حیدرآباد،واگزار کرائی گئی زمینوں پر مافیا دوبارہ قابض

61

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد کا شعبہ لینڈ سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں واگزار کرائی گئی کروڑوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی کو محفوظ نہیں بناسکا، بااثر قابضین نے تعلقہ سٹی کے مرکز کھوکھر محلے میں واگزار کرائی گئی اراضی کے ملبے پر 10 سے زائد آہنی کیبن نما دکانیں نصب کرکے شہریوں کو کرائے پر دے دیں۔ سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں گزشتہ سال ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں بلدیہ اینٹی انکروچمنٹ سیل کے عملے نے تعلقہ سٹی کے مرکز کھوکھر محلے میں بڑا انسداد تجاوزات آپریشن کرتے ہوئے کروڑوں روپے مالیت کی بلدیہ کی ملکیت سرکاری اراضی کو قابضین سے واگزار کرالیا تھا۔ مذکورہ اراضی کی ملکیت کا فیصلہ 2007ء میں فرسٹ سینئر سول جج حیدرآباد کی عدالت نے بلدیہ کے حق میں دیا تھا مگر 12سال تک بلدیہ شعبہ لینڈ کی ملی بھگت سے سرکاری اراضی کو واگزار نہیں کرایا جاسکا تھا، گزشتہ سال کامیاب آپریشن کے بعد بلدیہ شعبہ لینڈ نے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کے بار بار دیے گئے احکامات کے باوجود مذکورہ واگزار کرائی گئی اراضی کو تحویل میں نہیں لیا اور مشینری کی عدم فراہمی کا جواز بنا کرملبہ ہٹایا اور نہ ہی سرکاری اراضی کو تحویل میں لیا، جس کے بعد قابضین نے ایک بار پھر مسمار کی گئی تجاوزات کے ملبے اور سڑک کے وسیع حصے پر قبضہ کرکے 10 سے زائد آہنی کیبن نما دکانیں قائم کردیں، جنہیں شہریوں کو بھاری کرایوں پر دیا گیا ہے۔ علاقہ مکینوں نے ڈپٹی کمشنر فواد غفار سومرو، اسسٹنٹ کمشنر سٹی مطاہر امین وٹو اور ایڈمنسٹریٹر بلدیہ سے اپیل کی ہے کہ مسجد ودرگاہ کے اطراف مسمار تجاوزات کا ملبہ ہٹایا جائے اور واگزار کرائی گئی سرکاری اراضی کو محفوظ بنانے کے لیے دیواریں تعمیر کی جائیں تاکہ دوبارہ قبضے سے محفوظ بنایا جاسکے۔