خیالات کا جریان

168

لاہور عدلیہ نے محکمہ اوقاف کو حکم جاری کیا ہے کہ مزارات پر آنے والے زائرین سے جوتیوں، پارکنگ اور بیت الخلا استعمال کرنے پر کوئی پیسہ وصول نہ کیا جائے۔ کیونکہ ایسی تمام سہولتیں عوام کا حق ہیں۔ کسی کے حق پر ڈاکا زنی قابل تعزیز عمل ہے جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایسا فرمان ہے جس سے انکار جوتے کھانے کے مترادف ہوگا اور عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کردے گا کہ واقعی تبدیلی آگئی ہے۔ کیونکہ اصل تبدیلی عدلیہ کی کارکردگی اور فرض شناسی سے مشروط ہوتی ہے۔ مگر بد نصیبی یہی ہے کہ ہمارے ادارے اور صاحب ِ اقتدار افراد جو کہتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے نتیجتاً ان کا فرمان خیالات کا جریان بن جاتا ہے۔ حکومت اور صاحب ِ اقتدار لوگوں کے بیانات سن کر تو کبھی کبھی یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ ان افراد کی نزدیک کی نظر بہت کمزور ہے۔ اور یہ لوگ اپنے اطراف میں ہونے والے قابل تعزیز کاموں اور کارکردگی سے بہتر ہیں۔ کسی دل جلے کا کہنا ہے کہ ان افراد کو یکم تاریخ کے سوا کسی اور بات کا علم ہی نہیں ہوتا۔ ویسے ان کی عقاب نظری کو یکسر نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔ دیکھنا چاہیں تو پانی بھی آئینے کی عکاسی کرنے لگتا ہے۔ عدلیہ سے پوچھنے کی جسارت کی جاسکتی ہے کہ جسارت پر تو کوئی پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ ویسے حسن یار کا کائی بھروسا نہیں کب کیا کر بیٹھے۔ سو عدلیہ کے متحرک ہونے سے قبل ہم خاموشی کے بکل جانے میں ہی ہم عافیت سمجھتے ہیں۔ صرف اتنا ہی کہنا چاہیں گے کہ عدلتوں میں بیت الخلا جانے اور پارکنگ کے جو پیسے وصول کیے جاتے ہیں اس کا کیا جواز ہے۔
عالمی قیادت نے درست فرمایا ہے کہ ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرنا چاہیے تاکہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے۔ مگر یہ ایک ایسا مشکل کام ہے جسے سر انجام دینا ممکنات کے دائرے میں نہیں آتا۔
لاہور کی عدالتوں کا ہمیں علم نہیں البتہ بہاولپور کی عدالتوں کے بارے میں بتا سکتے ہیں کہ یہاں آنے والے سائلین کے بیٹھنے کا بھی کوئی اہتمام کیا جاتا اور نہ ہی اس بارے میں سوچنے کی کوئی زحمت گوارا نہیں کرتا۔ حالانکہ چھولے چاول کی ریڑھی لگانے والے بھی اپنے سائلین کے بیٹھنے کے لیے بینچوں کا بندوبست کرتا ہے۔ بیت الخلا میں جانا تو بڑی بات ہے یہاں جھانکے پر بھی دس روپے کا ٹیکس دیا جاتا ہے۔ پارکنگ کے لیے بھی پیسے وصول کیے جاتے ہیں۔ سائیکل کھڑی کرنے کے دس روپے وصول کیے جاتے ہیں اور ستم بالا ستم یہ کہ رسید بھی نہیں دی جاتی۔ سوچنے کی بات تو یہ کہ سائیکل اگر چوری ہوجائے تو پارکنگ والوں کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کیونکہ رسید تو دیتے ہی نہیں جو سائیکل چوری ہونے کا ثبوت بن سکے اور یہ سارا ڈراما بہاولپور ہائی کورٹ میں بھی ہوتا ہے اس سے زیادہ شرم کی بات یہ ہے کہ بہاولپور ہائی کورٹ میں بیت الخلا ہے ہی نہیں۔
ایک بار ہم نے بیت الخلا جانے کی کوشش کی تو چوکیدار نے دور ہی سے بھاگ جانے کا اشارہ کیا مگر ہمیں روکنا اس کے بس کی بات نہیں تھی سو ہم تو بیت الخلا چلے گئے مگر دیگر سائلین کیا کرتے ہوں گے یہ سوچنا بہاولپور کے صاحب اختیار لوگوں کا کام ہے غالباً یہاں سوچنا شجر ممنوع ہے۔ اسی لیے ایک جسٹس کے سامنے سو ڈیڑھ سو فائلیں رکھ دی جاتی ہیں اور وہ سائلین پر لیفٹ کے ہتھوڑے برساتا رہتا ہے اور لیفٹ ہونے والے مقدمات ہائی کورٹ کے اندھے کنویں میں پھینک دیے جاتے ہیں۔ پیشی کا کہا جائے تو کہتے ہیں جسٹس صاحب کا کہنا ہے کہ جو پیشیاں انہوں نے اپنے دست مبارک سے لگائی ہیں صرف وہی پیش کی جائیں جسٹس صاحبان لیفٹ کا ہتھوڑا برسا کر سائلین کی پیشی کے لیے منت سماجت اور دیگر ذرائع کی تلاش میں بھٹکنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جسٹس صاحبان اتنے نااہل کیسے ہوسکتے ہیں کہ سائلین کو دیدہ دانستہ عدالتوں کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کردیں۔ اور جہاں تک سائلین کا تعلق ہے تو اتنا ہی کہا جاسکتا ہے۔
ہم نوائی کی امید اے مرے فن کس سے کروں
ہو سخن سنج نہ کوئی تو سخن کس سے کروں