے جبکہ دوسری طرف مبینہ طاقتور سسٹم کی فرمائش پر متنازعہ افسر عرفان بیگ کو ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ کی پوسٹ پر تعینات کردیا گیا ہے۔

جسے ادارے کے افسران قیمتی سرکاری اراضی ہڑپ کرنے کا منصوبہ بھی قرار دے رہے ہیں،دریں اثناء محمد عرفان بیگ کی ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ کے عہدے پر تعیناتی پر پاکستان کونسل آف آرکیٹیک اینڈ ٹاؤن پلانرزکے رجسٹرار نے ایک خط سیکرٹری بلدیات نجم شاہ کو ارسال کیا ہے جس میں کونسل سے غیر رجسٹرڈ اور غیر متعلقہ شعبے کے افسر کی ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ کے عہدے پر تعیناتی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پی سی اے ٹی پیزآرڈیننس1983ء کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اہم محکمے میں کسی پروفیشل ٹاؤن پلانر کی تعیناتی کا مطالبہ کردیا ہے۔

کونسل کے رجسٹرار کی جانب سے بھیجے گئے خط کے باوجود سیکرٹری بلدیات نے تاحال خلاف ضابطہ تعیناتی کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے جس پر ادارے کے افسران کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت ہڈی کے ڈاکٹر سے آنکھوں کا علاج کرانا چاہ رہی ہے،غیر متعلقہ افسر سے ٹاؤن پلاننگ کے کام کر اکر انفراسٹرکچر کو داؤ پر لگادیا گیا ہے۔