عمران حکومت، فوج اور نواز شریف کا یوٹرن

328

فوجی قیادت اور سیاسی جماعتوں نے مل کر اس وطن کو کچرے کا ایسا ڈھیر بنادیا ہے جس سے اٹھنے والا تعفن ہر جگہ محسوس کیا جارہا ہے۔ کنٹرول میڈیا کے ذریعے غلاطت کے اس ڈھیرکی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ شاہراہیں اور ائر پورٹ گروی رکھے جارہے ہیں پھر بھی شور بپا ہے کہ حالات بہتری کی طرف مائل ہی نہیں بہتر ہوچکے ہیں، معیشت آسمانوں کی طرف مائل بہ پرواز ہے، مہنگائی اور بے روزگاری چند دن کی بات ہے، بجٹ میں پیش کردہ اہداف منزل پالیں پھر ہر طرف خوشحالی ہی خوشحالی ہوگی لیکن عملاً صورتحال یہ ہے کہ حکومت قائد حزب اختلاف کی بجٹ پر ایک تنقیدی تقریر کی بھی متحمل نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی تنک مزاجی اس جمہوری روایت کو جاری رکھنے پر تیار نہیں جس میں بجٹ پیش کیے جانے کے بعد قائد حزب اختلاف اس کا تجزیہ کرتا اور تصویر کا دوسرارخ پیش کرتا ہے۔ بجٹ پر دنوں اور ہفتوں بحث کی جاتی ہے۔ موجودہ بجٹ خوشحال طبقوں کو دی جانے رعایتوں اور مراعات کا نمائندہ بجٹ ہے۔ عمران خان اور حکومتی بنچوں کے بے پناہ اشتعال کی وجہ یہی ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ غیر متوازن بجٹ عوام سے کیے گئے ان کے وعدوں کا قبرستان ہے۔ اس حقیقت کو وہ شور اور ہلڑ بازی سے دبانا چاہتے ہیں۔ ریاستی اداروں کا بنایا ہوا بت اپنے ہی زور سے گررہا ہے۔ کرکٹ کے میدان میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والا دانشورانہ انداز میں اصولی باتیں تو کرسکتا ہے لیکن اقتدار کے ایوانوں میں اس کی عدم کارکردگی اتنی چکرا دینے والی ہے کہ جمہوریت کے بت خانے میں اب اس بت کی پزیرائی کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔
اس سسٹم میں عوامی امنگوں اور خواہشات کے لیے کہیں جائے پناہ نہیں حتیٰ کہ عدالتوں میں بھی نہیں۔ ہمارے عدالتی نظام میں کرپشن اور ظلم کی وہ سڑاند پیدا ہوگئی ہے کہ سانس لینا بھی محال ہے۔ ہماری عدالتوں میں اسٹیبلشمنٹ اور طاقتور حلقوں کے مفاد میں فیصلے ہوتے ہیں۔ اب نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ اعلیٰ عدالتوں کے جج ہی ایک دوسرے پر الزامات لگاتے اور کیچڑ اچھالتے نظر آرہے ہیں۔ یہ لڑائی صرف عدلیہ کے اندروں ہی نہیں حکمران طبقات آپس میں بھی ایک دوسرے کو ننگا کرنے میں مصروف ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد قاسم خان نے ایک کیس کے دوران ملک کا سب سے بڑا مافیا فوج کو قرار دیا اور سینئر فوجی اہلکاروں کو عدالت میں طلب کرنے کی بھی بات کی۔ عمران خان کو اقتدار میں لانے کی بدعملی نے فوج ہی کو نہیں عدلیہ کو بھی رسوا کیا ہے۔ جب جج حضرات تجاوزات کے خاتمے کا کوئی نیا آرڈر پاس کرتے ہیں تو عوام بنی گالا، اسلام آباد کے ایک کمپلیکس اور ملک ریاض کی تجاوزات کے ریگولرائز کی بات کرتے ہیں اور شدت کے ساتھ کرتے ہیں۔ اب کسی جج کا نام سن کر گردنیں ادب سے خم نہیں ہوتیں۔
عمران خان کی اپوزیشن پر چڑھائی اور انتہائی جارحانہ رویے کے باوجود شہباز شریف کی رہائی، عدالتوں کا ان کے بارے میں نرم رویہ اسٹیبلشمنٹ کی سوچ میں تبدیلی کی علامت ہے۔ کہاں تو فوج ن لیگ کو کچل دینے کے درپے تھی، پوری قیادت ہی حوالہ زندان تھی اور کہاں اب یہ مہربانیاں۔ فوج نے ن لیگ کے بارے میں یوٹرن لیا ہے۔ شہباز شریف کی صورت اسٹیبلشمنٹ اپنے لیے ایک متبادل تراش رہی ہے۔ لیکن اس متبادل کے بارے میں وہ مکمل طور پر بااعتماد اور پر یقین نہیں ہے۔ اسی لیے دونوں طرف آگ لگتی بجھتی نظر آتی ہے۔ اس آگ میں ابھی تک وہ حدت اور شدت پیدا نہیں ہوئی جو اس ہائبرڈ سسٹم کو خاکستر کرکے رکھ دے۔ شہباز شریف کے اصرار پر نواز شریف نے بھی اپنے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے سے یوٹرن لیا ہے۔ کہاں فوجی قیادت کا نام لے لے کر تلخ باتیں اور کہاں اب یہ خاموشی۔ شہباز شریف فوج کی عمران خان تک محدودیت کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اس بیانیے کو کہ فوج کے پاس عمران خان کے سوا کوئی متبادل نہیں ہے شہباز شریف ختم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ خود کو متبادل کی صورت میں پیش کررہے ہیں۔ شہباز شریف یقینا عمران خان سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ وہ ایک بہترین منتظم ہیں۔
امریکا خطے سے نکل رہا ہے۔ افغانستان کی صورتحال تبدیل ہورہی ہے۔ کوئی کچھ بھی کرلے افغانستان کا مستقبل طالبان ہیں۔ ایسے وقت میں حکومت کے سنگھاسن پر ایک ایسے وزیراعظم کی موجودگی ضروری ہے جو تمام فریقین کے لیے قابل قبول ہو۔ عمران خان کی امریکا کے نزدیک وقعت یہ ہے کہ صدر جو بائیڈن ان کی فون کال سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔ سعودیوں کو جنرل باجوہ تیار کرتے ہیں تب وہ عمران خان کے استقبال کے لیے تیار ہوتے ہیں پھر افواج پاکستان بھارت سے بھی معمول کے تعلقات بحال کرنا چاہتی ہیں تاکہ مکمل توجہ مغربی باڈر پر مرکوز سکیں۔۔ ایسے میں افواج پاکستان کو وزیراعظم کے عہدے پر ایک قابل قبول شخصیت کی ضرورت ہے۔ ان حوالوں سے شہباز شریف بہرحال عمران خان سے بہتر انتخاب ہوسکتے ہیں۔
نواز شریف نے شہباز شریف کوان کے اسٹیبلشمنٹ حامی بیانیہ پر جو مہلت دی ہے یہ مہلت ان کے ووٹ کو عزت دو کے بیانیے سے یوٹرن کے مترادف ہے لیکن یہ مکمل چھوٹ نہیں ہے۔ اس لیے شہباز شریف کے اے پی سی کے انعقاد کی کوششوں کو نواز شریف اور مریم نواز کی طرف سے کچھ زیادہ پزیرائی نہیں مل رہی ہے۔ مولانافضل الرحمن نے بھی اس ماہ کی چوبیس تاریخ کو ہونے والے اے پی سی کے اجلاس میں شرکت کرنے سے انکار کردیا ہے۔ وہ شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے اکٹھ پر تحفظات رکھتے ہیں۔ اگلے مہینوں میں پی ڈی ایم کو بھی متحرک کیا جارہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے نکل جانے سے پی ڈی ایم کو جوہری طور پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ پی ڈی ایم میں عوام مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن کو سننے کے لیے آتے ہیں۔ بد قسمتی سے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ عوام میں بھی پزیرائی حاصل کررہا ہے۔ نواز شریف ہوں، مریم ہوں یا مولانا جب اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جارحانہ بات کرتے ہیں تو عوام کا جوش خروش بھی دیدنی ہوتا ہے۔ یہ ایک افسوس ناک صورتحال ہے لیکن بہرحال حقیقت ہے۔
پارلیمنٹ میں عددی اکثریت کے حوالے سے دیکھا جائے تو عمران خان کی حکومت ہوا کے دوش پر رکھا ہوا چراغ ہے۔ اگر جہانگیر ترین کے فارورڈ بلاک کو بھی متحرک کردیا جائے تو یہ حکومت ڈھیر ہوسکتی ہے۔ بجٹ کی منظوری ہی اس حکومت کے لیے پہاڑ جیسا مسئلہ بن سکتی ہے لیکن عمران خان مطمئن ہیں۔ جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کے موقع پر بھی اپوزیشن کے تعاون کی اشد ضرورت کے باوجود ان کارویہ جارحانہ تھا۔ انہوں نے اپوزیشن کی طرف تعاون کا ایک قدم آگے نہیں بڑھایا۔ بجٹ کی منظوری کے معاملے میں بھی انہیں اپوزیشن کے تعاون کی اس سے بڑھ کر ضرورت ہے لیکن شہباز شریف کی تقریر کے موقع پر حکومتی اراکین نے جو کچھ کیا وہ عمران خان کے ماضی کے اعتماد ہی کا ایکشن ری پلے ہے۔ جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن تھی یا حالیہ دنوں میں بجٹ کی منظوری وہ جانتے ہیں کہ بجٹ فوج کی ضرورت ہے اور فوج ہی اس کے پاس ہونے کا بندوبست کرے گی۔
عمران خان کی صورت فوج دو بڑی سیاسی جماعتوں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا خاتمہ چا ہتی تھی۔ نواز شریف بھی اپنے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کی انتہا پر چلے گئے تھے۔ لیکن آج فریقین اپنے اپنے بیانیے سے رجوع کررہے ہیں۔ عمران خان حکومت کی خوفناک حدتک عدم کارکردگی نے فوج کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ دوسرے نواز شریف کو بھی احساس دلایا جارہا ہے کہ حضور اسٹیبلشمنٹ سے راہ ورسم کی صورت ہی کوئی راہ نکل سکتی ہے۔ آج 23جون خبر ہے کہ ’’نوزشریف اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات پر رضا مند۔ شہباز اور مولانا کو اختیار دے دیا‘‘۔ آنے والی تبدیلی یا کسی بھی تبدیلی میں عوام کے لیے کچھ نہیں۔ ان کی کمر مہنگائی سے یوں ہی ٹوٹتی رہے گی، بے روزگاری ان کے گھر کی دیواروں پر یوں ہی بال کھولے سوتی رہے گی۔ عوام اس نظام کے تحت بننے والی ہر حکومت سے شدید متنفر ہیں۔ حکمرانوں کے دعووں پر اب انھیں قطعاً اعتماد نہیں رہا۔